جنگ نیوز
جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ چھوٹے، خرد اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، یعنی MSMEs، بھارت کی معیشت کی مضبوطی، خود انحصاری اور روزگار کی اصل بنیاد ہیں۔
وہ جموں میں ICC کے دوسرے MSME کنکلیو 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ MSMEs ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 31.3 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور تقریباً نصف برآمدات میں ان کا کردار ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے MSMEs کے لئے چار اہم ترجیحات سستے قرضوں کی فراہمی، تکنیکی ترقی، سپلائی چین سے مؤثر ربط اور غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ترقی کے لئے MSMEs کو سبز ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، خرد صنعتوں کو باقاعدہ نظام میں لانے، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے اشتراک اور برآمدی مسابقت پر توجہ دینی ہوگی۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2020 میں 69 اسٹارٹ اپس کی تعداد بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 1305 ہو گئی، جبکہ اُدیم رجسٹریشن 2021 کے 24 ہزار سے بڑھ کر16.6 لاکھ تک پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ون ڈسٹرکٹ، ون ایکسپورٹ ہب‘‘ جیسے اقدامات جموں و کشمیر کی منفرد مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی، بدعنوانی سے پاک، میرٹ پر مبنی اور خوشحال معاشرے کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔


