جنگ نیوز
بھارت نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جموں و کشمیر سے متعلق قراردادوں میں کیے گئے تذکروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کو بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ (MEA) نے بغداد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے دوران منظور کی گئی قراردادوں میں بھارت کے حوالے کو ’’بدنیتی پر مبنی، متعصبانہ اور غلط‘‘ قرار دیا۔ وزارت نے الزام لگایا کہ پاکستان تنظیم کے پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے فروغ کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ حصے ہیں اور سیاسی بیانات سے اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وزارت نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد خطے میں بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور رابطوں کی بہتری کا بھی ذکر کیا۔
بیان میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ وزارت نے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق زیرِ التوا معاملات میں پاکستان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے اس کی واپسی اور سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔
بھارت نے او آئی سی کی قراردادوں میں اسلاموفوبیا سمیت دیگر امور کے تذکروں پر بھی اعتراض کیا اور تنظیم کے مؤقف کی ساکھ پر سوال اٹھائے۔
واضح رہے کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بغداد میں منعقد ہوا تھا، جس میں منظور کی گئی قراردادوں میں بھارت اور جموں و کشمیر کا ذکر شامل تھا۔


