میلا کھیربھوانی: کشمیری پنڈتوں کی روحانی روشنی اور ثقافتی جشن


محمد عمر بٹ

سرینگر جنگ 

میلا کھیربھوانی کشمیری پنڈتوں کا ایک قدیم اور مقدس تہوار ہے جو ہر سال جیٹھ مہینے کی آٹھویں تاریخ کو تولہ ملا گاندربل میں واقع کھیربھوانی مندر پر منایا جاتا ہے۔ سال 2025 میں یہ میلہ 3 جون کو منایا جائے گا، جس میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کریں گے۔
یہ میلہ دیوی راگنیا (کھیربھوانی) کی عظیم بندگی اور ان کی روحانی برکتوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کھیربھوانی مندر قدرتی چشمے کے گرد قائم ہے جس کا پانی رنگ بدلنے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس پانی کے رنگ کو کشمیری پنڈتوں کے لیے پیشگوئی سمجھا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں خوشحالی یا کسی ناگہانی واقعے کی کیا صورت ہو گی۔ یہ رنگ سفید، سرخ، یا کالا بھی ہو سکتا ہے، اور اس رنگ کی تبدیلی پورے علاقے میں عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔
میلا کھیربھوانی نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہے بلکہ کشمیری پنڈتوں کی ثقافت، اتحاد، اور صبر کی علامت بھی ہے۔ کشمیری پنڈتوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں جبر و تشدد اور جلاوطنی کے باوجود اس میلے کو منانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جو ان کے اپنے تہذیبی ورثے اور مذہبی شناخت سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
یہ میلہ کشمیری پنڈتوں کے لیے ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے آبا و اجداد کی روحانی تعلیمات اور عقائد کو زندہ رکھیں اور اپنی کمیونٹی کو متحد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ میلہ کشمیری ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ روایتی موسیقی، نعت خوانی، اور دستکاری کے مظاہرے بھی کرتے ہیں۔
میلے کے دوران دیوی کو کھیر پیش کی جاتی ہے، جو عقیدت و محبت کی علامت ہے۔ کھیر کی یہ روایت کھیربھوانی کے نام سے مشہور ہے اور اسی کی وجہ سے مندر اور میلے کو یہ نام ملا ہے۔ کھیر کا یہ نذرانہ دیوی کی خوشنودی اور حفاظت کی دعا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
میلا کھیربھوانی کشمیری ہندو برادری میں روحانی تازگی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔ یہ تقریب نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑنے اور مذہبی تعلیمات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس میلے کی بدولت کشمیری پنڈت اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے امن، بھائی چارے، اور محبت کا پیغام دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں، میلہ ایک سماجی اجتماع بھی ہے جہاں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ ملتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے ہیں اور اپنے روایتی ثقافتی ورثے کو آگے بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔
سال 2025 میں میلا کھیربھوانی 3 جون کو منایا جائے گا، جو کہ جیٹھ آٹھمے کے مطابق ہے۔ اس موقع پر توقع کی جاتی ہے کہ ملک بھر سے ہزاروں کشمیری پنڈت اور عقیدت مند اس روحانی جشن میں شرکت کریں گے۔ حکومت اور مختلف ادارے بھی اس میلے کی حفاظت اور بہتر انتظامات کے لیے کوشاں رہیں گے تاکہ یہ تہوار پرامن اور شاندار انداز میں منایا جا سکے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

میلا کھیربھوانی: کشمیری پنڈتوں کی روحانی روشنی اور ثقافتی جشن


محمد عمر بٹ

سرینگر جنگ 

میلا کھیربھوانی کشمیری پنڈتوں کا ایک قدیم اور مقدس تہوار ہے جو ہر سال جیٹھ مہینے کی آٹھویں تاریخ کو تولہ ملا گاندربل میں واقع کھیربھوانی مندر پر منایا جاتا ہے۔ سال 2025 میں یہ میلہ 3 جون کو منایا جائے گا، جس میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کریں گے۔
یہ میلہ دیوی راگنیا (کھیربھوانی) کی عظیم بندگی اور ان کی روحانی برکتوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کھیربھوانی مندر قدرتی چشمے کے گرد قائم ہے جس کا پانی رنگ بدلنے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس پانی کے رنگ کو کشمیری پنڈتوں کے لیے پیشگوئی سمجھا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں خوشحالی یا کسی ناگہانی واقعے کی کیا صورت ہو گی۔ یہ رنگ سفید، سرخ، یا کالا بھی ہو سکتا ہے، اور اس رنگ کی تبدیلی پورے علاقے میں عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔
میلا کھیربھوانی نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہے بلکہ کشمیری پنڈتوں کی ثقافت، اتحاد، اور صبر کی علامت بھی ہے۔ کشمیری پنڈتوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں جبر و تشدد اور جلاوطنی کے باوجود اس میلے کو منانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جو ان کے اپنے تہذیبی ورثے اور مذہبی شناخت سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔
یہ میلہ کشمیری پنڈتوں کے لیے ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے آبا و اجداد کی روحانی تعلیمات اور عقائد کو زندہ رکھیں اور اپنی کمیونٹی کو متحد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ میلہ کشمیری ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ روایتی موسیقی، نعت خوانی، اور دستکاری کے مظاہرے بھی کرتے ہیں۔
میلے کے دوران دیوی کو کھیر پیش کی جاتی ہے، جو عقیدت و محبت کی علامت ہے۔ کھیر کی یہ روایت کھیربھوانی کے نام سے مشہور ہے اور اسی کی وجہ سے مندر اور میلے کو یہ نام ملا ہے۔ کھیر کا یہ نذرانہ دیوی کی خوشنودی اور حفاظت کی دعا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
میلا کھیربھوانی کشمیری ہندو برادری میں روحانی تازگی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔ یہ تقریب نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑنے اور مذہبی تعلیمات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس میلے کی بدولت کشمیری پنڈت اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے امن، بھائی چارے، اور محبت کا پیغام دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں، میلہ ایک سماجی اجتماع بھی ہے جہاں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ ملتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے ہیں اور اپنے روایتی ثقافتی ورثے کو آگے بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔
سال 2025 میں میلا کھیربھوانی 3 جون کو منایا جائے گا، جو کہ جیٹھ آٹھمے کے مطابق ہے۔ اس موقع پر توقع کی جاتی ہے کہ ملک بھر سے ہزاروں کشمیری پنڈت اور عقیدت مند اس روحانی جشن میں شرکت کریں گے۔ حکومت اور مختلف ادارے بھی اس میلے کی حفاظت اور بہتر انتظامات کے لیے کوشاں رہیں گے تاکہ یہ تہوار پرامن اور شاندار انداز میں منایا جا سکے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں