
عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
’’بالآخر‘‘ اردو کے مشہور مزاح نگار مجتبیٰ حسین کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ 141 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنف کے 17 چھوٹے بڑے مضامین شامل ہیں۔ یہ مجموعہ پہلی بار 1982ء میں شائع ہوا۔ اس سے قبل مصنف کے مزاحیہ مضامین کے چار مجموعے منظرِ عام پر آ چکے تھے۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مجتبیٰ حسین نے پہلے چار مجموعوں کی طرح اس کتاب کا دیباچہ بھی ’’بالآخر‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ وہ اپنی مزاح نگاری کے بارے میں مختصراً لکھتے ہیں:
’’خوش دلی، خوش وقتی اور خوش مذاقی کو زندگی کے لئے ضروری سمجھتا ہوں اور یہ مضامین اسی جذبے کے تحت لکھے گئے ہیں۔‘‘
زیرِ تبصرہ کتاب کا پہلا مزاحیہ مضمون ’’اردو کا آخری قاری‘‘ ہے۔ دس صفحات پر مشتمل اس مضمون میں مصنف نے اردو زبان کی زبوں حالی اور اردو دان طبقے کی اس زبان سے بے توجہی کو بیان کرتے ہوئے اردو کے ان نام نہاد شعرا اور ادبا کو طنز کا نشانہ بنایا ہے، جنہوں نے اردو جیسی عام فہم اور لوگوں کے دل و جان سے قریب تر زبان کو قاری سے کوسوں دور کر دیا ہے۔
’’میں برسوں سے آپ کی حکایات پڑھتا رہا، کچھ سمجھ نہ آیا۔ مجھے بتایا گیا کہ اب ادب میں ذات کے کرب کا اظہار ضروری ہو گیا ہے۔ میں نے شعر پڑھنا چاہا تو مجھے عجیب و غریب علامتیں دی گئیں، میں نے افسانہ پڑھنا چاہا تو نفسیات میرے آگے بڑھا دی گئی، نظم پڑھنی چاہی تو تنہائی کا زہر میری ذات میں گھولا گیا۔‘‘
متوسط طبقے کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ وہ نہ تو نچلے طبقے کے ساتھ سمجھوتہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اعلیٰ طبقے کے معیارِ زندگی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ جب بھی اس نے اعلیٰ طبقے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی تو نہ صرف اپنی ساخت کھو بیٹھا، بلکہ اکثر اوقات سماج میں جھوٹی شان، تکلف، بناوٹ اور دیکھا دیکھی جیسی برائیوں کو بھی جنم دیا۔
’’برف کی الماری‘‘، جسے اعلیٰ طبقے میں ریفریجریٹر (Refrigerator) اور متوسط طبقے میں فریج (Fridge) کے نام سے جانا جاتا ہے، میں مصنف نے طبقاتی کشمکش کو نہایت لطیف انداز میں پیش کرتے ہوئے متوسط طبقے کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔
’’متوسط طبقے کا باعزت اور شریف آدمی پہلے ریفریجریٹر کا پیٹ بھرتا ہے اور بعد میں اپنے پیٹ کی طرف توجہ کرتا ہے۔‘‘
وہم، بزدلی اور توہم پرستی کو ہم ہندوستانیوں سے کون الگ کر سکتا ہے؟ جب بھی ہم پر کوئی آفت ٹوٹ پڑتی ہے تو ہم تقدیر کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ ’’سورج گہن کی یاد میں‘‘ نامی مضمون میں مصنف نے فروری 1982ء کے سورج گہن سے متعلق حادثات و واقعات کو ہنستے ہنساتے بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کی نفسیات، سورج اور چاند کو لگنے والے گہن، علم و ادب، سائنس، قوموں کی حالت، سیاست اور انسانوں کی تقدیروں پر لگنے والے گہن کو بھی نہایت خوب صورت انداز میں پیش کیا ہے۔
’’ہمارے معاشرے کی خرابی یہ ہے کہ جب بھی زمین پر کوئی آفت آتی ہے تو ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ تبھی تو ہمارے ملک میں سوشلزم نہیں آ رہا ہے۔ کھانا نہیں ملتا تو آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، بیوی سے جھگڑا ہوتا ہے تو تب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ زمین سے ہم نے اپنا رشتہ جوڑا ہی نہیں۔ ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، ستاروں کی گردش سے ہوتا ہے۔ ستارے چکر کھاتے ہیں تو ہمارا گھن چکر شروع ہوتا ہے۔‘‘
اس مضمون میں اگرچہ مصنف نے گھات لگا کر شکار کھیلنے کی کوشش کی ہے، تاہم ایک بیدار ذہن قاری کو مصنف کی ذات پر سے بھی کئی پردے سرکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان کی شخصیت کسی حد تک نمایاں ہو جاتی ہے۔
’’میرے پتے سے لوگوں کو‘‘ اور ’’کالونی میں رہنا‘‘ دو ایسے خوب صورت مضامین ہیں جن میں جدید سماج میں رہنے والے ان لوگوں کی حالتِ زار کو نہایت دردمندانہ اور ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے، جن کی کل کائنات 10 بائی 10 فٹ کے ایک کمرے میں سمٹ کر رہ گئی ہے اور جو بھیڑ بھاڑ والی کالونیوں میں رہتے ہوئے نہ صرف اپنی عادات و اطوار بلکہ اپنی شناخت بھی کھو چکے ہیں۔
کتاب میں شامل ایک اور دلچسپ مضمون ’’خدا کی قدرت‘‘ ہے۔ یہ مضمون مزاحیہ کم اور طنزیہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس میں ایک ایسے شخص کی ذات کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے جو راتوں رات نہ جانے کس طرح اور کیوں کر لکھ پتی بن جاتا ہے اور نہ صرف اپنے دوستوں بلکہ پورے سماج کے سامنے جھوٹی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن یہ نہیں جانتا کہ دولت کس طرح خرچ کی جاتی ہے۔
مذکورہ مضامین کے علاوہ زیرِ تبصرہ کتاب میں چند اور دلچسپ مضامین بھی شامل ہیں، جن میں ’’ایک شاعر کی رننگ کمنٹری‘‘، ’’قصہ آرام کرسی کا‘‘ اور ’’داد بیداد‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
طنزیہ اور مزاحیہ ادب اگرچہ وقتی مسائل اور حادثات کی پیداوار ہوتا ہے، تاہم ایک پختہ ذہن، حساس دل اور کامیاب ادیب ان مسائل اور حادثات سے متاثر ہو کر جو ادبِ لطیف تخلیق کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنے عہد کے لئے باعثِ سرور و انبساط ہوتا ہے بلکہ اس میں سماج کے مختلف اندازِ فکر رکھنے والے لوگوں کے جذبات، احساسات اور حالات کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب کے اکثر مضامین اگرچہ وقتی واقعات سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں، مثلاً ’’ڈاکٹر کا کتا‘‘، ’’ایک شاعر کی رننگ کمنٹری‘‘، ’’کیلنڈر جمع کرنے والے‘‘ اور ’’سورج گہن کی یاد میں‘‘، تاہم یہ مضامین بظاہر ہلکے پھلکے ہونے کے باوجود مجتبیٰ حسین کے قلم سے حیاتِ جاودانی حاصل کر چکے ہیں۔ مثلاً:
’’کالونی برطانیہ کی ہو یا ہاؤسنگ کی، دونوں کا مقصد عوام کو تکلیف پہنچانا ہے۔‘‘
’’اگر ہم نے ون، ٹو، تھری، فور، فائیو والے مصرعے کی داد دی تو کوئی غلط کام نہیں کیا، کیونکہ اب ہر بے ہنگم بات پر مصرعے کا گمان ہوتا ہے۔‘‘
زندگی کی تلخ حقیقتوں کو ہنستے ہنساتے بیان کرنا، غم آلود کیفیات کو متبسم انداز میں پیش کرنا، قاری کو مختلف مسائل کی طرف متوجہ کرنا اور اسے گوناگوں مسائل کا احساس دلانا، بات سے بات پیدا کرنا، ایک چھوٹی سی بات کے کئی زاویے نکالنا اور نئی نئی راہیں دریافت کرنا مجتبیٰ حسین کی سب سے بڑی خوبیاں ہیں۔
’’اردو ادیب کے حالاتِ زندگی اس کے مرنے کے بعد بہت بہتر ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’ایک کمرے کی زندگی گزارتے گزارتے آدمی کی دماغی حالت بھی ایک کمرہ ہو کر رہ جاتی ہے۔‘‘
جب ہم مصنف کے پہلے مجموعے ’’تکلف برطرف‘‘ اور زیرِ تبصرہ مجموعے کا تقابل کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی اشاعت کے درمیان بارہ سال کا وقفہ ہونے کے باوجود اکثر مضامین میں ایک ہی خاص طبقے کو مختلف انداز سے نشانۂ تمسخر بنایا گیا ہے۔ مثلاً پہلے مجموعے میں ’’تکیہ کلام‘‘، ’’علامہ نارسا کی وفات‘‘، ’’مجھے میرے دھوبی سے بچاؤ‘‘، ’’ہم طرفدار ہیں غالب کے‘‘، ’’سڑک اور شاعر‘‘ اور ’’ادیبوں کے پریم پتر‘‘ جیسے مضامین شعرا اور ادبا کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح زیرِ تبصرہ کتاب میں ’’اردو کا آخری قاری‘‘، ’’ایک شاعر کی رننگ کمنٹری‘‘، ’’داد بیداد‘‘ اور ’’بلرام ورما‘‘ جیسے مضامین میں بھی وہی باتیں ملتی ہیں جو پہلے مجموعے میں بیان کی گئی ہیں۔
نہ جانے مصنف اسی طبقے کے لوگوں سے اس قدر نالاں کیوں ہیں؟ کہیں انہیں اس طبقے کی بڑھتی ہوئی فوج سے خوف تو محسوس نہیں ہوتا؟
جہاں تک زیرِ تبصرہ کتاب کی زبان کا تعلق ہے، وہ عام فہم، شستہ، رواں اور پرلطف ہے۔ مختلف مقامات پر محاورات اور لطائف کا برجستہ استعمال کیا گیا ہے۔ مجتبیٰ حسین ایک کامیاب مزاح نگار ہی نہیں بلکہ لفظوں کے بازیگر بھی ہیں۔ وہ الفاظ کے الٹ پھیر سے واقعات کو توڑ مروڑ کر مزاح پیدا کرتے ہیں۔ ان کے یہاں طنز کے برہنہ وار کہیں نہیں ملتے، بلکہ ان کا اندازِ بیان مفکرانہ اور ہمدردانہ ہے۔
وہ عملی مذاق کے عادی ہیں، چنانچہ زیرِ تبصرہ کتاب میں شامل مضامین کی ترتیب میں بھی انہوں نے عملی مذاق کا ثبوت دیا ہے۔ جس ترتیب سے صفحۂ اول پر ان مضامین کو دکھایا گیا ہے، کتاب کے اندر وہ اس ترتیب سے موجود نہیں ہیں۔
جہاں تک کتاب کی طباعت، کاغذ اور گٹ اَپ کا تعلق ہے، کاغذ اس قدر نازک اور ملائم ہے کہ وہ سیاہی کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے مجتبیٰ حسین کے خیالات کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔


