کیریئر کا انتخاب: والدین کی خواہش یا اپنی دلچسپی؟

محمد فداء المصطفیٰ 
زندگی ایک ایسا خواب ہے، جسے حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر فرد کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس جدوجہد کا مرکزی محور اکثر روزگار ہوتا ہے، جو نہ صرف زندگی کا بیشتر وقت اپنی لپیٹ میں لیتا ہے بلکہ ہماری ذہنی کیفیت، جذبات اور طرزِ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر انسان کا منتخب کردہ پیشہ اس کی دلچسپی، مزاج اور فطری رجحان کے مطابق ہو، تو وہ پیشہ صرف ذریعہ معاش نہیں رہتا بلکہ خوشی، اطمینان اور خودی کی تکمیل کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ آغاز لیتی ہے، اور محنت عبادت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ برعکس اس کے، جب کام انسان کی طبعی رغبت سے میل نہ کھاتا ہو، تو وہی روزمرہ کی مصروفیات بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ دن کا آغاز ایک نئی قید، نئی تھکن، اور ایک نئی جدوجہد کے تاثر کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور عدم اطمینان کا باعث بھی بنتی ہے۔
تحقیقات اس نکتہ نظر کی تائید کرتی ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ اپنی پسند کے شعبے میں کام کرتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ مطمئن ہوتے ہیں بلکہ ان کی کارکردگی بھی نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔ دلچسپی سے جُڑا کام نہ صرف تھکن کم کرتا ہے بلکہ تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ایسے افراد کی پیداواریت 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے جو اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں اکثر نوجوان سماجی دباؤ، والدین کی خواہشات یا وقتی مالی فوائد کے باعث ایسے شعبے اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے دل کے قریب نہیں ہوتے۔ نتیجتاً، وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں جو محض بقا کے لیے لڑی جا رہی ہوتی ہے، خوشی یا اطمینان کے لیے نہیں۔
ایک پرانی کہاوت ہے: اگر ایک دن کی خوشی چاہیے تو پکنک پر چلے جائیں، ایک ہفتے کی خوشی کے لیے کہیں سیر کر لیں، ایک مہینے کی خوشی کے لیے شادی کریں، اور ایک سال کی خوشی کے لیے وراثتی دولت خرچ کریں۔ لیکن اگر تمام عمر خوش رہنا ہے تو وہ کام کریں جو دل کو خوشی دے۔کیونکہ زندگی کا ایک بڑا حصہ ہم کام میں گزارتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا کام صرف مجبوری نہ ہو بلکہ شوق، جذبہ اور خودی کی تسکین کا ذریعہ ہو۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کیرول ڈویک کے مطابق، جب کوئی فرد اپنی دلچسپی کے برخلاف کسی پیشے کو اپناتا ہے تو نہ صرف اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی ذہنی صحت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ وہ جلدی تھک جاتا ہے، اس کی فیصلہ سازی کمزور ہو جاتی ہے، اور تخلیقی قوتیں بھی دبنے لگتی ہیں۔
اس کی ایک تازہ مثال معروف امریکی ارب پتی جارج پیریز کی ہے، جنہوں نے اپنے بیٹے جون پال کو اپنی اربوں ڈالر مالیت کی رئیل اسٹیٹ کمپنی میں فوراً شامل کرنے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے بیٹے کو اس وقت تک کمپنی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا جب تک وہ اپنی صلاحیتیں خود منوا نہ لے۔ پیریز کا یہ فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ محض تعلق یا وراثت کسی پیشے میں کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ شوق، قابلیت اور ہم آہنگی اس کی اصل بنیادیں ہیں۔
جب بات پیشہ ورانہ زندگی کی ہو تو صرف وراثت، رتبہ یا دولت نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، اور کس جذبے سے کر رہا ہے۔ معروف امریکی کاروباری شخصیت جارج پیریز کی کہانی اس فلسفے کی ایک عملی مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے جون پال کو بغیر کسی رعایت کے اپنی قابلیت کے امتحان سے گزارنے کا فیصلہ کیا، اور اُسے اپنے ایک قریبی دوست و پارٹنر کے ساتھ کام کرنے کے لیے بھیجا، تاکہ وہ کاروباری دنیا کے نشیب و فراز سے خود واقف ہو۔ یہ تجربہ جون پال کے لیے نہ صرف تربیت کا باعث بنا بلکہ اُس کی شخصیت کو نکھارنے میں بھی مددگار ثابت ہوا۔ میامی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جون پال نے نیویارک کا رخ کیا، جہاں اُس نے اپنی الگ پہچان بنانے کا ارادہ کیا۔ جارج پیریز کے مطابق، ان کے تمام بچوں کے لیے یہی اصول مقرر ہے: اگر وہ ان کی کمپنی کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو نیویارک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کم از کم پانچ سال کا تجربہ حاصل کرنا ہوگا، اور کسی معتبر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری بھی لازمی ہوگی۔
جارج پیریز کی نصیحت نہایت بصیرت افروز ہے: ’’اگر تمہیں رئیل اسٹیٹ سے دلچسپی نہیں، تو صرف پیسے کے لیے اسے اختیار مت کرو۔ زندگی آسان نہیں، اور اگر ہر صبح تم ایک ایسا کام کرو جو دل کو نہ بھائے، تو کامیابی بھی تم سے دور رہے گی۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میری کمپنی میں تمہاری موجودگی دوسروں کو یہ محسوس کرائے کہ تم صرف میرے نام کی وجہ سے یہاں ہو، نہ کہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر۔‘‘یہ غیر روایتی مگر اصول پسند رویہ نہ صرف ایک ذمہ دار والد کی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اُن والدین کے لیے بھی مثال ہے جو اپنے بچوں کی کامیابی چاہتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور خوداعتمادی کے بل پر آگے بڑھیں۔
جارج پیریز کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی پیشے میں کامیابی محض خاندانی پس منظر سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے سیکھنے کی لگن، عملی تجربہ اور اس شعبے سے دلچسپی ضروری ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین افراد، جیسے ایپل کے بانی اسٹیو جابز، بھی یہی بات کہتے ہیں: اگر آپ کو اپنا کام پسند نہیں، تو آپ اس میں عظمت حاصل نہیں کر سکتے۔یہ اصول کسی خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اپنی زندگی میں معنی، مقصد اور مسرت چاہتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ پیشہ صرف کمائی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہماری ذہنی صحت، جذباتی سکون اور تخلیقی اظہار کا وسیلہ بھی ہونا چاہیے۔ جب ہم دل کی آواز سنتے ہیں اور اپنے شوق کے مطابق کام کرتے ہیں، تو وہ کام ہمیں کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ وہی مشقت خوشگوار مشغلہ بن جاتی ہے، اور وہی راستہ کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ہر انسان کا مزاج، اس کی ترجیحات، اس کی سوچ اور زندگی کے بارے میں نظریہ مختلف ہوتا ہے۔ ہمیں دوسروں کی خواہشات یا سماجی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ اپنی فطرت اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ راہ متعین کرنی چاہیے۔ تب ہی جا کر زندگی ایک خوشگوار سفر بن سکتی ہے، جس میں کامیابی بھی ہے اور سکون بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

کیریئر کا انتخاب: والدین کی خواہش یا اپنی دلچسپی؟

محمد فداء المصطفیٰ 
زندگی ایک ایسا خواب ہے، جسے حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر فرد کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس جدوجہد کا مرکزی محور اکثر روزگار ہوتا ہے، جو نہ صرف زندگی کا بیشتر وقت اپنی لپیٹ میں لیتا ہے بلکہ ہماری ذہنی کیفیت، جذبات اور طرزِ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر انسان کا منتخب کردہ پیشہ اس کی دلچسپی، مزاج اور فطری رجحان کے مطابق ہو، تو وہ پیشہ صرف ذریعہ معاش نہیں رہتا بلکہ خوشی، اطمینان اور خودی کی تکمیل کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ آغاز لیتی ہے، اور محنت عبادت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ برعکس اس کے، جب کام انسان کی طبعی رغبت سے میل نہ کھاتا ہو، تو وہی روزمرہ کی مصروفیات بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ دن کا آغاز ایک نئی قید، نئی تھکن، اور ایک نئی جدوجہد کے تاثر کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور عدم اطمینان کا باعث بھی بنتی ہے۔
تحقیقات اس نکتہ نظر کی تائید کرتی ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ اپنی پسند کے شعبے میں کام کرتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ مطمئن ہوتے ہیں بلکہ ان کی کارکردگی بھی نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔ دلچسپی سے جُڑا کام نہ صرف تھکن کم کرتا ہے بلکہ تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ایسے افراد کی پیداواریت 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے جو اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں اکثر نوجوان سماجی دباؤ، والدین کی خواہشات یا وقتی مالی فوائد کے باعث ایسے شعبے اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے دل کے قریب نہیں ہوتے۔ نتیجتاً، وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں جو محض بقا کے لیے لڑی جا رہی ہوتی ہے، خوشی یا اطمینان کے لیے نہیں۔
ایک پرانی کہاوت ہے: اگر ایک دن کی خوشی چاہیے تو پکنک پر چلے جائیں، ایک ہفتے کی خوشی کے لیے کہیں سیر کر لیں، ایک مہینے کی خوشی کے لیے شادی کریں، اور ایک سال کی خوشی کے لیے وراثتی دولت خرچ کریں۔ لیکن اگر تمام عمر خوش رہنا ہے تو وہ کام کریں جو دل کو خوشی دے۔کیونکہ زندگی کا ایک بڑا حصہ ہم کام میں گزارتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا کام صرف مجبوری نہ ہو بلکہ شوق، جذبہ اور خودی کی تسکین کا ذریعہ ہو۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کیرول ڈویک کے مطابق، جب کوئی فرد اپنی دلچسپی کے برخلاف کسی پیشے کو اپناتا ہے تو نہ صرف اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی ذہنی صحت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ وہ جلدی تھک جاتا ہے، اس کی فیصلہ سازی کمزور ہو جاتی ہے، اور تخلیقی قوتیں بھی دبنے لگتی ہیں۔
اس کی ایک تازہ مثال معروف امریکی ارب پتی جارج پیریز کی ہے، جنہوں نے اپنے بیٹے جون پال کو اپنی اربوں ڈالر مالیت کی رئیل اسٹیٹ کمپنی میں فوراً شامل کرنے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے بیٹے کو اس وقت تک کمپنی میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا جب تک وہ اپنی صلاحیتیں خود منوا نہ لے۔ پیریز کا یہ فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ محض تعلق یا وراثت کسی پیشے میں کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ شوق، قابلیت اور ہم آہنگی اس کی اصل بنیادیں ہیں۔
جب بات پیشہ ورانہ زندگی کی ہو تو صرف وراثت، رتبہ یا دولت نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، اور کس جذبے سے کر رہا ہے۔ معروف امریکی کاروباری شخصیت جارج پیریز کی کہانی اس فلسفے کی ایک عملی مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے جون پال کو بغیر کسی رعایت کے اپنی قابلیت کے امتحان سے گزارنے کا فیصلہ کیا، اور اُسے اپنے ایک قریبی دوست و پارٹنر کے ساتھ کام کرنے کے لیے بھیجا، تاکہ وہ کاروباری دنیا کے نشیب و فراز سے خود واقف ہو۔ یہ تجربہ جون پال کے لیے نہ صرف تربیت کا باعث بنا بلکہ اُس کی شخصیت کو نکھارنے میں بھی مددگار ثابت ہوا۔ میامی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جون پال نے نیویارک کا رخ کیا، جہاں اُس نے اپنی الگ پہچان بنانے کا ارادہ کیا۔ جارج پیریز کے مطابق، ان کے تمام بچوں کے لیے یہی اصول مقرر ہے: اگر وہ ان کی کمپنی کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو نیویارک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کم از کم پانچ سال کا تجربہ حاصل کرنا ہوگا، اور کسی معتبر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری بھی لازمی ہوگی۔
جارج پیریز کی نصیحت نہایت بصیرت افروز ہے: ’’اگر تمہیں رئیل اسٹیٹ سے دلچسپی نہیں، تو صرف پیسے کے لیے اسے اختیار مت کرو۔ زندگی آسان نہیں، اور اگر ہر صبح تم ایک ایسا کام کرو جو دل کو نہ بھائے، تو کامیابی بھی تم سے دور رہے گی۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میری کمپنی میں تمہاری موجودگی دوسروں کو یہ محسوس کرائے کہ تم صرف میرے نام کی وجہ سے یہاں ہو، نہ کہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر۔‘‘یہ غیر روایتی مگر اصول پسند رویہ نہ صرف ایک ذمہ دار والد کی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اُن والدین کے لیے بھی مثال ہے جو اپنے بچوں کی کامیابی چاہتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور خوداعتمادی کے بل پر آگے بڑھیں۔
جارج پیریز کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی پیشے میں کامیابی محض خاندانی پس منظر سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے سیکھنے کی لگن، عملی تجربہ اور اس شعبے سے دلچسپی ضروری ہے۔ دنیا کے کامیاب ترین افراد، جیسے ایپل کے بانی اسٹیو جابز، بھی یہی بات کہتے ہیں: اگر آپ کو اپنا کام پسند نہیں، تو آپ اس میں عظمت حاصل نہیں کر سکتے۔یہ اصول کسی خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اپنی زندگی میں معنی، مقصد اور مسرت چاہتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ پیشہ صرف کمائی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہماری ذہنی صحت، جذباتی سکون اور تخلیقی اظہار کا وسیلہ بھی ہونا چاہیے۔ جب ہم دل کی آواز سنتے ہیں اور اپنے شوق کے مطابق کام کرتے ہیں، تو وہ کام ہمیں کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ وہی مشقت خوشگوار مشغلہ بن جاتی ہے، اور وہی راستہ کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ہر انسان کا مزاج، اس کی ترجیحات، اس کی سوچ اور زندگی کے بارے میں نظریہ مختلف ہوتا ہے۔ ہمیں دوسروں کی خواہشات یا سماجی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ اپنی فطرت اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ راہ متعین کرنی چاہیے۔ تب ہی جا کر زندگی ایک خوشگوار سفر بن سکتی ہے، جس میں کامیابی بھی ہے اور سکون بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں