عروج مسلمین کے اسباب اور زوال امت کے عوامل

 

 

ارشد احمد ارشٓد

تاریخ کے صفحات پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے کہ وہ قوم، جس نے کبھی دنیا کی تہذیب و تمدن کو نئی جہتیں عطا کیں، جس کے علم کی روشنی سے مشرق و مغرب منور ہوئے، جس کے عدل و انصاف کی مثالیں تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کرلیں، آج اسی قوم کا ایک بڑا حصہ محکومی، پسماندگی، انتشار اور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ امت جس نے کبھی وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا، آج خود زمانے کے تھپیڑوں سے پریشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی صفات تھیں جنہوں نے مسلمانوں کو عظمت و اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا، اور وہ کون سی کمزوریاں ہیں جنہوں نے انہیں زوال و انحطاط کی گہری کھائی میں دھکیل دیا؟
اس سوال کا جواب محض ماضی کے قصیدے پڑھنے میں نہیں، بلکہ تاریخ کے آئینے میں اپنے حال کا چہرہ دیکھنے اور مستقبل کی تعمیر کے لئے درست راستہ متعین کرنے میں پوشیدہ ہے۔
عروجِ مسلمین: ایمان، کردار اور عمل کی قوت:
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے پاس نہ وسیع سلطنتیں تھیں، نہ بے شمار خزانے، نہ جنگی سازوسامان کی فراوانی؛ لیکن ان کے سینوں میں ایمان کی حرارت، دلوں میں مقصد کی عظمت اور کردار میں ایسی پختگی تھی جس نے دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ ان کی اصل قوت محض تلوار نہیں، بلکہ وہ نظریہ تھا جس نے انسان کو انسان کا غلام بننے سے آزاد کرکے خالقِ کائنات کی بندگی سے وابستہ کیا۔
قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو ایک بلند مقصد عطا کیا:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۔
ترجمہ: ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ (البقرۃ: 143)
یہ منصب محض اعزاز نہ تھا، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی تھی۔ مسلمانوں کو اپنے کردار، عدل، دیانت اور طرزِ زندگی سے انسانیت کے سامنے حق کی شہادت پیش کرنی تھی۔ جب تک انہوں نے اس ذمہ داری کو سمجھا، ان کی زندگیوں میں مقصدیت باقی رہی اور ان کی اجتماعی قوت نے دنیا میں نمایاں اثرات مرتب کیے۔
عدل و انصاف: اقتدار کی اصل بنیاد:
مسلمانوں کے عروج کا ایک اہم سبب عدل و انصاف کا تصور تھا۔ اسلام نے حکمران کو مطلق العنان فرماں روا نہیں، بلکہ قانون اور اخلاقی ذمہ داریوں کا پابند قرار دیا۔ قرآن کا حکم ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ۔
ترجمہ: ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل: 90)
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے حکمران اور قاضی گزرے جنہوں نے ذاتی مفاد پر اجتماعی بھلائی، خاندانی تعلقات پر اصول اور طاقت کے مقابلے میں انصاف کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کو انتظامی نظم، احتساب اور عدل کی مثالوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم تاریخ کا ہر حکمران عدل و انصاف کا پیکر نہیں تھا؛ بعض ادوار میں ظلم، ملوکیت اور اقتدار کی ہوس نے اسلامی اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
اصل سبق یہ ہے کہ قومیں محض مذہبی نسبت سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت عظمت حاصل کرتی ہیں جب ان کے اجتماعی ادارے انصاف کے پابند ہوں اور ان کے حکمران جواب دہی قبول کریں۔
علم و تحقیق: تہذیبی عظمت کا روشن چراغ:
مسلمانوں کے عروج کی داستان علم و تحقیق کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ بغداد، قرطبہ، دمشق اور قاہرہ جیسے مراکز نے مختلف ادوار میں علم و فن کی ایسی محفلیں سجائیں جن سے دنیا کے علمی افق روشن ہوئے۔ ریاضی، طب، فلکیات، فلسفہ، جغرافیہ اور دیگر علوم میں مسلم اہلِ علم نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
الخوارزمی نے الجبرا کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، ابن الہیثم نے بصریات اور تجرباتی تحقیق کے میدان میں اہم کام کیا، جبکہ ابن سینا اور الرازی نے طب کی علمی روایت کو وسعت دی۔ ان اہلِ علم کی عظمت کا راز صرف ان کی مذہبی شناخت نہیں، بلکہ مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ، جستجو اور فکری محنت بھی تھی۔
مسلمانوں نے جب علم کو عزت دی، سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کی اور دنیا کے مختلف علمی ورثوں سے استفادہ کیا، تب ان کی تہذیب نے ترقی کی۔ لیکن جب مطالعے کی جگہ تقلیدِ جامد، تحقیق کی جگہ بے عملی اور علمی اختلاف کی جگہ تعصب نے لے لی تو زوال کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔
اتحاد، قربانی اور اجتماعی ذمہ داری:
عروجِ مسلمین کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ بہت سے مواقع پر مسلمانوں نے اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہوکر اجتماعی مقصد کے لئے قربانیاں دیں۔ ابتدائی اسلامی معاشرے میں اخوت، تعاون اور ایثار کی ایسی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے ایک منتشر گروہ کو منظم امت میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے اتحاد ضروری ہے، مگر اتحاد کا مطلب اختلافِ رائے کا خاتمہ نہیں؛ بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقاصد پر تعاون کرنا ہے۔ افسوس کہ آج مسلم معاشروں میں مسلکی، لسانی، نسلی، سیاسی اور علاقائی اختلافات اکثر اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ اجتماعی مفاد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ معمولی اختلافات پر باہمی الزام تراشی اور کردار کشی کا بازار گرم ہوجاتا ہے، جبکہ تعلیم، معاشی ترقی، انسانی فلاح اور سیاسی استحکام جیسے بنیادی مسائل توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔
زوال کے اسباب: جب کردار کمزور اور مقصد دھندلا گیا
مسلمانوں کا زوال کسی ایک دن، ایک واقعے یا ایک فرد کے سبب رونما نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل تاریخی عمل تھا، جس میں داخلی کمزوریوں اور خارجی عوامل دونوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
سب سے پہلا سبب اصولوں اور عملی زندگی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ ہم زبان سے سچائی، دیانت، عدل اور امانت کی بات کرتے ہیں، لیکن ان اقدار کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ عبادات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے اخلاقی تقاضوں کو بھی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اگر ایک معاشرے میں جھوٹ، رشوت، بدعنوانی، ناانصافی اور حق تلفی عام ہوجائے تو محض دعوائے عظمت اس کی حالت نہیں بدل سکتا۔
دوسرا سبب علم سے دوری اور تعلیمی کمزوری ہے۔ جس امت کے لئے پہلی وحی میں لفظ اقرأ کے ذریعے علم و قرأت کی اہمیت اجاگر ہوئی، اس کے بعض معاشروں میں آج بھی معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، فنی مہارت اور تنقیدی فکر کو مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں۔ جدید دنیا میں قوت کا سرچشمہ صرف عسکری طاقت نہیں، بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیم، ادارہ جاتی استحکام اور علمی پیداوار بھی ہیں۔ جو قوم ان میدانوں میں پیچھے رہ جائے، اس کے لئے دوسروں پر انحصار سے بچنا دشوار ہوجاتا ہے۔
تیسرا سبب قیادت کا بحران اور اداروں کی کمزوری ہے۔ جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بن جائے، جہاں میرٹ کے بجائے اقرباپروری کو فروغ ملے، اور جہاں اختلاف کرنے والوں کو دشمن سمجھا جائے، وہاں قومی صلاحیتیں ضائع ہونے لگتی ہیں۔ مضبوط قومیں محض بلند نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ شفاف اداروں، جواب دہ قیادت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہیں۔
چوتھا سبب معاشی کمزوری اور پیداواری صلاحیت کا فقدان ہے۔ تجارت، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور جدید ہنر میں مضبوطی کے بغیر سیاسی خودمختاری بھی اکثر محدود ہوجاتی ہے۔ مسلمان معاشروں کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ہنرمند بنائیں، تحقیق و اختراع کو فروغ دیں اور خیرات کے ساتھ روزگار، صنعت اور معاشی خود کفالت کے مواقع بھی پیدا کریں۔
پانچواں سبب باہمی انتشار، فرقہ واریت اور تنگ نظری ہے۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔
ترجمہ: ’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘ (الأنفال: 46)
جب اختلاف، دشمنی میں بدل جائے تو قوم کی قوت اندر ہی اندر تحلیل ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی سیاسی تقسیم، باہمی بداعتمادی، علاقائی رقابتیں اور مشترکہ مسائل پر مؤثر تعاون کی کمی بھی اس کی عالمی حیثیت کو متاثر کرتی ہیں۔
تعلیم کو اولین ترجیح دینا، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا، خواتین اور مردوں دونوں کے لئے معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا، معاشی خود کفالت پیدا کرنا، میرٹ اور احتساب کو فروغ دینا اور نوجوانوں میں تنقیدی فکر و تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا وقت کی اہم ضرورتیں ہیں۔
اسی طرح مسلکی اور سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ انسانی اور اجتماعی مقاصد پر تعاون کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے حقوق، انسانی وقار، مذہبی آزادی اور انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ایک ایسی امت جو اپنے اصولوں پر خود عمل نہیں کرتی، دنیا سے اپنے لئے احترام کا مطالبہ مؤثر انداز میں نہیں کرسکتی۔
اقبال نے اسی حقیقت کو اپنے اس شعر میں سمویا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار دائمی نہیں، عظمت موروثی نہیں اور زوال ناقابلِ علاج نہیں۔ قومیں اس وقت بلند ہوتی ہیں جب ان کے اندر ایمان کے ساتھ عمل، علم کے ساتھ تحقیق، طاقت کے ساتھ عدل اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری موجود ہو۔ اسی طرح قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے دعوے ان کے کردار سے جدا، ان کی قیادت مفاد پرست، ان کا علم محدود اور ان کی صفیں انتشار کا شکار ہوجائیں۔
مسلمانوں کے لئے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے اسلاف کتنے عظیم تھے، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کس قدر علم دوست، دیانت دار، منصف، محنتی اور باکردار ہیں۔ ماضی کا فخر اسی وقت بامعنی ہے جب وہ مستقبل کی تعمیر کے لئے محرک بنے۔
امت کی نجات نہ محض ماضی کے قصیدوں میں ہے، نہ جذباتی نعروں میں؛ اس کی نجات ایمان کی صداقت، کردار کی پاکیزگی، علم کی وسعت، اتحاد کی قوت اور مسلسل عملی جدوجہد میں مضمر ہے۔ جب مسلمان ان صفات کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو ان کے لئے عزت و وقار کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہی تاریخ کا سبق، حال کا تقاضا اور مستقبل کی امید ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

عروج مسلمین کے اسباب اور زوال امت کے عوامل

 

 

ارشد احمد ارشٓد

تاریخ کے صفحات پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے کہ وہ قوم، جس نے کبھی دنیا کی تہذیب و تمدن کو نئی جہتیں عطا کیں، جس کے علم کی روشنی سے مشرق و مغرب منور ہوئے، جس کے عدل و انصاف کی مثالیں تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کرلیں، آج اسی قوم کا ایک بڑا حصہ محکومی، پسماندگی، انتشار اور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ امت جس نے کبھی وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا، آج خود زمانے کے تھپیڑوں سے پریشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی صفات تھیں جنہوں نے مسلمانوں کو عظمت و اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا، اور وہ کون سی کمزوریاں ہیں جنہوں نے انہیں زوال و انحطاط کی گہری کھائی میں دھکیل دیا؟
اس سوال کا جواب محض ماضی کے قصیدے پڑھنے میں نہیں، بلکہ تاریخ کے آئینے میں اپنے حال کا چہرہ دیکھنے اور مستقبل کی تعمیر کے لئے درست راستہ متعین کرنے میں پوشیدہ ہے۔
عروجِ مسلمین: ایمان، کردار اور عمل کی قوت:
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے پاس نہ وسیع سلطنتیں تھیں، نہ بے شمار خزانے، نہ جنگی سازوسامان کی فراوانی؛ لیکن ان کے سینوں میں ایمان کی حرارت، دلوں میں مقصد کی عظمت اور کردار میں ایسی پختگی تھی جس نے دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ ان کی اصل قوت محض تلوار نہیں، بلکہ وہ نظریہ تھا جس نے انسان کو انسان کا غلام بننے سے آزاد کرکے خالقِ کائنات کی بندگی سے وابستہ کیا۔
قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو ایک بلند مقصد عطا کیا:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۔
ترجمہ: ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ (البقرۃ: 143)
یہ منصب محض اعزاز نہ تھا، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی تھی۔ مسلمانوں کو اپنے کردار، عدل، دیانت اور طرزِ زندگی سے انسانیت کے سامنے حق کی شہادت پیش کرنی تھی۔ جب تک انہوں نے اس ذمہ داری کو سمجھا، ان کی زندگیوں میں مقصدیت باقی رہی اور ان کی اجتماعی قوت نے دنیا میں نمایاں اثرات مرتب کیے۔
عدل و انصاف: اقتدار کی اصل بنیاد:
مسلمانوں کے عروج کا ایک اہم سبب عدل و انصاف کا تصور تھا۔ اسلام نے حکمران کو مطلق العنان فرماں روا نہیں، بلکہ قانون اور اخلاقی ذمہ داریوں کا پابند قرار دیا۔ قرآن کا حکم ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ۔
ترجمہ: ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل: 90)
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے حکمران اور قاضی گزرے جنہوں نے ذاتی مفاد پر اجتماعی بھلائی، خاندانی تعلقات پر اصول اور طاقت کے مقابلے میں انصاف کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کو انتظامی نظم، احتساب اور عدل کی مثالوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم تاریخ کا ہر حکمران عدل و انصاف کا پیکر نہیں تھا؛ بعض ادوار میں ظلم، ملوکیت اور اقتدار کی ہوس نے اسلامی اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
اصل سبق یہ ہے کہ قومیں محض مذہبی نسبت سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت عظمت حاصل کرتی ہیں جب ان کے اجتماعی ادارے انصاف کے پابند ہوں اور ان کے حکمران جواب دہی قبول کریں۔
علم و تحقیق: تہذیبی عظمت کا روشن چراغ:
مسلمانوں کے عروج کی داستان علم و تحقیق کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ بغداد، قرطبہ، دمشق اور قاہرہ جیسے مراکز نے مختلف ادوار میں علم و فن کی ایسی محفلیں سجائیں جن سے دنیا کے علمی افق روشن ہوئے۔ ریاضی، طب، فلکیات، فلسفہ، جغرافیہ اور دیگر علوم میں مسلم اہلِ علم نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
الخوارزمی نے الجبرا کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، ابن الہیثم نے بصریات اور تجرباتی تحقیق کے میدان میں اہم کام کیا، جبکہ ابن سینا اور الرازی نے طب کی علمی روایت کو وسعت دی۔ ان اہلِ علم کی عظمت کا راز صرف ان کی مذہبی شناخت نہیں، بلکہ مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ، جستجو اور فکری محنت بھی تھی۔
مسلمانوں نے جب علم کو عزت دی، سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کی اور دنیا کے مختلف علمی ورثوں سے استفادہ کیا، تب ان کی تہذیب نے ترقی کی۔ لیکن جب مطالعے کی جگہ تقلیدِ جامد، تحقیق کی جگہ بے عملی اور علمی اختلاف کی جگہ تعصب نے لے لی تو زوال کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔
اتحاد، قربانی اور اجتماعی ذمہ داری:
عروجِ مسلمین کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ بہت سے مواقع پر مسلمانوں نے اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہوکر اجتماعی مقصد کے لئے قربانیاں دیں۔ ابتدائی اسلامی معاشرے میں اخوت، تعاون اور ایثار کی ایسی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے ایک منتشر گروہ کو منظم امت میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے اتحاد ضروری ہے، مگر اتحاد کا مطلب اختلافِ رائے کا خاتمہ نہیں؛ بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقاصد پر تعاون کرنا ہے۔ افسوس کہ آج مسلم معاشروں میں مسلکی، لسانی، نسلی، سیاسی اور علاقائی اختلافات اکثر اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ اجتماعی مفاد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ معمولی اختلافات پر باہمی الزام تراشی اور کردار کشی کا بازار گرم ہوجاتا ہے، جبکہ تعلیم، معاشی ترقی، انسانی فلاح اور سیاسی استحکام جیسے بنیادی مسائل توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔
زوال کے اسباب: جب کردار کمزور اور مقصد دھندلا گیا
مسلمانوں کا زوال کسی ایک دن، ایک واقعے یا ایک فرد کے سبب رونما نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل تاریخی عمل تھا، جس میں داخلی کمزوریوں اور خارجی عوامل دونوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
سب سے پہلا سبب اصولوں اور عملی زندگی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ ہم زبان سے سچائی، دیانت، عدل اور امانت کی بات کرتے ہیں، لیکن ان اقدار کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ عبادات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے اخلاقی تقاضوں کو بھی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اگر ایک معاشرے میں جھوٹ، رشوت، بدعنوانی، ناانصافی اور حق تلفی عام ہوجائے تو محض دعوائے عظمت اس کی حالت نہیں بدل سکتا۔
دوسرا سبب علم سے دوری اور تعلیمی کمزوری ہے۔ جس امت کے لئے پہلی وحی میں لفظ اقرأ کے ذریعے علم و قرأت کی اہمیت اجاگر ہوئی، اس کے بعض معاشروں میں آج بھی معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، فنی مہارت اور تنقیدی فکر کو مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں۔ جدید دنیا میں قوت کا سرچشمہ صرف عسکری طاقت نہیں، بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیم، ادارہ جاتی استحکام اور علمی پیداوار بھی ہیں۔ جو قوم ان میدانوں میں پیچھے رہ جائے، اس کے لئے دوسروں پر انحصار سے بچنا دشوار ہوجاتا ہے۔
تیسرا سبب قیادت کا بحران اور اداروں کی کمزوری ہے۔ جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بن جائے، جہاں میرٹ کے بجائے اقرباپروری کو فروغ ملے، اور جہاں اختلاف کرنے والوں کو دشمن سمجھا جائے، وہاں قومی صلاحیتیں ضائع ہونے لگتی ہیں۔ مضبوط قومیں محض بلند نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ شفاف اداروں، جواب دہ قیادت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہیں۔
چوتھا سبب معاشی کمزوری اور پیداواری صلاحیت کا فقدان ہے۔ تجارت، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور جدید ہنر میں مضبوطی کے بغیر سیاسی خودمختاری بھی اکثر محدود ہوجاتی ہے۔ مسلمان معاشروں کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ہنرمند بنائیں، تحقیق و اختراع کو فروغ دیں اور خیرات کے ساتھ روزگار، صنعت اور معاشی خود کفالت کے مواقع بھی پیدا کریں۔
پانچواں سبب باہمی انتشار، فرقہ واریت اور تنگ نظری ہے۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔
ترجمہ: ’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘ (الأنفال: 46)
جب اختلاف، دشمنی میں بدل جائے تو قوم کی قوت اندر ہی اندر تحلیل ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی سیاسی تقسیم، باہمی بداعتمادی، علاقائی رقابتیں اور مشترکہ مسائل پر مؤثر تعاون کی کمی بھی اس کی عالمی حیثیت کو متاثر کرتی ہیں۔
تعلیم کو اولین ترجیح دینا، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا، خواتین اور مردوں دونوں کے لئے معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا، معاشی خود کفالت پیدا کرنا، میرٹ اور احتساب کو فروغ دینا اور نوجوانوں میں تنقیدی فکر و تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا وقت کی اہم ضرورتیں ہیں۔
اسی طرح مسلکی اور سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ انسانی اور اجتماعی مقاصد پر تعاون کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے حقوق، انسانی وقار، مذہبی آزادی اور انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ایک ایسی امت جو اپنے اصولوں پر خود عمل نہیں کرتی، دنیا سے اپنے لئے احترام کا مطالبہ مؤثر انداز میں نہیں کرسکتی۔
اقبال نے اسی حقیقت کو اپنے اس شعر میں سمویا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار دائمی نہیں، عظمت موروثی نہیں اور زوال ناقابلِ علاج نہیں۔ قومیں اس وقت بلند ہوتی ہیں جب ان کے اندر ایمان کے ساتھ عمل، علم کے ساتھ تحقیق، طاقت کے ساتھ عدل اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری موجود ہو۔ اسی طرح قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے دعوے ان کے کردار سے جدا، ان کی قیادت مفاد پرست، ان کا علم محدود اور ان کی صفیں انتشار کا شکار ہوجائیں۔
مسلمانوں کے لئے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے اسلاف کتنے عظیم تھے، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کس قدر علم دوست، دیانت دار، منصف، محنتی اور باکردار ہیں۔ ماضی کا فخر اسی وقت بامعنی ہے جب وہ مستقبل کی تعمیر کے لئے محرک بنے۔
امت کی نجات نہ محض ماضی کے قصیدوں میں ہے، نہ جذباتی نعروں میں؛ اس کی نجات ایمان کی صداقت، کردار کی پاکیزگی، علم کی وسعت، اتحاد کی قوت اور مسلسل عملی جدوجہد میں مضمر ہے۔ جب مسلمان ان صفات کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو ان کے لئے عزت و وقار کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہی تاریخ کا سبق، حال کا تقاضا اور مستقبل کی امید ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں