عمر فاروق حسامی
اسلامی سال کے آخری مہینے ذو الحجہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں حج جیسی عظیم عبادت انجام دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس مہینے کا نام "ذو الحجہ” پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں توفیق عطا کی، وہ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں اور عبادات میں مصروف ہیں۔
اس مہینے کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ مسلمانوں کی دوسری بڑی عید، عیدالاضحیٰ، اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو منائی جاتی ہے، اور صاحب استطاعت مسلمان قربانی پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ قربانی ایک عظیم عبادت ہے، لیکن صرف اسی کو عبادت سمجھ لینا درست نہیں؛ کیونکہ ذو الحجہ کا پہلا عشرہ دیگر بہت سی فضیلتوں کا حامل ہے۔
اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کی بڑی اہمیت ہے، ان دنوں میں روزہ، تہجد، اور ذکر و تسبیح کا اجر عام دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ تکبیرِ تشریق کی ابتدا بھی انہی دنوں میں ہوتی ہے، اور یومِ عرفہ بھی اسی عشرے میں آتا ہے، جو اپنی جگہ بےحد فضیلت رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں کی قدر کریں اور انہیں نیکیوں سے بھر لیں تاکہ ابدی اجر حاصل کیا جا سکے۔
ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت
زمانۂ جاہلیت میں بھی بعض مہینے محترم سمجھے جاتے تھے، جن میں قتل و قتال ممنوع تھا، ذو الحجہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ تاہم جاہلیت کے لوگ ان مہینوں کی ترتیب میں رد و بدل کر لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت فرمائی اور سورۂ توبہ (آیت 36) میں مہینوں کی اصل تعداد اور حرمت کو بیان کیا:
"بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے… ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔”
نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ان چار مہینوں کی وضاحت کی: ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم، اور رجب۔
حضرت مفتی شفیع عثمانیؒ نے فرمایا کہ ان مہینوں کو حرمت والا دو اعتبار سے کہا گیا:
1. ان میں قتال حرام تھا (جو بعد میں منسوخ ہو گیا)
2. یہ مہینے متبرک ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ہے — اور یہ حکم باقی ہے۔ (معارف القرآن 4/372)
عشرۂ ذی الحجہ کی عبادات
ذو الحجہ کا پہلا عشرہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے:
"وَلَیَالٍ عَشْرٍ” (الفجر: 2)
مفسرین جیسے ابن عباسؓ، قتادہ، مجاہد وغیرہ کے نزدیک ان سے مراد ذو الحجہ کی ابتدائی راتیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ان دس دنوں میں نیک عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ…” (ترمذی: 757)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
"ان دس دنوں میں ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزے کے برابر ہے، اور ایک رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔” (ترمذی: 758)
لہٰذا ان دنوں میں روزہ، تہجد، تلاوت، ذکر اور استغفار جیسے اعمال سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یومِ عرفہ کی فضیلت
ذو الحجہ کی 9 تاریخ کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ اس دن حجاج میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اور یہ دن دین کی تکمیل کا دن بھی ہے۔
حضرت عمرؓ نے ایک یہودی کے سوال پر فرمایا کہ یہ آیت:
"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ…”
عرفات کے میدان میں، جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ (بخاری: 45)
نبی ﷺ نے فرمایا:
"یومِ عرفہ کے روزے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کی امید ہے۔” (ترمذی: 749)
اگر کوئی پورے عشرے میں عبادت نہ کر سکے، تو بھی یومِ عرفہ کے روزے سے محروم نہ ہو — اس دن کی قدر بہت عظیم ہے۔
چند اہم مسائل
• عشرۂ ذی الحجہ کے روزے مستحب ہیں، واجب نہیں، نہ رکھنے پر ملامت نہیں۔
• قربانی ہر عاقل، بالغ، مقیم، صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب ہے۔
• احناف کے نزدیک گھر کے ہر صاحب نصاب فرد پر الگ قربانی واجب ہے۔
• ذو الحجہ سے پہلے بال و ناخن کاٹنا مستحب ہے؛ اگر نہ کاٹے ہوں تو ایامِ قربانی میں بھی کاٹے جا سکتے ہیں۔
• تکبیرِ تشریق:
"اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد”
• وقت: 9 ذو الحجہ کی فجر سے 13 کی عصر تک، ہر فرض نماز کے بعد مرد با آوازِ بلند، عورتیں آہستہ پڑھیں۔
• اگر کوئی نماز کی رکعت پائے بغیر شامل ہو، تب بھی مکمل نماز کے بعد تکبیر کہے۔


