ایران-اسرائیل تصادم کی تباہ کن گونج

اسرائیل کی جانب سے ایران پر بغیر کسی جواز کے جارحیت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو 1973ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد کے سب سے بڑے علاقائی بحران میں دھکیل چکی ہے بلکہ خود اسرائیل کو ایک بےمثال سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے 13 جون کو ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے اور اس کے اعلیٰ جرنیلوں و سائنسدانوں کو قتل کر کے یہ سمجھا کہ شاید وہ تہران کو مفلوج کر دیں گے جیسا کہ 1967ء میں اسرائیل نے چھ روزہ جنگ کے دوران مصری فضائیہ کو زمین بوس کیا تھا مگر بادی النظر میں وہ شدید غلطی کے مرتکب ہوئے۔
ایران نے نہایت سرعت اور قوت کے ساتھ ردعمل دیا۔ پیر کی صبح تک ایران کی جانب سے 370 سے زائد بیلسٹک میزائل اسرائیلی شہروں پر داغے جا چکے تھے، جنہوں نے حیفہ کی ایک آئل ریفائنری، تل ابیب کے قریب رہوووت میں واقع ایک اعلیٰ تحقیقی ادارہ اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اب تک کم از کم 24 اسرائیلی ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل نے ایران میں فضائی برتری حاصل کر لی ہے، تاہم وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے، کیونکہ یہ پروگرام ملک بھر میں منتشر اور زیرِ زمین محفوظ مقامات پر موجود ہے۔ اسرائیل کی پے در پے کوشش ہے کہ ایران کی فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کو ختم کر کے حکومت کو کمزور کرے۔ نیتن یاہو نے اتوار کو یہاں تک کہہ دیا کہ اس حملے کا ایک ممکنہ نتیجہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ہو سکتا ہے۔
مگر ہر بار جب اسرائیل حملہ کرتا ہے، تہران درجنوں میزائلوں سے اس کا جواب دیتا ہے۔ یوں اسرائیل، کشیدگی پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران جارحانہ دفاع سے اپنی طاقتور مزاحمت کا پیغام دے رہا ہے۔ یہ خطرناک رسہ کشی ایک ایسے تصادم میں بدل چکی ہے جو کسی بھی وقت خطے کو مکمل جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے تصادم کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے، ورنہ یہ خطہ مزید خونریزی، تباہی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا جس کا نقصان صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہے گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

ایران-اسرائیل تصادم کی تباہ کن گونج

اسرائیل کی جانب سے ایران پر بغیر کسی جواز کے جارحیت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو 1973ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد کے سب سے بڑے علاقائی بحران میں دھکیل چکی ہے بلکہ خود اسرائیل کو ایک بےمثال سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے 13 جون کو ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے اور اس کے اعلیٰ جرنیلوں و سائنسدانوں کو قتل کر کے یہ سمجھا کہ شاید وہ تہران کو مفلوج کر دیں گے جیسا کہ 1967ء میں اسرائیل نے چھ روزہ جنگ کے دوران مصری فضائیہ کو زمین بوس کیا تھا مگر بادی النظر میں وہ شدید غلطی کے مرتکب ہوئے۔
ایران نے نہایت سرعت اور قوت کے ساتھ ردعمل دیا۔ پیر کی صبح تک ایران کی جانب سے 370 سے زائد بیلسٹک میزائل اسرائیلی شہروں پر داغے جا چکے تھے، جنہوں نے حیفہ کی ایک آئل ریفائنری، تل ابیب کے قریب رہوووت میں واقع ایک اعلیٰ تحقیقی ادارہ اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اب تک کم از کم 24 اسرائیلی ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل نے ایران میں فضائی برتری حاصل کر لی ہے، تاہم وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے، کیونکہ یہ پروگرام ملک بھر میں منتشر اور زیرِ زمین محفوظ مقامات پر موجود ہے۔ اسرائیل کی پے در پے کوشش ہے کہ ایران کی فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کو ختم کر کے حکومت کو کمزور کرے۔ نیتن یاہو نے اتوار کو یہاں تک کہہ دیا کہ اس حملے کا ایک ممکنہ نتیجہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ہو سکتا ہے۔
مگر ہر بار جب اسرائیل حملہ کرتا ہے، تہران درجنوں میزائلوں سے اس کا جواب دیتا ہے۔ یوں اسرائیل، کشیدگی پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران جارحانہ دفاع سے اپنی طاقتور مزاحمت کا پیغام دے رہا ہے۔ یہ خطرناک رسہ کشی ایک ایسے تصادم میں بدل چکی ہے جو کسی بھی وقت خطے کو مکمل جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے تصادم کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے، ورنہ یہ خطہ مزید خونریزی، تباہی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا جس کا نقصان صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہے گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں