جہیز لعنت ہی نہیں جرم عظیم بھی ہے

قیصر محمود عراقی
اسلام ایک آفاقی دین ہے، جس نے رہتی دنیا تک ہر انسان کیلئے زندگی بسر کرنے کا ایک مکمل لائحہ عمل دیا ہے اور تمام جانداروں کے حقوق متعین کئے ہیں۔ اسلام نے مردوعورت کے حقوق کو واضح طور پر بیان کردیا ہے، اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو اس کے تمام تر حقوق کے ساتھ باعزت زندگی گذارنے کا حق دیا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں (یونان)جسے تہذیب وتمدن کا منبع تصور کیا جاتا تھا، وہاں سامانِ تجارت کے مانند عورتیں فروخت کی جاتی تھیں، اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسوم ورواج کو ختم کرکے عورتوں کو معاشرے میں ایک باعزت مقام عطا کیااور انہیں وراثت کا حقدار قرار دیکر قرآن حکیم میں اس کی مکمل وضاحت کردی۔
غیر مسلموں میں آج بھی عورتوں کو وراثت کا حقدار نہیں سمجھا جاتاہے، اسی کے پیش نظر باپ اپنی بیٹی کی شادی میں اپنی استطاعت کے بقدر ضروریات زندگی کا سامان تیار کرکے جہیز کی شکل میں دے دیتا ہے، یہاں تک کہ یہ جہیز والی شکل ہر شادی کیلئے لازمی صورت اختیار کرگئی۔ برصغیر میںہندومسلم باہمی اختلاط کی بناپر جہیز کی وبا مسلمانوں میں بھی سرایت کرگئی، جس کی وجہ کر اللہ کے متعین کردہ حقوق کو بھلاکر مسلمان بھی جہیز کی لعنت میںگرفتار ہوگئے اور جہیز کے نام پر مسلم خواتین کا استحصال کیا جانے لگا۔ نیک سیرت بچیوں کی ایک بڑی تعداد ہر دن جہیز کے نام پر بھینٹ چڑھتی ہیں، متاع عیش کے طلبگار بھکاریوں نے نہ جانے کتنی مسلم بہنوں کو نذر آتش کیا ہے، اخبارات کی سرخیاں جہیزکی بھینٹ چڑھی ہوئی معصوم لرکیوں کے خون سے ہر دن رنگی ہوئی ہوتی ہیں۔ دورِ حاضر میں جہیز مسلم معاشرے کیلئے وہ ناسور بن چکا ہے جس کی گرفت سے خلاصی ممکن نظر نہیں آتی، بلکہ یوں کہا جائے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے اور اس لعنت سے خود کو آزاد نہیں کرانا چاہتا۔ جس طرح عید الضحیٰ کے ایام میںبیل ، بچھڑوں کی قیمتیں لگائی جاتی ہیں، یہی صورت شادی کے وقت لڑکے کی ہوتی ہے، بے شمار جگہوں پر دعوت اڑا کر اور بنت حوا کی تذلیل کرکے محض سامان آرائش وزیبائش کے نہ ہونے یا کچھ کم ہونے کی بناپر اس معصوم پر مسترد کا لیبل چسپاں کرکے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ فلاں لڑکا انجینئر ہے، اس لئے اس کی قیمت دو لاکھ روپئے اور موٹر سائیکل ، فلاں صاحب ڈاکٹر ہیں، اس لئے ان کی قیمت پانچ لاکھ روپئے اور بیش قیمت کار ہے، فلاں صاحب گلف میں رہتے ہیںاس لئے ان کی قیمت ڈھائی لاکھ روپئے اور گاڑی کے ساتھ عیش وآرام کا سامان ہے۔ یعنی اسلام نے نکاح کو جس قدر آسان بنایا تھا، اس کو دولت کو معبود کا درجہ دینے والوں نے اتنا ہی مشکل بنادیا۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؔجنہیں شاہین سمجھتے تھے وہ آج کاسۂ گدائی لئے بنت حوا کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دین مستقیم کے قلعے کو مسمار کرنے کے درپے ہیں، جس مقدس رشتے کے ذریعے ایک صالح معاشرے کا قیام ممکن ہے اس کی ابتداء احکام اسلام کو یکسر پس پشت ڈال کر کی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب دل اس بری رسم کے خلاف کمر بستہ ہوتے ہیںاور اپنے بچوں کی شادی میں طریقہ نبویؐ اختیار کرتے ہیں تو مادیت کے پرستار اور دین اسلام کی دھجیاں اڑانے والے الزام تراشی شروع کردیتے ہیں کہ ان کے لڑکے میںیہ عیب تھااس لئے کچھ نہیں لیا۔ اسی طرح غربت وافلاس کی زنجیروںمیں قید ایک باپ جب بر وقت اپنی جوان بیٹی کو نکاح کے مقدس رشتے میں باندھنے سے عاجز ہوجاتا ہے تو یہ ظالم معاشرہ ہر طرح کی الزام تراشیاں شروع کردیتا ہے، کبھی لڑکی کو منحوس قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اس پر شناسا کے ساتھ ملنے کا بہتان لگایا جاتا ہے۔ نتیجتاً حوا کی پاکباز بیٹی کے قدم ڈگمگا تے ہیںاور وہ گناہوں کے دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے۔ آج مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد جنسی بے راہ روی کا شکار ہوگئی ہے، ہر طرح کی برائیاں سماج میں جنم لے رہی ہیں، بر وقت نکاح کے مقدس رشتے میں نہ بندھنے کی وجہ سے بچوں اور بچیوں کا گھر سے فرار ہوکر شادی کرنے کی رسم عروج پر اور معمول بن چکی ہے۔ آج لوگ جاہلانہ رسم رواج کے گرویدہ بن چکے ہیں، سنت نبویؐ کو یکسر فراموش کرچکے ہیں، جہیز جیسے ناسور کو اپنی زندگی کا حصہ بناچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں جہیز کی لعنت عام ہے اور اس جہیز کی وجہ سے روز کسی نہ کسی بنت حوا کے جلنے ، گولی سے مارنے اور زہر دیکر ہلاکت کی خبریں آتی ہیں۔
قارئین محترم!ذرا سوچیں! ایک شخص کی دو بیٹیاں جوان ہیں ان کے رشتے بھی طے ہوچکے ہیںلیکن وہ فاقہ کشی اور مفلوک الحال اپنی لخت جگر کا جہیز بنانے کی خاطر اور لوگوں کی طعنوں سے بچنے کیلئے کس تجوری میں ہاتھ ڈالے؟ کہاں جائیںاور کہااتنی خطیر رقم کا بندوبست کرے؟ بالآخر معاشرتی رسموں کے ہاتھوں خود کو مجبور سمجھتے ہوئے بیٹی کو رخصت کرنے کیلئے غریب والدین اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں، لاکھوں کا قرض لیتے ہیںاور پھر تمام عمر اس کی ادائیگی میںان کی گذرتی ہے۔ ہمارے یہاں جہیز کو شادی سے بھی زیادہ ضروری سمجھ لیا گیا ہے، ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ نکاح سنت انبیاء ہے، مگر دوسری طرف ہم نے جہیز کے ذریعے اس سنت کو سخت بنادیا ہے، کیونکہ جہیز ہی ایک ایسی بدعت ہے جو پورے معاشرے کیلئے ناسور بن چکا ہے۔ اب جبکہ جس معاشرے میں حرص وطمع ، خودغرضی، جاہ وحشمت اور دولت کا لالچ سر چڑھ کر بول رہا ہواور اسی کو معیارِ زندگی تصور کیا جاتا ہو تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے انسانیت کی دیرینہ اور اعلیٰ اخلاقی قدریں پامال اور زیروزبر ہوجاتی ہیں اور اس کی جگہ حیوانیت ونفسانیت جڑ پکڑ لیتی ہے۔ چنانچہ اس کا ایک بدترین نتیجہ جہیز بھی ہے جو ہمارے معاشرے کیلئے ناسور ہے اور بن بیاہی لڑکیوں کیلئے خودکشی وخود سوزی کا موجب بن کر رہ گیا ہے۔ لہذا اس کے لئے اصلاح معاشرہ کے تعلق سے جہیز کے خلاف منظم طریقے سے زور دار مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے علماکرام ، مفتیان عظام ، دانشوران ، ذمہ داران اور ائمہ مساجد کو آگے آنا چاہئے اور اس مہم کو علاقائی سطح سے شروع کرکے ریاست وملک گیر سطح تک پہنچانا ہر ذی شعور آدمی کا انسانی ، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے تاکہ اس قبیح اور سماج کیلئے ناسور رسم کے خلاف اجتماعی طور پر نفرت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے باز رہنے کا جذبہ بھی ابھرے۔ نیز مسلم معاشرے میں جو شادیاں جہیز کے ساتھ ہورہی ہوں، لوگوں کو چاہئے کہ ان میں شرکت کرنے سے ہر صورت پرہیز اور گریز کریں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

جہیز لعنت ہی نہیں جرم عظیم بھی ہے

قیصر محمود عراقی
اسلام ایک آفاقی دین ہے، جس نے رہتی دنیا تک ہر انسان کیلئے زندگی بسر کرنے کا ایک مکمل لائحہ عمل دیا ہے اور تمام جانداروں کے حقوق متعین کئے ہیں۔ اسلام نے مردوعورت کے حقوق کو واضح طور پر بیان کردیا ہے، اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو اس کے تمام تر حقوق کے ساتھ باعزت زندگی گذارنے کا حق دیا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں (یونان)جسے تہذیب وتمدن کا منبع تصور کیا جاتا تھا، وہاں سامانِ تجارت کے مانند عورتیں فروخت کی جاتی تھیں، اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسوم ورواج کو ختم کرکے عورتوں کو معاشرے میں ایک باعزت مقام عطا کیااور انہیں وراثت کا حقدار قرار دیکر قرآن حکیم میں اس کی مکمل وضاحت کردی۔
غیر مسلموں میں آج بھی عورتوں کو وراثت کا حقدار نہیں سمجھا جاتاہے، اسی کے پیش نظر باپ اپنی بیٹی کی شادی میں اپنی استطاعت کے بقدر ضروریات زندگی کا سامان تیار کرکے جہیز کی شکل میں دے دیتا ہے، یہاں تک کہ یہ جہیز والی شکل ہر شادی کیلئے لازمی صورت اختیار کرگئی۔ برصغیر میںہندومسلم باہمی اختلاط کی بناپر جہیز کی وبا مسلمانوں میں بھی سرایت کرگئی، جس کی وجہ کر اللہ کے متعین کردہ حقوق کو بھلاکر مسلمان بھی جہیز کی لعنت میںگرفتار ہوگئے اور جہیز کے نام پر مسلم خواتین کا استحصال کیا جانے لگا۔ نیک سیرت بچیوں کی ایک بڑی تعداد ہر دن جہیز کے نام پر بھینٹ چڑھتی ہیں، متاع عیش کے طلبگار بھکاریوں نے نہ جانے کتنی مسلم بہنوں کو نذر آتش کیا ہے، اخبارات کی سرخیاں جہیزکی بھینٹ چڑھی ہوئی معصوم لرکیوں کے خون سے ہر دن رنگی ہوئی ہوتی ہیں۔ دورِ حاضر میں جہیز مسلم معاشرے کیلئے وہ ناسور بن چکا ہے جس کی گرفت سے خلاصی ممکن نظر نہیں آتی، بلکہ یوں کہا جائے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے اور اس لعنت سے خود کو آزاد نہیں کرانا چاہتا۔ جس طرح عید الضحیٰ کے ایام میںبیل ، بچھڑوں کی قیمتیں لگائی جاتی ہیں، یہی صورت شادی کے وقت لڑکے کی ہوتی ہے، بے شمار جگہوں پر دعوت اڑا کر اور بنت حوا کی تذلیل کرکے محض سامان آرائش وزیبائش کے نہ ہونے یا کچھ کم ہونے کی بناپر اس معصوم پر مسترد کا لیبل چسپاں کرکے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ فلاں لڑکا انجینئر ہے، اس لئے اس کی قیمت دو لاکھ روپئے اور موٹر سائیکل ، فلاں صاحب ڈاکٹر ہیں، اس لئے ان کی قیمت پانچ لاکھ روپئے اور بیش قیمت کار ہے، فلاں صاحب گلف میں رہتے ہیںاس لئے ان کی قیمت ڈھائی لاکھ روپئے اور گاڑی کے ساتھ عیش وآرام کا سامان ہے۔ یعنی اسلام نے نکاح کو جس قدر آسان بنایا تھا، اس کو دولت کو معبود کا درجہ دینے والوں نے اتنا ہی مشکل بنادیا۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؔجنہیں شاہین سمجھتے تھے وہ آج کاسۂ گدائی لئے بنت حوا کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دین مستقیم کے قلعے کو مسمار کرنے کے درپے ہیں، جس مقدس رشتے کے ذریعے ایک صالح معاشرے کا قیام ممکن ہے اس کی ابتداء احکام اسلام کو یکسر پس پشت ڈال کر کی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب دل اس بری رسم کے خلاف کمر بستہ ہوتے ہیںاور اپنے بچوں کی شادی میں طریقہ نبویؐ اختیار کرتے ہیں تو مادیت کے پرستار اور دین اسلام کی دھجیاں اڑانے والے الزام تراشی شروع کردیتے ہیں کہ ان کے لڑکے میںیہ عیب تھااس لئے کچھ نہیں لیا۔ اسی طرح غربت وافلاس کی زنجیروںمیں قید ایک باپ جب بر وقت اپنی جوان بیٹی کو نکاح کے مقدس رشتے میں باندھنے سے عاجز ہوجاتا ہے تو یہ ظالم معاشرہ ہر طرح کی الزام تراشیاں شروع کردیتا ہے، کبھی لڑکی کو منحوس قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اس پر شناسا کے ساتھ ملنے کا بہتان لگایا جاتا ہے۔ نتیجتاً حوا کی پاکباز بیٹی کے قدم ڈگمگا تے ہیںاور وہ گناہوں کے دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے۔ آج مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد جنسی بے راہ روی کا شکار ہوگئی ہے، ہر طرح کی برائیاں سماج میں جنم لے رہی ہیں، بر وقت نکاح کے مقدس رشتے میں نہ بندھنے کی وجہ سے بچوں اور بچیوں کا گھر سے فرار ہوکر شادی کرنے کی رسم عروج پر اور معمول بن چکی ہے۔ آج لوگ جاہلانہ رسم رواج کے گرویدہ بن چکے ہیں، سنت نبویؐ کو یکسر فراموش کرچکے ہیں، جہیز جیسے ناسور کو اپنی زندگی کا حصہ بناچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں جہیز کی لعنت عام ہے اور اس جہیز کی وجہ سے روز کسی نہ کسی بنت حوا کے جلنے ، گولی سے مارنے اور زہر دیکر ہلاکت کی خبریں آتی ہیں۔
قارئین محترم!ذرا سوچیں! ایک شخص کی دو بیٹیاں جوان ہیں ان کے رشتے بھی طے ہوچکے ہیںلیکن وہ فاقہ کشی اور مفلوک الحال اپنی لخت جگر کا جہیز بنانے کی خاطر اور لوگوں کی طعنوں سے بچنے کیلئے کس تجوری میں ہاتھ ڈالے؟ کہاں جائیںاور کہااتنی خطیر رقم کا بندوبست کرے؟ بالآخر معاشرتی رسموں کے ہاتھوں خود کو مجبور سمجھتے ہوئے بیٹی کو رخصت کرنے کیلئے غریب والدین اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں، لاکھوں کا قرض لیتے ہیںاور پھر تمام عمر اس کی ادائیگی میںان کی گذرتی ہے۔ ہمارے یہاں جہیز کو شادی سے بھی زیادہ ضروری سمجھ لیا گیا ہے، ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ نکاح سنت انبیاء ہے، مگر دوسری طرف ہم نے جہیز کے ذریعے اس سنت کو سخت بنادیا ہے، کیونکہ جہیز ہی ایک ایسی بدعت ہے جو پورے معاشرے کیلئے ناسور بن چکا ہے۔ اب جبکہ جس معاشرے میں حرص وطمع ، خودغرضی، جاہ وحشمت اور دولت کا لالچ سر چڑھ کر بول رہا ہواور اسی کو معیارِ زندگی تصور کیا جاتا ہو تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے انسانیت کی دیرینہ اور اعلیٰ اخلاقی قدریں پامال اور زیروزبر ہوجاتی ہیں اور اس کی جگہ حیوانیت ونفسانیت جڑ پکڑ لیتی ہے۔ چنانچہ اس کا ایک بدترین نتیجہ جہیز بھی ہے جو ہمارے معاشرے کیلئے ناسور ہے اور بن بیاہی لڑکیوں کیلئے خودکشی وخود سوزی کا موجب بن کر رہ گیا ہے۔ لہذا اس کے لئے اصلاح معاشرہ کے تعلق سے جہیز کے خلاف منظم طریقے سے زور دار مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے علماکرام ، مفتیان عظام ، دانشوران ، ذمہ داران اور ائمہ مساجد کو آگے آنا چاہئے اور اس مہم کو علاقائی سطح سے شروع کرکے ریاست وملک گیر سطح تک پہنچانا ہر ذی شعور آدمی کا انسانی ، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے تاکہ اس قبیح اور سماج کیلئے ناسور رسم کے خلاف اجتماعی طور پر نفرت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے باز رہنے کا جذبہ بھی ابھرے۔ نیز مسلم معاشرے میں جو شادیاں جہیز کے ساتھ ہورہی ہوں، لوگوں کو چاہئے کہ ان میں شرکت کرنے سے ہر صورت پرہیز اور گریز کریں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں