مرحوم نشاط انصاری کی حیات اور ادبی خدمات پر سوپور میں سمپوزیم

جنگ نیوز ڈیسک

جمیل انصاری// جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز نے دایرہ ادب دلنہ کے اشتراک سے گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں معروف کشمیری شاعر، ادیب، نقاد، ماہرِ تعلیم اور مترجم مرحوم نشاط انصاری کی حیات، شخصیت اور ہمہ جہت ادبی خدمات کے حوالے سے ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا۔
تقریب کو دو نشستوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں پہلی نشست علمی و افتتاحی جبکہ دوسری شعری محفل پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست کی صدارت فیاض تلگامی نے کی، جبکہ شہناز رشید مہمانِ خصوصی اور شیخ غلام محمد مہمانِ ذی وقار تھے۔ جاوید اقبال خان، مدیرِ کشمیری شیرازہ، بھی صدارتی پینل میں شامل تھے، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر گلزار احمد راتھر (اسسٹنٹ ایڈیٹر کشمیری) نے انجام دیے۔
جاوید اقبال خان نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کشمیری ادب کی اہم شخصیات کی خدمات کو یاد کرنے اور ان کے کام کے ازسرِنو تنقیدی مطالعے کی ضرورت پر زور دیا۔ شہناز رشید اور شیخ غلام محمد نے مرحوم نشاط انصاری کی ادبی، فکری، تعلیمی اور ترجمہ نگاری کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے ادبی ورثے کی تحقیق، تدوین اور دستاویز بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہد دلنوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے نشاط انصاری کی شاعری اور نثر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا، جبکہ شوکت شان نے ایک تحقیقی مقالے میں ان کی ادبی خدمات اور تخلیقی حسیت پر روشنی ڈالی۔ فیاض تلگامی نے کہا کہ کسی ادیب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ اس کے کام کو مسلسل پڑھنا، تحقیق کا موضوع بنانا اور تنقیدی طور پر زیرِ بحث لانا ہے۔
دوسری نشست کی صدارت شبیر احمد شبیر نے کی۔ عبدالخالق شمس مہمانِ خصوصی جبکہ رشید کانسپوری مہمانِ ذی وقار تھے۔ دایرہ ادب دلنہ کے صدر محمدافضل افضل اور شیر علی مشغول بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔
مشاعرے میں اظہار الحق، شہنواز حسین میر، نگہت نسرین، قاضی حافظ دلنوی، فیاض آزاد، شیر علی مشغول، علی محمد حسرت، شیر علی مشغول، سرور ہاشمی اور ضمیر انصاری نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر جناب ضمیر انصاری، رکن دایرہ ادب دلنہ، نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور تمام مہمانوں، مقررین، شعرا، اساتذہ، طلبہ اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، دایرہ ادب دلنہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور کے تعاون اور میزبانی کو بھی سراہا۔
سمپوزیم میں مرحوم نشاط انصاری کی بطور شاعر، ادیب، ماہرِ تعلیم اور مترجم ہمہ جہت خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

مرحوم نشاط انصاری کی حیات اور ادبی خدمات پر سوپور میں سمپوزیم

جنگ نیوز ڈیسک

جمیل انصاری// جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز نے دایرہ ادب دلنہ کے اشتراک سے گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں معروف کشمیری شاعر، ادیب، نقاد، ماہرِ تعلیم اور مترجم مرحوم نشاط انصاری کی حیات، شخصیت اور ہمہ جہت ادبی خدمات کے حوالے سے ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا۔
تقریب کو دو نشستوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں پہلی نشست علمی و افتتاحی جبکہ دوسری شعری محفل پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست کی صدارت فیاض تلگامی نے کی، جبکہ شہناز رشید مہمانِ خصوصی اور شیخ غلام محمد مہمانِ ذی وقار تھے۔ جاوید اقبال خان، مدیرِ کشمیری شیرازہ، بھی صدارتی پینل میں شامل تھے، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر گلزار احمد راتھر (اسسٹنٹ ایڈیٹر کشمیری) نے انجام دیے۔
جاوید اقبال خان نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کشمیری ادب کی اہم شخصیات کی خدمات کو یاد کرنے اور ان کے کام کے ازسرِنو تنقیدی مطالعے کی ضرورت پر زور دیا۔ شہناز رشید اور شیخ غلام محمد نے مرحوم نشاط انصاری کی ادبی، فکری، تعلیمی اور ترجمہ نگاری کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے ادبی ورثے کی تحقیق، تدوین اور دستاویز بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہد دلنوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے نشاط انصاری کی شاعری اور نثر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا، جبکہ شوکت شان نے ایک تحقیقی مقالے میں ان کی ادبی خدمات اور تخلیقی حسیت پر روشنی ڈالی۔ فیاض تلگامی نے کہا کہ کسی ادیب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ اس کے کام کو مسلسل پڑھنا، تحقیق کا موضوع بنانا اور تنقیدی طور پر زیرِ بحث لانا ہے۔
دوسری نشست کی صدارت شبیر احمد شبیر نے کی۔ عبدالخالق شمس مہمانِ خصوصی جبکہ رشید کانسپوری مہمانِ ذی وقار تھے۔ دایرہ ادب دلنہ کے صدر محمدافضل افضل اور شیر علی مشغول بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔
مشاعرے میں اظہار الحق، شہنواز حسین میر، نگہت نسرین، قاضی حافظ دلنوی، فیاض آزاد، شیر علی مشغول، علی محمد حسرت، شیر علی مشغول، سرور ہاشمی اور ضمیر انصاری نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر جناب ضمیر انصاری، رکن دایرہ ادب دلنہ، نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور تمام مہمانوں، مقررین، شعرا، اساتذہ، طلبہ اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، دایرہ ادب دلنہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور کے تعاون اور میزبانی کو بھی سراہا۔
سمپوزیم میں مرحوم نشاط انصاری کی بطور شاعر، ادیب، ماہرِ تعلیم اور مترجم ہمہ جہت خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں