جنگ نیوز
نئی دہلی/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے IIM روہتک میں انڈکشن اور اورینٹیشن پروگرام کی اختتامی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے انٹیگریٹڈ پروگرام اِن مینجمنٹ، یعنی IPM، کے آٹھویں اور انٹیگریٹڈ پروگرام اِن لا، یعنی IPL، کے چھٹے بیچ سے خطاب کیا۔
منوج سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی غیر معمولی رفتار سے ہو رہی ہے، جس کے باعث بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لئے زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تبدیلی کو قبول کرنے اور تعمیری انداز میں کام کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ ’’میں کیا کروں؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’میں کیا اتنا اچھی طرح جانتا ہوں کہ بدلتے حالات اور چیلنجز کے باوجود خود کو دوبارہ میدان میں منوا سکوں؟‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت، یعنی AI، انتظامی اور کاروباری امور کا ایک عام حصہ بن جائے گی، تاہم قیادت، اعتماد اور فیصلہ سازی کی بنیادی ذمہ داری انسان ہی کے پاس رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ AI کاروباری اور انتظامی عمل کی رفتار بڑھا سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ سازی کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اسی طرح قانون کے شعبے میں AI معاہدوں کے مسودے تیار کر سکتی ہے، مگر انسانی ارادوں کی تشریح اور ہمدردی کے ساتھ انصاف کی فراہمی مشین کے بس کی بات نہیں۔
منوج سنہا نے طلبہ کو نصاب تک محدود نہ رہنے، سوال کرنے، باوقار اختلافِ رائے کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کی دنیا کی درست پیش گوئی ممکن نہیں، تاہم دانش، اخلاقی جرات اور اعلیٰ اقدار ہر دور میں طلبہ کا سب سے مضبوط سہارا رہیں گی۔


