بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت

بھارت نے عالمی معیشت کی درجہ بندی میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے — یہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ قومی وقار، قیادت کے ویژن اور مسلسل جدوجہد کا مظہر ہے۔ کبھی "فریجائل فائیو” کا حصہ رہنے والا بھارت آج چار ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بن چکا ہے۔ نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرا منیم کے مطابق، یہ صرف شروعات ہے؛ آئندہ تین برسوں میں بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حالیہ اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2025 میں 4.19 ٹریلین ڈالر کی متوقع جی ڈی پی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہوگا۔ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ 2025 میں بھارت کی شرح نمو 6.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو دیہی علاقوں میں نجی کھپت کے اضافے سے ممکن ہوگی۔
نیتی آیوگ کے "وِکسِت بھارت @2047” وژن ڈاکیومنٹ کے مطابق، بھارت آئندہ دو دہائیوں میں 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی بھرپور تیاری میں ہے۔ یہ وژن چھ بڑے ستونوں پر استوار ہے، جن میں مستحکم معاشی حکمتِ عملی، خودمختار شہری، پائیدار معیشت، ٹیکنالوجی اور اختراعات میں قیادت، عالمی مقام اور مضبوط گورننس و عدالتی نظام شامل ہیں۔ ان نکات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ترقی یافتہ ریاست کے روپ میں ابھر رہا ہے۔
2013 سے لے کر آج تک بھارت نے معاشی محاذ پر جو پیش رفت کی ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے نہ صرف ترقی کی راہ اپنائی بلکہ عالمی منظرنامے میں اپنی موجودگی کو ایک معتبر طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ ’مودی 3.0‘ نے قومی خود اعتمادی، فخر اور عالمی قیادت کی اُمید کو نئی توانائی بخشی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب امریکہ جیسی بڑی معیشتیں معاشی تحفظ پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہیں، بھارت نے کھلے پن اور جامع ترقی کے ماڈل کو اپنایا ہے۔ چین و پاکستان کے جغرافیائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود، بھارت کی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، جب کہ پاکستان اندرونی انتشار اور کمزور معیشت کے باعث لڑکھڑا رہا ہے۔
بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ اُس کا نوجوان اور فعال افرادی قوت ہے — یہی ’ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘ بھارت کی ترقی کا انجن ہے۔ آج کا بھارت پُراعتماد ہے، پُرعزم ہے اور ترقی کی شاہراہ پر وشو گرو بننے کی جانب رواں دواں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت

بھارت نے عالمی معیشت کی درجہ بندی میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے — یہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ قومی وقار، قیادت کے ویژن اور مسلسل جدوجہد کا مظہر ہے۔ کبھی "فریجائل فائیو” کا حصہ رہنے والا بھارت آج چار ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بن چکا ہے۔ نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرا منیم کے مطابق، یہ صرف شروعات ہے؛ آئندہ تین برسوں میں بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حالیہ اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2025 میں 4.19 ٹریلین ڈالر کی متوقع جی ڈی پی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہوگا۔ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ 2025 میں بھارت کی شرح نمو 6.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو دیہی علاقوں میں نجی کھپت کے اضافے سے ممکن ہوگی۔
نیتی آیوگ کے "وِکسِت بھارت @2047” وژن ڈاکیومنٹ کے مطابق، بھارت آئندہ دو دہائیوں میں 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی بھرپور تیاری میں ہے۔ یہ وژن چھ بڑے ستونوں پر استوار ہے، جن میں مستحکم معاشی حکمتِ عملی، خودمختار شہری، پائیدار معیشت، ٹیکنالوجی اور اختراعات میں قیادت، عالمی مقام اور مضبوط گورننس و عدالتی نظام شامل ہیں۔ ان نکات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ترقی یافتہ ریاست کے روپ میں ابھر رہا ہے۔
2013 سے لے کر آج تک بھارت نے معاشی محاذ پر جو پیش رفت کی ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے نہ صرف ترقی کی راہ اپنائی بلکہ عالمی منظرنامے میں اپنی موجودگی کو ایک معتبر طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ ’مودی 3.0‘ نے قومی خود اعتمادی، فخر اور عالمی قیادت کی اُمید کو نئی توانائی بخشی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب امریکہ جیسی بڑی معیشتیں معاشی تحفظ پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہیں، بھارت نے کھلے پن اور جامع ترقی کے ماڈل کو اپنایا ہے۔ چین و پاکستان کے جغرافیائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود، بھارت کی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، جب کہ پاکستان اندرونی انتشار اور کمزور معیشت کے باعث لڑکھڑا رہا ہے۔
بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ اُس کا نوجوان اور فعال افرادی قوت ہے — یہی ’ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘ بھارت کی ترقی کا انجن ہے۔ آج کا بھارت پُراعتماد ہے، پُرعزم ہے اور ترقی کی شاہراہ پر وشو گرو بننے کی جانب رواں دواں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں