جموں و کشمیر، سٹیٹ سبجیکٹ اور 370 سے 371 کا سفر

 

 

رشید پروین
سوپور، کشمیر

لداخ کے بارے میں ایک اہم بیان سامنے آچکا ہے اور اس بیان کی اہمیت و افادیت کا سبھی لوگ اندازہ کرسکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ آغا روح اللہ، ممبر پارلیمنٹ، نے بھی ایک اور اعلان کرکے کشمیر کی سیاست میں تھرتھلی مچا دی ہے۔ دونوں بیانات کی صدائے بازگشت اگرچہ ابھی تک باقی ہے اور میرے خیال میں یہ دونوں باتیں بڑی اہم بھی تھیں، لیکن یہ ہوائیں اتنی دھول نہیں اٹھا پائیں جتنی کہ ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔
پہلی بات یہ کہ نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان سید آغا روح اللہ نے این سی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے بڑی سوچ و فکر کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا، کیونکہ دیکھا جائے تو اپنے آپ کو بہت ساری مراعات سے محروم کرنے کا عمل بہت کم لوگ کرسکتے ہیں۔ بہرحال، انہوں نے جو وضاحت اس بارے میں دی ہے، وہ یہ ہے کہ این سی نے دفعہ 370 کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کی ہے اور بقولِ آغا صاحب، انہوں نے عوام سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف ہی نہیں کیا بلکہ عوام سے دھوکا بھی کیا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں 370 کی بحالی کے وعدے کیے تھے، یا اس کے لئے مسلسل تگ و دو کا وعدہ کیا تھا، جسے وہ نبھا نہیں پائے اور اپنی کرسی پر ہر حال میں براجمان رہنے ہی کو ترجیح دی ہے۔ یہ بھی کہ اب وہ کھلم کھلا اپنی معذوری، لاچاری اور بے بسی کا اظہار کرتے پھر رہے ہیں۔
پہلے یہ بات کہ این سی نے 1947 سے اب تک اپنے کس وعدے کو نبھایا ہے؟ عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق کب فیصلے کیے ہیں اور عوام کی مرضی و منشا کو کب اپنے فیصلوں میں شامل رکھا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت نے قدم قدم پر اپنے عوام کا استحصال کیا ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ یہ آج کے حالات میں اس کا مکافاتِ عمل ہے، لیکن پھر بھی یہ لوگ کسی بھی صورت اور کسی بھی حالت میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہیں گے۔
آغا صاحب کو ان کی تاریخ کا علم ضرور ہوگا۔ ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر ان کی کہانی اظہر من الشمس ہے، اگر ان کا سارا کردار حرف بہ حرف تاریخ میں رقم ہے، تو کیا آپ کو معلوم نہیں تھا؟ پھر آپ اس جماعت میں کیوں رہے اور پھر اسی جماعت کے مینڈیٹ پر ممبر پارلیمان بھی ہوئے؟ اور اب آج آپ کو اس بات کا شدت سے کیسے اور کیوں احساس ہوا ہے کہ یہ لوگ یا تنظیم عوام سے فریب کررہی ہے، عوامی خواہشات اور مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈال رہی ہے اور محض اپنے مفادات کی خاطر ہر دور میں یہاں اقتدار پر براجمان ہوئی ہے؟
مختصر یہ کہ اس خاندان نے اپنی شروعات سے لے کر اب تک جو حال کشمیری عوام اور اس سابقہ ریاست کے ساتھ کیا ہے، وہ مہاراجاؤں نے نہیں کیا تھا، بلکہ وہ جموں و کشمیر اور لداخ کو متحد رکھنے میں کامیاب بھی رہے تھے۔ یہاں صرف ایک جملہ کہ جب 5 اگست 2019 کو اس سابقہ ریاست کا اسٹیٹس abrogate کیا گیا تھا تو امیت شاہ نے ایک بڑی سچی بات کی تھی کہ ’’اب اس میں رہا کیا تھا، یہ تو پہلے سے کھوکھلی تھی، ظاہر ہے کہ ہم نے صرف ملبہ صاف کیا ہے۔‘‘
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی خاندان نے اسپیشل اسٹیٹس کے پہلے ٹکڑے کیے اور پھر آہستہ آہستہ، ضرورت کے مطابق، انہیں اقتدار کی خاطر بیچتے رہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دیکھا دیکھی دوسرے گدھ بھی اس جسم سے تھوڑا تھوڑا گوشت نوچنے میں کامیاب رہے، لیکن شروعات اسی خاندان نے کی تھی۔ اس لئے آغا روح اللہ کی منطق میں ہمیں کوئی دم نہیں لگتا، کچھ اور ہی عزائم ہوسکتے ہیں۔
بہرحال، دوسری اہم بات یا اعلان یہ ہوا کہ لداخ کو مرکز کی جانب سے 371 کے تحت خصوصی انتظامات کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ 370 اور 371 کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو ہوئی تھی اور ریاست کو دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا: جموں و کشمیر اور لداخ۔
لداخ کے لئے یہ خوش آئند اور مسرت کی بات تھی کہ انہیں کشمیر سے ایک براہِ راست انتظامی شناخت مل گئی تھی، لیکن پچھلے ان برسوں میں لداخ کی عوامی سوچ اس بات پر متفق اور متحد ہوئی کہ ان کے لئے اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس سے بڑا مسئلہ جس سے وہ اب دوچار ہیں، وہ زمین، روزگار اور آبادی، ماحولیاتی اور مقامی شناخت کا تحفظ ہے۔ یہ وہ مسائل تھے یا سوچ و فکر تھی جس نے لداخی عوام اور رہنماؤں کو ایک صفحے پر کھڑا کرکے ان مطالبات کو منوانے کے لئے آمادہ کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے لئے آئین کی دفعہ 371 کے تحت accommodate کرنے کے اشارے دیے جاچکے ہیں۔
کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ یہ لگ بھگ مہاراجہ دور کے سٹیٹ سبجیکٹ کی ڈپلیکیٹ کاپی ہے؟ یا ان مطالبات میں ’’منسوخ شدہ سٹیٹ سبجیکٹ‘‘ ہی کی روح بول رہی یا دکھائی دے رہی ہے؟ اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں 370 اور 371 کو مختصر طور پر سمجھا جائے کہ آخر یہ چیز کیا ہیں۔
1927 Notifications: مہاراجہ ہری سنگھ نے سٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کا مقصد مقامی ملازمتوں اور زمین کو بیرونی افراد سے تحفظ فراہم کرنا تھا اور مقامی باشندوں (mulki) اور غیر مقامی افراد (gair-mulki) کے درمیان امتیاز قائم کرنا تھا۔
ظاہر ہے، سٹیٹ سبجیکٹ مہاراجہ ہری سنگھ کا نافذ کردہ قانون تھا، جس کی رو سے کوئی غیر ملکی یہاں زمین یا جائیداد نہیں خرید سکتا تھا اور نہ ہی کسی غیر ملکی کے لئے یہاں کہیں بھی ملازمت کے دروازے کھلے تھے۔
370 کو بھارتی آئین کے Part XXI میں شامل کیا گیا تھا، جس کا عنوان ’’Temporary, Transitional and Special Provisions‘‘ تھا۔ اس کے تحت جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ طے کرے کہ بھارتی آئین کی کس حد تک ریاست پر اطلاق ہوگا۔ ریاستی اسمبلی دفعہ 370 کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش بھی کرسکتی تھی، جس کے بعد بھارتی آئین کی تمام دفعات ریاست پر لاگو ہوجاتیں۔
الحاق کی روح کے مطابق دفاع، مواصلات اور خارجہ امور—یہ صرف تین شعبے تھے جنہیں دفعہ 370 کے تحت بھارتی آئین میں باضابطہ طور پر درج کیا گیا۔ اس میں یہ بھی واضح تھا کہ ریاست کا اسپیشل اسٹیٹس ہوگا: (1) اپنا آئین، (2) اپنا جھنڈا، اور (3) خود مختاری۔
آئین میں موجود اس پیراگراف سے یہ واضح ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں اسپیشل مقام اور خصوصی حیثیت 5 اگست 2019 تک حاصل تھی، اور یہ اس ریاست کا آئینی حق ہی نہیں بلکہ انہی شرائط کے تحت الحاقِ ہند ممکن ہوسکا تھا۔
370 ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کی عارضی شرائط:
(الف) بھارتی آئین کی دفعہ 238 کی شرائط کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہوگا۔
(ب) ایسے معاملات جو وفاقی فہرست میں شامل ہیں، یعنی دستاویزِ الحاق کی رو سے تسلیم شدہ ہیں، کے حوالے سے وہ قوانین جنہیں لاگو کرنا صدرِ ہند کے دائرۂ اختیار میں ہے، ریاستی حکومت کی وساطت سے ہی لاگو کیے جاسکتے ہیں۔
(ج) ایسے معاملات جو ان فہرستوں میں شامل ہیں اور جن کے بارے میں ریاستی حکومت کا اشتراک ضروری ہے، ان کے حوالے سے صدرِ ہند ایک حکمنامے کے ذریعے جانکاری دیں گے۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد، جب دفعہ 370 کو abrogate کیا گیا تھا یا جب اسے ایک عارضی دفعہ قرار دیتے ہوئے ختم کیا گیا تھا، تو سپریم کورٹ میں اس عمل کے خلاف رِٹ پٹیشنیں دائر کی گئی تھیں۔ طویل عرصے کے بعد، 11 دسمبر 2023 کو پانچ رکنی بینچ نے جو متفقہ فیصلہ صادر کیا، وہ اپنے آپ میں ایک مثال تھا اور اس فیصلے نے جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کرتے ہوئے اس اسپیشل اسٹیٹس کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ ظاہر ہے کہ اسپیشل اسٹیٹس موجود تھا۔
اب یہ لازمی امر ہے کہ آئینِ ہند کی دفعہ 371 کو بھی بالکل مختصر طور پر سمجھا جائے، جس کی چھتر چھایا میں لداخ کو accommodate کرنے کی بات کی گئی ہے۔
Article 371: آئینِ ہند کی دفعہ 371 مخصوص ریاستوں کو ان کی منفرد علاقائی، ثقافتی اور ترقیاتی ضروریات کے پیشِ نظر خصوصی، عبوری اور عارضی اختیارات فراہم کرتی ہے۔ یہ بھارتی آئین کے Part XXI میں شامل ہے۔ ابتدا میں اس کا اطلاق مہاراشٹرا اور گجرات کی مخصوص ترقیاتی ضروریات کے لئے کیا گیا تھا، بعد ازاں آئینی ترامیم کے ذریعے اس کے دائرے کو مزید ریاستوں تک پھیلایا گیا۔
بالکل واضح اور صاف ہے کہ 371 آئینِ ہند میں موجود ہے، جس کی رو سے مہاراشٹرا اور گجرات کے لئے کچھ اسپیشل مراعات موجود تھیں، جنہیں بعد میں مزید بارہ ریاستوں تک پھیلایا گیا، اور اب اسی آرٹیکل کے تحت لداخ کو بھی اسی چھتر چھایا میں لینے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
اسی آئین میں 370 کے تحت جموں و کشمیر کو وہ حیثیت حاصل رہی جو 5 اگست کو abrogate ہوئی تھی، اور اس دفعہ یا اسپیشل اسٹیٹس کے بارے میں مرکز بار بار یہ بات دہرا چکا ہے اور آج بھی دہرا رہا ہے کہ یہ دفعہ ماضی کے ان اندھیروں میں دفن کی جاچکی ہے جہاں سے اس کی واپسی کبھی نہیں ہوگی۔
یہ بھی آپ کو معلوم ہی ہے کہ این سی کی منتخب شدہ عوامی حکومت وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس بارے میں نہ صرف خاموش ہے بلکہ ایک طرح سے سرنڈر کرچکی ہے۔ اب جہاں تک وہ ریاستی بحالی کی بات کرتے ہیں، یقینی طور پر یہ بھی ایک فیس سیونگ ہی ہے، نہیں تو انہیں چیف منسٹری کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے، وہ ان کے اپنے دو کمروں تک ہی محدود کیوں نہ ہو۔
کیا ان کی بھی کچھ فائلیں وغیرہ کہیں موجود ہیں جو انہیں سلاخوں کے پار پہنچانے کے لئے کافی ہیں؟ کیونکہ برصغیر میں اس پار اور اُس پار، دونوں ممالک کی موجودہ حکومتیں اپنے اقتدار کی خاطر سام، دام اور ڈنڈ کی قائل ہی نہیں بلکہ یہی ایک دستور عملاً اپنا چکی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

جموں و کشمیر، سٹیٹ سبجیکٹ اور 370 سے 371 کا سفر

 

 

رشید پروین
سوپور، کشمیر

لداخ کے بارے میں ایک اہم بیان سامنے آچکا ہے اور اس بیان کی اہمیت و افادیت کا سبھی لوگ اندازہ کرسکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ آغا روح اللہ، ممبر پارلیمنٹ، نے بھی ایک اور اعلان کرکے کشمیر کی سیاست میں تھرتھلی مچا دی ہے۔ دونوں بیانات کی صدائے بازگشت اگرچہ ابھی تک باقی ہے اور میرے خیال میں یہ دونوں باتیں بڑی اہم بھی تھیں، لیکن یہ ہوائیں اتنی دھول نہیں اٹھا پائیں جتنی کہ ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔
پہلی بات یہ کہ نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان سید آغا روح اللہ نے این سی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے بڑی سوچ و فکر کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا، کیونکہ دیکھا جائے تو اپنے آپ کو بہت ساری مراعات سے محروم کرنے کا عمل بہت کم لوگ کرسکتے ہیں۔ بہرحال، انہوں نے جو وضاحت اس بارے میں دی ہے، وہ یہ ہے کہ این سی نے دفعہ 370 کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کی ہے اور بقولِ آغا صاحب، انہوں نے عوام سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف ہی نہیں کیا بلکہ عوام سے دھوکا بھی کیا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں 370 کی بحالی کے وعدے کیے تھے، یا اس کے لئے مسلسل تگ و دو کا وعدہ کیا تھا، جسے وہ نبھا نہیں پائے اور اپنی کرسی پر ہر حال میں براجمان رہنے ہی کو ترجیح دی ہے۔ یہ بھی کہ اب وہ کھلم کھلا اپنی معذوری، لاچاری اور بے بسی کا اظہار کرتے پھر رہے ہیں۔
پہلے یہ بات کہ این سی نے 1947 سے اب تک اپنے کس وعدے کو نبھایا ہے؟ عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق کب فیصلے کیے ہیں اور عوام کی مرضی و منشا کو کب اپنے فیصلوں میں شامل رکھا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ اس جماعت نے قدم قدم پر اپنے عوام کا استحصال کیا ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ یہ آج کے حالات میں اس کا مکافاتِ عمل ہے، لیکن پھر بھی یہ لوگ کسی بھی صورت اور کسی بھی حالت میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہیں گے۔
آغا صاحب کو ان کی تاریخ کا علم ضرور ہوگا۔ ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر ان کی کہانی اظہر من الشمس ہے، اگر ان کا سارا کردار حرف بہ حرف تاریخ میں رقم ہے، تو کیا آپ کو معلوم نہیں تھا؟ پھر آپ اس جماعت میں کیوں رہے اور پھر اسی جماعت کے مینڈیٹ پر ممبر پارلیمان بھی ہوئے؟ اور اب آج آپ کو اس بات کا شدت سے کیسے اور کیوں احساس ہوا ہے کہ یہ لوگ یا تنظیم عوام سے فریب کررہی ہے، عوامی خواہشات اور مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈال رہی ہے اور محض اپنے مفادات کی خاطر ہر دور میں یہاں اقتدار پر براجمان ہوئی ہے؟
مختصر یہ کہ اس خاندان نے اپنی شروعات سے لے کر اب تک جو حال کشمیری عوام اور اس سابقہ ریاست کے ساتھ کیا ہے، وہ مہاراجاؤں نے نہیں کیا تھا، بلکہ وہ جموں و کشمیر اور لداخ کو متحد رکھنے میں کامیاب بھی رہے تھے۔ یہاں صرف ایک جملہ کہ جب 5 اگست 2019 کو اس سابقہ ریاست کا اسٹیٹس abrogate کیا گیا تھا تو امیت شاہ نے ایک بڑی سچی بات کی تھی کہ ’’اب اس میں رہا کیا تھا، یہ تو پہلے سے کھوکھلی تھی، ظاہر ہے کہ ہم نے صرف ملبہ صاف کیا ہے۔‘‘
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی خاندان نے اسپیشل اسٹیٹس کے پہلے ٹکڑے کیے اور پھر آہستہ آہستہ، ضرورت کے مطابق، انہیں اقتدار کی خاطر بیچتے رہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دیکھا دیکھی دوسرے گدھ بھی اس جسم سے تھوڑا تھوڑا گوشت نوچنے میں کامیاب رہے، لیکن شروعات اسی خاندان نے کی تھی۔ اس لئے آغا روح اللہ کی منطق میں ہمیں کوئی دم نہیں لگتا، کچھ اور ہی عزائم ہوسکتے ہیں۔
بہرحال، دوسری اہم بات یا اعلان یہ ہوا کہ لداخ کو مرکز کی جانب سے 371 کے تحت خصوصی انتظامات کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ 370 اور 371 کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو ہوئی تھی اور ریاست کو دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا: جموں و کشمیر اور لداخ۔
لداخ کے لئے یہ خوش آئند اور مسرت کی بات تھی کہ انہیں کشمیر سے ایک براہِ راست انتظامی شناخت مل گئی تھی، لیکن پچھلے ان برسوں میں لداخ کی عوامی سوچ اس بات پر متفق اور متحد ہوئی کہ ان کے لئے اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس سے بڑا مسئلہ جس سے وہ اب دوچار ہیں، وہ زمین، روزگار اور آبادی، ماحولیاتی اور مقامی شناخت کا تحفظ ہے۔ یہ وہ مسائل تھے یا سوچ و فکر تھی جس نے لداخی عوام اور رہنماؤں کو ایک صفحے پر کھڑا کرکے ان مطالبات کو منوانے کے لئے آمادہ کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے لئے آئین کی دفعہ 371 کے تحت accommodate کرنے کے اشارے دیے جاچکے ہیں۔
کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ یہ لگ بھگ مہاراجہ دور کے سٹیٹ سبجیکٹ کی ڈپلیکیٹ کاپی ہے؟ یا ان مطالبات میں ’’منسوخ شدہ سٹیٹ سبجیکٹ‘‘ ہی کی روح بول رہی یا دکھائی دے رہی ہے؟ اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہاں 370 اور 371 کو مختصر طور پر سمجھا جائے کہ آخر یہ چیز کیا ہیں۔
1927 Notifications: مہاراجہ ہری سنگھ نے سٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کا مقصد مقامی ملازمتوں اور زمین کو بیرونی افراد سے تحفظ فراہم کرنا تھا اور مقامی باشندوں (mulki) اور غیر مقامی افراد (gair-mulki) کے درمیان امتیاز قائم کرنا تھا۔
ظاہر ہے، سٹیٹ سبجیکٹ مہاراجہ ہری سنگھ کا نافذ کردہ قانون تھا، جس کی رو سے کوئی غیر ملکی یہاں زمین یا جائیداد نہیں خرید سکتا تھا اور نہ ہی کسی غیر ملکی کے لئے یہاں کہیں بھی ملازمت کے دروازے کھلے تھے۔
370 کو بھارتی آئین کے Part XXI میں شامل کیا گیا تھا، جس کا عنوان ’’Temporary, Transitional and Special Provisions‘‘ تھا۔ اس کے تحت جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ طے کرے کہ بھارتی آئین کی کس حد تک ریاست پر اطلاق ہوگا۔ ریاستی اسمبلی دفعہ 370 کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش بھی کرسکتی تھی، جس کے بعد بھارتی آئین کی تمام دفعات ریاست پر لاگو ہوجاتیں۔
الحاق کی روح کے مطابق دفاع، مواصلات اور خارجہ امور—یہ صرف تین شعبے تھے جنہیں دفعہ 370 کے تحت بھارتی آئین میں باضابطہ طور پر درج کیا گیا۔ اس میں یہ بھی واضح تھا کہ ریاست کا اسپیشل اسٹیٹس ہوگا: (1) اپنا آئین، (2) اپنا جھنڈا، اور (3) خود مختاری۔
آئین میں موجود اس پیراگراف سے یہ واضح ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں اسپیشل مقام اور خصوصی حیثیت 5 اگست 2019 تک حاصل تھی، اور یہ اس ریاست کا آئینی حق ہی نہیں بلکہ انہی شرائط کے تحت الحاقِ ہند ممکن ہوسکا تھا۔
370 ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کی عارضی شرائط:
(الف) بھارتی آئین کی دفعہ 238 کی شرائط کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہوگا۔
(ب) ایسے معاملات جو وفاقی فہرست میں شامل ہیں، یعنی دستاویزِ الحاق کی رو سے تسلیم شدہ ہیں، کے حوالے سے وہ قوانین جنہیں لاگو کرنا صدرِ ہند کے دائرۂ اختیار میں ہے، ریاستی حکومت کی وساطت سے ہی لاگو کیے جاسکتے ہیں۔
(ج) ایسے معاملات جو ان فہرستوں میں شامل ہیں اور جن کے بارے میں ریاستی حکومت کا اشتراک ضروری ہے، ان کے حوالے سے صدرِ ہند ایک حکمنامے کے ذریعے جانکاری دیں گے۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد، جب دفعہ 370 کو abrogate کیا گیا تھا یا جب اسے ایک عارضی دفعہ قرار دیتے ہوئے ختم کیا گیا تھا، تو سپریم کورٹ میں اس عمل کے خلاف رِٹ پٹیشنیں دائر کی گئی تھیں۔ طویل عرصے کے بعد، 11 دسمبر 2023 کو پانچ رکنی بینچ نے جو متفقہ فیصلہ صادر کیا، وہ اپنے آپ میں ایک مثال تھا اور اس فیصلے نے جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کرتے ہوئے اس اسپیشل اسٹیٹس کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔ ظاہر ہے کہ اسپیشل اسٹیٹس موجود تھا۔
اب یہ لازمی امر ہے کہ آئینِ ہند کی دفعہ 371 کو بھی بالکل مختصر طور پر سمجھا جائے، جس کی چھتر چھایا میں لداخ کو accommodate کرنے کی بات کی گئی ہے۔
Article 371: آئینِ ہند کی دفعہ 371 مخصوص ریاستوں کو ان کی منفرد علاقائی، ثقافتی اور ترقیاتی ضروریات کے پیشِ نظر خصوصی، عبوری اور عارضی اختیارات فراہم کرتی ہے۔ یہ بھارتی آئین کے Part XXI میں شامل ہے۔ ابتدا میں اس کا اطلاق مہاراشٹرا اور گجرات کی مخصوص ترقیاتی ضروریات کے لئے کیا گیا تھا، بعد ازاں آئینی ترامیم کے ذریعے اس کے دائرے کو مزید ریاستوں تک پھیلایا گیا۔
بالکل واضح اور صاف ہے کہ 371 آئینِ ہند میں موجود ہے، جس کی رو سے مہاراشٹرا اور گجرات کے لئے کچھ اسپیشل مراعات موجود تھیں، جنہیں بعد میں مزید بارہ ریاستوں تک پھیلایا گیا، اور اب اسی آرٹیکل کے تحت لداخ کو بھی اسی چھتر چھایا میں لینے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
اسی آئین میں 370 کے تحت جموں و کشمیر کو وہ حیثیت حاصل رہی جو 5 اگست کو abrogate ہوئی تھی، اور اس دفعہ یا اسپیشل اسٹیٹس کے بارے میں مرکز بار بار یہ بات دہرا چکا ہے اور آج بھی دہرا رہا ہے کہ یہ دفعہ ماضی کے ان اندھیروں میں دفن کی جاچکی ہے جہاں سے اس کی واپسی کبھی نہیں ہوگی۔
یہ بھی آپ کو معلوم ہی ہے کہ این سی کی منتخب شدہ عوامی حکومت وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس بارے میں نہ صرف خاموش ہے بلکہ ایک طرح سے سرنڈر کرچکی ہے۔ اب جہاں تک وہ ریاستی بحالی کی بات کرتے ہیں، یقینی طور پر یہ بھی ایک فیس سیونگ ہی ہے، نہیں تو انہیں چیف منسٹری کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے، وہ ان کے اپنے دو کمروں تک ہی محدود کیوں نہ ہو۔
کیا ان کی بھی کچھ فائلیں وغیرہ کہیں موجود ہیں جو انہیں سلاخوں کے پار پہنچانے کے لئے کافی ہیں؟ کیونکہ برصغیر میں اس پار اور اُس پار، دونوں ممالک کی موجودہ حکومتیں اپنے اقتدار کی خاطر سام، دام اور ڈنڈ کی قائل ہی نہیں بلکہ یہی ایک دستور عملاً اپنا چکی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں