
ومل رانا
ہندوستان جیسی وسیع اور متنوع جمہوریت میں انتخابی عمل کی ساکھ کا انحصار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں بلکہ ان انتخابی فہرستوں کی درستگی، شفافیت اور اعتبار پر بھی ہوتا ہے جن کی بنیاد پر انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) نے ان معاملات کو عوامی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ووٹروں کے ناموں کے اخراج، تصدیقی طریقۂ کار اور چیف الیکشن کمشنر (CEC) کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ انتخابی حکام ووٹر فہرستوں کو درست بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ کوئی اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ اس سوال کا جواب نہ تو اداروں پر غیر مشروط اعتماد میں پوشیدہ ہے اور نہ ہی ان کے ارادوں پر بلاوجہ شبہ کرنے میں۔ اس کے لئے حقائق، قانون اور شواہد کی بنیاد پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کی قانونی بنیاد
الیکشن کمیشن کو ہندوستانی آئین کی دفعہ 324 کے تحت آئینی اختیار حاصل ہے، جبکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کے لئے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انتخابی فہرستیں جامد دستاویزات نہیں ہیں۔ نئے ووٹر بالغ ہونے کے بعد حقِ رائے دہی کے اہل بنتے ہیں، شہری اپنی رہائش تبدیل کرتے ہیں، ایک سے زیادہ اندراجات کی اصلاح ضروری ہوتی ہے اور وفات پانے والے ووٹروں کے نام حذف کیے جاتے ہیں۔ اس لئے انتخابی فہرستوں کی وقتاً فوقتاً نظرثانی ایک جائز انتظامی ذمہ داری ہے۔
بہار میں SIR سے متعلق سپریم کورٹ کا 27 مئی 2026 کا فیصلہ اس عمل کے قانونی دائرۂ کار کو سمجھنے کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے کا جائزہ لیتے وقت الیکشن کمیشن کے اختیارات اور نظرثانی کے دوران لاگو ہونے والے طریقۂ کار کے تحفظات کے حوالے سے عدالتی نتائج کو ان کے اصل تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
تاہم، کسی مجموعی عمل کی قانونی حیثیت کو ہر انفرادی فیصلے کی درستگی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ کوئی نظرثانی قانونی طور پر مجاز ہونے کے باوجود بعض معاملات میں اصلاح کی متقاضی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح محض سیاسی تنازع کسی انتظامی عمل کو غیر قانونی ثابت نہیں کرتا۔
چیف الیکشن کمشنر کے کردار اور کمیشن کے فیصلوں کا جائزہ لیتے وقت اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
درستگی کے ساتھ حقِ رائے دہی کا تحفظ
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں بنیادی چیلنج درستگی اور شمولیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ دوہرے یا نااہل اندراجات کی نشاندہی ضروری ہے، لیکن اہل ووٹروں کو انتظامی غلطیوں سے محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
کسی نام کو تصدیق کے لئے نشان زد کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اسے حتمی طور پر حذف کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مسودۂ انتخابی فہرست میں کسی نام کا موجود نہ ہونا مستقل اخراج کا ثبوت نہیں، جبکہ نظرثانی شدہ فہرست کی اشاعت بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر اہل ووٹر کا نام برقرار رکھا گیا ہے۔
لہٰذا بڑے پیمانے پر یا کسی مخصوص طبقے کو غیر متناسب طور پر متاثر کرنے والے اخراج کے دعوؤں کا جائزہ سرکاری ریکارڈ، متعلقہ مدت، نام حذف کرنے کی درج شدہ وجوہات اور دعوؤں و اعتراضات کے نتائج کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
اگر الزامات کسی مخصوص مذہبی یا سماجی برادری سے متعلق ہوں تو ان کے لئے تقابلی اعداد و شمار اور شفاف طریقۂ تجزیہ ضروری ہے۔ اعداد و شمار میں نمایاں فرق مزید تحقیقات کا جواز بن سکتا ہے، لیکن محض اس بنیاد پر دانستہ امتیازی سلوک ثابت نہیں ہوتا۔
اسی طرح کسی منظم کوشش کے حتمی ثبوت نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ انفرادی شکایات کو نظرانداز کر دیا جائے۔ ناموں کے غلط اخراج سے متعلق ہر معتبر شکایت کی جانچ ہونی چاہیے اور ثابت شدہ غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے۔
حفاظتی اقدامات اور ادارہ جاتی جوابدہی
وزارتِ قانون و انصاف نے 25 جولائی 2026 کو جاری کردہ اپنے بیان میں SIR سے متعلق متعدد حفاظتی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں تصدیق، مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کے مواقع شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس کی شرکت اور اپیل کے طریقۂ کار کی دستیابی بھی اس عمل کا جائزہ لینے میں اہمیت رکھتی ہے۔
یہ اقدامات انتخابی فہرستوں میں خامیوں کی نشاندہی اور شکایات کے ازالے کے لئے ایک طریقۂ کار فراہم کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی ان دعوؤں کا جائزہ لیتے وقت اہم ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ اس عمل میں اصلاح یا اعتراض کا کوئی موقع دستیاب نہیں۔
تاہم، باضابطہ قواعد اور ان پر عملی عمل درآمد دو الگ معاملات ہیں۔ حفاظتی اقدامات کا زمینی سطح پر مؤثر ہونا ضروری ہے۔ شہریوں کو واضح نوٹس، قابلِ رسائی طریقۂ کار اور غلط اندراج کو چیلنج کرنے کے لئے مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ بزرگوں، بے گھر افراد اور ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی رکھنے والے شہریوں کو اضافی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ساکھ کا انحصار صرف طریقۂ کار کے اعلان پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ ان پر منصفانہ اور یکساں عمل کیا جاتا ہے یا نہیں۔
کمیشن کو متعلقہ معلومات عوام کے لئے قابلِ رسائی بنانی چاہئیں، متنازع فیصلوں کی وجوہات واضح کرنی چاہئیں اور بروقت ازالے کو یقینی بنانا چاہیے۔ شفافیت ناقدین کے سامنے کوئی رعایت نہیں بلکہ جوابدہ انتظامیہ کا بنیادی تقاضا ہے۔
غلط معلومات اور عوامی بحث کی ذمہ داری
تیز رفتار ڈیجیٹل ابلاغ کے دور میں انتخابی تنازعات نامکمل اعداد و شمار، گمراہ کن اسکرین شاٹس اور سیاق و سباق کے بغیر پھیلائے جانے والے دعوؤں کے ذریعے بآسانی مسخ ہو سکتے ہیں۔ مسودۂ فہرست میں کسی تضاد کو حتمی اخراج قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ کسی مقامی مسئلے کو پورے انتخابی نظام کے خلاف الزام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایسے دعوؤں کو تسلیم شدہ حقائق کے طور پر پیش کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے۔
تاہم، غلط معلومات کی اصطلاح کو الیکشن کمیشن پر ہونے والی ہر تنقید کو مسترد کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اپنے نام غائب ہونے کی شکایت کرنے والے شہری حقیقی انتظامی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جبکہ صحافیوں اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کریں۔
مناسب طرزِ عمل شواہد پر مبنی جانچ ہے۔ خبروں میں دستاویزات کی صداقت اور تاریخ کی تصدیق، متعلقہ انتخابی رجسٹریشن حکام سے رابطہ اور ثابت شدہ حقائق کو غیر حل شدہ الزامات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی جماعتوں کو قیاس آرائی کے بجائے اپنے دعوؤں کے حق میں شواہد پیش کرنے چاہئیں۔ میڈیا کو ایسے سنسنی خیز عنوانات سے گریز کرنا چاہیے جو غیر ثابت شدہ الزامات کو حقائق کے طور پر پیش کریں۔ اسی طرح سرکاری بیانات کو بھی تنقیدی جائزے کے بغیر شائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
جہاں شواہد کسی دعوے کی تائید کریں، وہاں اسے واضح طور پر بیان کیا جائے، اور جہاں شواہد نامکمل ہوں، وہاں اس غیر یقینی صورتِ حال کا اعتراف کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر اور عدالتی فیصلوں کی درست تشریح
چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ انتخابی عمل میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لئے اس پر جائز سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ تاہم، CEC کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ نتائج سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
کسی درخواست کا عدالت میں دائر ہونا اس میں لگائے گئے الزامات کو درست ثابت نہیں کرتا۔ اسی طرح عبوری راحت دینے سے انکار کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی تنازع کے تمام پہلوؤں کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ عدالتی کارروائیوں کی رپورٹنگ ان کی حقیقی صورتِ حال کے مطابق ہونی چاہیے اور عدالت سے ایسے نتائج منسوب نہیں کیے جانے چاہئیں جن تک وہ پہنچی ہی نہ ہو۔
یہی اصول ان عدالتی فیصلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو الیکشن کمیشن کے قانونی اختیارات کی تائید کرتے ہیں۔ ایسے نتائج کو اہمیت دی جانی چاہیے، لیکن انہیں بعد کے ہر انتظامی فیصلے کی غیر مشروط منظوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
اداروں کی ساکھ درست رپورٹنگ، مدلل وضاحت اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے آمادگی سے محفوظ رہتی ہے۔ نہ خودکار مذمت عوامی مفاد میں ہے اور نہ غیر مشروط دفاع۔
بحث کے مرکز میں شہری
انتخابی عمل کی سالمیت کا حتمی پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر پا رہے ہیں یا نہیں۔
ووٹروں کو چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن کے سرکاری Voters’ Service Portal پر اپنے اندراج کی تصدیق کریں اور نام غائب ہونے یا تفصیلات میں غلطی کی صورت میں متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر سے رابطہ کریں۔ انہیں متعلقہ درخواستوں، مقررہ مدت اور دستیاب قانونی چارہ جوئی کے بارے میں تازہ سرکاری ہدایات بھی دیکھنی چاہئیں۔
میڈیا ادارے اور سماجی تنظیمیں مقامی زبانوں میں ان طریقۂ کار کی وضاحت کرکے اور حقیقی شکایات کو دستاویزی شکل دے کر شہریوں کی مدد کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ذاتی معلومات کے تحفظ کا خیال رکھا جائے۔
SIR کی بحث کو الیکشن کمیشن کے دفاع اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے درمیان مقابلہ نہیں بننا چاہیے۔ ایک فعال جمہوریت کے لئے دونوں مقاصد ضروری ہیں۔ درست انتخابی فہرستیں اور ہر اہل شہری کی شمولیت ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
بالآخر، حقائق پر مبنی طرزِ بحث نہ تنقید کو خاموش کرتا ہے اور نہ ہی اداروں کو پہلے سے قصوروار قرار دیتا ہے۔ یہ قانونی اختیارات کا جائزہ لیتا ہے، الزامات کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھتا ہے، جائز حفاظتی اقدامات کو تسلیم کرتا ہے اور ثابت شدہ غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔
جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اداروں کا جائزہ شواہد کی بنیاد پر لیا جائے، الزامات کی منصفانہ جانچ ہو اور ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کو اولین اہمیت دی جائے۔


