شاہِ ہمدانؒ کا پیغام ہے خالص توحید

 

خان سحرش
سرینگر، کشمیر

ہر سال ماہِ ذی الحجہ کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منایا جاتا ہے۔ لوگ عقیدت و محبت کے جذبات کے ساتھ خانقاہ معلیٰ پر جمع ہوتے ہیں۔شاہ ہمدان ایک ایسی انقلابی روحانی تحریک کے بانی تھے جس نے کشمیر کو تاریکی سے نکال کر روشنی دی۔
حضرت میر سید علی ہمدانیؒ، جنہیں شاہِ ہمدان، امیر کبیر، اور بانی اسلام کشمیر کے ناموں سے جانا جاتا ہے، چودہویں صدی کے معروف صوفی بزرگ تھے۔ آپ کا تعلق ایران کے شہر ہمدان سے تھا۔ آپ ایک عالم، مبلغ، صوفی، شاعر، تاجر، اور سیاسی بصیرت کے حامل انسان تھے۔ آپ نے نہ صرف کشمیر بلکہ وسطی ایشیا، چین، افغانستان اور ہند کے مختلف علاقوں میں دین اسلام کی اشاعت کی۔
حضرت شاہِ ہمدانؒ نے کشمیر میں اُس وقت قدم رکھا جب یہاں بدھ مت اور ہندومت کا غلبہ تھا۔ آپ کی دعوتِ حق، حسنِ اخلاق، نرم گفتاری، اور دلوں کو چھو لینے والی شخصیت نے ہزاروں کشمیریوں کے دل جیت لیے۔
شاہِ ہمدانؒ کی تعلیمات کی بنیاد توحید، سنت رسول ﷺ، اور قرآن پر عمل کرنے پر تھی۔ ان کے خطوط اور کتابیں جیسے "ذخیرۃ الملوک”، "رسالۃ الطغرائیہ”، "تحفۃ السلوک”، اور "دعوات سبعہ” آج بھی موجود ہیں، جن میں انہوں نے اسلامی عقائد، معاملات، سیاست، معیشت، عبادات، اور اخلاقیات پر روشنی ڈالی ہے۔
آپ نے کشمیر میں سب سے پہلے قرآن و سنت کی روشنی میں نظامِ زندگی قائم کرنے کی کوشش کی۔ آپ کی تبلیغ سے ہزاروں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو "بانی اسلام کشمیر” کہا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے آج وہی وادی کشمیر جہاں شاہِ ہمدانؒ نے توحید کا چراغ جلایا، وہاں انہی کے نام پر شرک اور بدعات نے سر نکالا ہے۔خانقاہ معلیٰ جو کبھی تزکیہ نفس، تعلیم، اور ہدایت کا مرکز تھا، آج نذر و نیاز، منتیں، تبرکات، اور کاروبار کا اڈہ بن چکا ہے۔
قرآنِ مجید میں واضح الفاظ میں ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين
"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔” (سورۃ الفاتحہ)
شاہ ہمدان ؒ کا پیغام توحیدہے، اللہ کی عبادت ، سنت پرپیرا ہونا ہے، دنیا سے دل لگانے سے اجتناب کرنا ہے ۔ مگر آج ہم کیا کر رہے ہیں؟ نہ تو قرآن سے رشتہ رہا، نہ سنت کا احترام، بس مادی دنیا میں شاہِ ہمدانؒ کے نام پر دوکانیں سج گئی ہیں۔
موجودہ دور میں جو لوگ آستان چلاتے ہیں، انہوں نے اسے باقاعدہ ایک کاروبار بنا لیا ہے لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دعا کے لیے بھی "نیاز” ضروری سمجھی جاتی ہے۔ کیا شاہِ ہمدانؒ نے اسی مقصد کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا، ہجرت کی، تکالیف اٹھائیں؟
جن لوگوں نے اسلام کو مشن بنایا، ہم نے ان کے مزار کو کمائی کا ذریعہ بنا دیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو خود اللہ کے ولی تھے، آج ان کے نام پر لوگوں کو اللہ سے ہٹاکر ان ہی کی قبروں کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
شاہِ ہمدانؒ کا مشن صرف مذہبی عبادات تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کشمیر میں نہ صرف مساجد بنوائیں بلکہ مدارس، حمام، بازار، کاریگر، اور اسلامی اقتصادی نظام کی بنیاد رکھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر یہاں نافذ ہو۔
آج بھی اگر ہم ان کی کتاب "ذخیرۃ الملوک” پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکمرانوں کو عدل، صداقت اور شریعت کے نفاذ کی تاکید کرتے تھے۔ ان کا پیغام بہت واضح تھا: "اسلام کو صرف زبان یا لباس تک محدود نہ رکھو، بلکہ نظامِ زندگی میں نافذ کرو۔”
ہمیں اب جاگنا ہوگا۔ صرف مزار پر جانا اور چند رسومات ادا کرنا شاہِ ہمدانؒ کی خوشنودی کا ذریعہ نہیں۔ اگر ہم واقعی ان سے محبت رکھتے ہیں تو ان کے نقش قدم پر چلیں۔ قرآن کو زندگی کا مرکز بنائیں، سنت کو اپنائیں، شرک اور بدعات سے بچیں، اور اسلام کے جامع نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
شاہِ ہمدانؒ کی دعوت کا مرکز قرآن تھا۔ آج ہماری اصلاح بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن کی طرف لوٹیں گے۔ مساجد آباد کریں، بچوں کو قرآن سکھائیں، اپنے گھروں میں دینی ماحول قائم کریں۔ یہ بات سمجھیں کہ ولی اللہ کی تعظیم، ان کی تعلیمات پر عمل سے ہوتی ہے، نہ کہ قبروں کے گرد چکر لگانے سے۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم سچائی کا سامنا کریں، شرک و بدعت سے توبہ کریں، اور شاہِ ہمدانؒ کے اصل پیغام کو اپنائیں۔ صرف اسی صورت میں ہم ان کے عرس کو واقعی "یاد” کا دن بنا سکتے ہیں، ورنہ یہ سب صرف رسومات ہوں گی، اور روزِ قیامت شاید ہم ان کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

شاہِ ہمدانؒ کا پیغام ہے خالص توحید

 

خان سحرش
سرینگر، کشمیر

ہر سال ماہِ ذی الحجہ کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منایا جاتا ہے۔ لوگ عقیدت و محبت کے جذبات کے ساتھ خانقاہ معلیٰ پر جمع ہوتے ہیں۔شاہ ہمدان ایک ایسی انقلابی روحانی تحریک کے بانی تھے جس نے کشمیر کو تاریکی سے نکال کر روشنی دی۔
حضرت میر سید علی ہمدانیؒ، جنہیں شاہِ ہمدان، امیر کبیر، اور بانی اسلام کشمیر کے ناموں سے جانا جاتا ہے، چودہویں صدی کے معروف صوفی بزرگ تھے۔ آپ کا تعلق ایران کے شہر ہمدان سے تھا۔ آپ ایک عالم، مبلغ، صوفی، شاعر، تاجر، اور سیاسی بصیرت کے حامل انسان تھے۔ آپ نے نہ صرف کشمیر بلکہ وسطی ایشیا، چین، افغانستان اور ہند کے مختلف علاقوں میں دین اسلام کی اشاعت کی۔
حضرت شاہِ ہمدانؒ نے کشمیر میں اُس وقت قدم رکھا جب یہاں بدھ مت اور ہندومت کا غلبہ تھا۔ آپ کی دعوتِ حق، حسنِ اخلاق، نرم گفتاری، اور دلوں کو چھو لینے والی شخصیت نے ہزاروں کشمیریوں کے دل جیت لیے۔
شاہِ ہمدانؒ کی تعلیمات کی بنیاد توحید، سنت رسول ﷺ، اور قرآن پر عمل کرنے پر تھی۔ ان کے خطوط اور کتابیں جیسے "ذخیرۃ الملوک”، "رسالۃ الطغرائیہ”، "تحفۃ السلوک”، اور "دعوات سبعہ” آج بھی موجود ہیں، جن میں انہوں نے اسلامی عقائد، معاملات، سیاست، معیشت، عبادات، اور اخلاقیات پر روشنی ڈالی ہے۔
آپ نے کشمیر میں سب سے پہلے قرآن و سنت کی روشنی میں نظامِ زندگی قائم کرنے کی کوشش کی۔ آپ کی تبلیغ سے ہزاروں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو "بانی اسلام کشمیر” کہا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے آج وہی وادی کشمیر جہاں شاہِ ہمدانؒ نے توحید کا چراغ جلایا، وہاں انہی کے نام پر شرک اور بدعات نے سر نکالا ہے۔خانقاہ معلیٰ جو کبھی تزکیہ نفس، تعلیم، اور ہدایت کا مرکز تھا، آج نذر و نیاز، منتیں، تبرکات، اور کاروبار کا اڈہ بن چکا ہے۔
قرآنِ مجید میں واضح الفاظ میں ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين
"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔” (سورۃ الفاتحہ)
شاہ ہمدان ؒ کا پیغام توحیدہے، اللہ کی عبادت ، سنت پرپیرا ہونا ہے، دنیا سے دل لگانے سے اجتناب کرنا ہے ۔ مگر آج ہم کیا کر رہے ہیں؟ نہ تو قرآن سے رشتہ رہا، نہ سنت کا احترام، بس مادی دنیا میں شاہِ ہمدانؒ کے نام پر دوکانیں سج گئی ہیں۔
موجودہ دور میں جو لوگ آستان چلاتے ہیں، انہوں نے اسے باقاعدہ ایک کاروبار بنا لیا ہے لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دعا کے لیے بھی "نیاز” ضروری سمجھی جاتی ہے۔ کیا شاہِ ہمدانؒ نے اسی مقصد کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا، ہجرت کی، تکالیف اٹھائیں؟
جن لوگوں نے اسلام کو مشن بنایا، ہم نے ان کے مزار کو کمائی کا ذریعہ بنا دیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو خود اللہ کے ولی تھے، آج ان کے نام پر لوگوں کو اللہ سے ہٹاکر ان ہی کی قبروں کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
شاہِ ہمدانؒ کا مشن صرف مذہبی عبادات تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کشمیر میں نہ صرف مساجد بنوائیں بلکہ مدارس، حمام، بازار، کاریگر، اور اسلامی اقتصادی نظام کی بنیاد رکھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر یہاں نافذ ہو۔
آج بھی اگر ہم ان کی کتاب "ذخیرۃ الملوک” پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکمرانوں کو عدل، صداقت اور شریعت کے نفاذ کی تاکید کرتے تھے۔ ان کا پیغام بہت واضح تھا: "اسلام کو صرف زبان یا لباس تک محدود نہ رکھو، بلکہ نظامِ زندگی میں نافذ کرو۔”
ہمیں اب جاگنا ہوگا۔ صرف مزار پر جانا اور چند رسومات ادا کرنا شاہِ ہمدانؒ کی خوشنودی کا ذریعہ نہیں۔ اگر ہم واقعی ان سے محبت رکھتے ہیں تو ان کے نقش قدم پر چلیں۔ قرآن کو زندگی کا مرکز بنائیں، سنت کو اپنائیں، شرک اور بدعات سے بچیں، اور اسلام کے جامع نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
شاہِ ہمدانؒ کی دعوت کا مرکز قرآن تھا۔ آج ہماری اصلاح بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن کی طرف لوٹیں گے۔ مساجد آباد کریں، بچوں کو قرآن سکھائیں، اپنے گھروں میں دینی ماحول قائم کریں۔ یہ بات سمجھیں کہ ولی اللہ کی تعظیم، ان کی تعلیمات پر عمل سے ہوتی ہے، نہ کہ قبروں کے گرد چکر لگانے سے۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم سچائی کا سامنا کریں، شرک و بدعت سے توبہ کریں، اور شاہِ ہمدانؒ کے اصل پیغام کو اپنائیں۔ صرف اسی صورت میں ہم ان کے عرس کو واقعی "یاد” کا دن بنا سکتے ہیں، ورنہ یہ سب صرف رسومات ہوں گی، اور روزِ قیامت شاید ہم ان کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں