مئی میں گرمیوں کی چھٹیوں کا مطالبہ ؟

حال ہی میں وادی کشمیر میں شدید گرمی کے باعث اسکولوں کے لیے مئی میں گرمیوں کی تعطیلات کے مطالبے نے زور پکڑا ہے۔ بظاہر یہ مطالبہ بچوں کی صحت اور سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے، مگر اگر ہم تعلیمی تقویم، نصاب کی تکمیل اور مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھیں تو یہ رجحان انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کا تعلیمی سال خود پہلے ہی سردیوں کی تین ماہ طویل تعطیلات سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ ان میں موسم سرما کے دوران تعلیمی اداروں کی بندش، خراب موسمی حالات اور امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے مزید غیر رسمی تعطیلات بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں مئی کے مہینے میں مزید چھٹیوں کا مطالبہ تعلیمی نقصان میں اضافہ کرے گا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر بار موسم کی شدت یا تھوڑی سی پریشانی کے پیش نظر تعلیم کا سلسلہ روک دینا بچوں کی ذہنی پختگی، نظم و ضبط، اور سنجیدگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تعلیم ایک تسلسل کا نام ہے، جو وقفے وقفے سے ٹوٹنے لگے تو نہ طلبہ میں دلچسپی باقی رہتی ہے، نہ ہی اساتذہ اپنی تدریسی ذمہ داریاں مکمل کر پاتے ہیں۔
متبادل کے طور پر، اسکولوں کے اوقات صبح جلدی کر کے گرمی سے بچا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی گرم ممالک میں تعلیمی ادارے موسمِ گرما میں علی الصبح کھولے جاتے ہیں اور دوپہر سے پہلے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز میں پنکھوں اور کولنگ سسٹم کی فراہمی، طلبہ کے لیے پانی اور سایہ دار مقامات کا بندوبست جیسے عملی اقدامات سے سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی جذبات کے بجائے طویل مدتی تعلیمی مفادات کو مقدم رکھیں۔ اگر ہر موسم میں تعطیلات کے مطالبات کیے جاتے رہے تو تعلیمی ادارے صرف نام کے رہ جائیں گے اور ہمارے بچے صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک تربیتی عمل ہے۔ مستقل تعلیمی ماحول بچوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم بار بار چھٹیوں کے مطالبات کرتے رہیں گے تو ہم اپنے بچوں کو سستی، فرار اور غیر سنجیدگی کا سبق دے رہے ہوں گے۔
حکومت، اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین کو مل کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو بچوں کے بہترین مفاد میں ہوں نہ صرف جسمانی سہولت کے لحاظ سے بلکہ ان کے علمی، ذہنی اور اخلاقی فروغ کے لیے بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

مئی میں گرمیوں کی چھٹیوں کا مطالبہ ؟

حال ہی میں وادی کشمیر میں شدید گرمی کے باعث اسکولوں کے لیے مئی میں گرمیوں کی تعطیلات کے مطالبے نے زور پکڑا ہے۔ بظاہر یہ مطالبہ بچوں کی صحت اور سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے، مگر اگر ہم تعلیمی تقویم، نصاب کی تکمیل اور مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھیں تو یہ رجحان انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کا تعلیمی سال خود پہلے ہی سردیوں کی تین ماہ طویل تعطیلات سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ ان میں موسم سرما کے دوران تعلیمی اداروں کی بندش، خراب موسمی حالات اور امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے مزید غیر رسمی تعطیلات بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں مئی کے مہینے میں مزید چھٹیوں کا مطالبہ تعلیمی نقصان میں اضافہ کرے گا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر بار موسم کی شدت یا تھوڑی سی پریشانی کے پیش نظر تعلیم کا سلسلہ روک دینا بچوں کی ذہنی پختگی، نظم و ضبط، اور سنجیدگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تعلیم ایک تسلسل کا نام ہے، جو وقفے وقفے سے ٹوٹنے لگے تو نہ طلبہ میں دلچسپی باقی رہتی ہے، نہ ہی اساتذہ اپنی تدریسی ذمہ داریاں مکمل کر پاتے ہیں۔
متبادل کے طور پر، اسکولوں کے اوقات صبح جلدی کر کے گرمی سے بچا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی گرم ممالک میں تعلیمی ادارے موسمِ گرما میں علی الصبح کھولے جاتے ہیں اور دوپہر سے پہلے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز میں پنکھوں اور کولنگ سسٹم کی فراہمی، طلبہ کے لیے پانی اور سایہ دار مقامات کا بندوبست جیسے عملی اقدامات سے سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی جذبات کے بجائے طویل مدتی تعلیمی مفادات کو مقدم رکھیں۔ اگر ہر موسم میں تعطیلات کے مطالبات کیے جاتے رہے تو تعلیمی ادارے صرف نام کے رہ جائیں گے اور ہمارے بچے صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک تربیتی عمل ہے۔ مستقل تعلیمی ماحول بچوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم بار بار چھٹیوں کے مطالبات کرتے رہیں گے تو ہم اپنے بچوں کو سستی، فرار اور غیر سنجیدگی کا سبق دے رہے ہوں گے۔
حکومت، اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین کو مل کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو بچوں کے بہترین مفاد میں ہوں نہ صرف جسمانی سہولت کے لحاظ سے بلکہ ان کے علمی، ذہنی اور اخلاقی فروغ کے لیے بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں