جنگ نیوز ڈیسک
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے X پر کہا ہے کہ اب ایک نیا فتنہ بڑی تیزی سے ہماری سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میں لیاہے یعنی آن لائن جوا۔ یہ اتنا ہی تباہ کن ہے جتنا کہ منشیات کی لت، جس کے خلاف ہم پہلے ہی نبرد آزما ہیں۔ تفریح کے نام پر ہزاروں لوگ اس میں مبتلا ہو رہے ہیں، ان کی زندگیاں اور خاندان برباد ہو رہے ہیں اور ہمارا اخلاقی و سماجی ڈھانچہ تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس پر سخت کارروائی کرے۔ ترقی صرف معاشی خوشحالی یا سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، اگر قوم اخلاقی اور روحانی طور پر زوال کا شکار ہو تو ایسی ترقی بے معنی ہو جاتی ہے۔
لہٰذا ایک جامع منصوبہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس سنگین مسئلے کا مو ¿ثر حل نکالا جا سکے۔
میرواعظ نے کہا کہ معاشرے اور کمیونٹی کو بھی اس کا مقابلہ کرنے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا، سب کچھ حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
اس ضمن میں علمائے کرام کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کی روشنی میں ان مسائل پر عوام میں بیداری پیدا کریں اور ہر ممکن ذریعہ استعمال کر کے عوام تک یہ پیغام پہنچائیں۔
حال ہی میں ایک نکاح کے خطبہ میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے زور دیا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کی بنیاد اسلامی کردار، ضبط نفس اور سماجی ذمہ داری پر رکھنی چاہیے، خاص طور پر ان فتنوں کے پس منظر میں۔
انہوں نے عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کا سنجیدہ نوٹس لے اور فوری طور پر اس وبا پر پابندی عائد کرے، اس سے قبل کہ مزید نقصان ہو۔


