
از:ڈاکٹر جتندر سنگھ
ایک جملہ ایسا بھی تھا جو انگریز 1947 میں بھارت سے رخصت ہوتے وقت، گویا جاتے جاتے ورثے میں چھوڑ گئے تھے: "اسٹیل فریم” (فولادی ڈھانچہ)۔ یہ نام انہوں نے انڈین سول سروس کے لیے استعمال کیا تھا، جو وہ انتظامی ڈھانچہ تھا جس پر برطانوی راج کی حکمرانی قائم تھی۔ فولاد آسانی سے نہیں مڑتا، اور یہی اس کا مقصد تھا۔ یہ ڈھانچہ ایک سلطنت کو مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ ان لوگوں کی بات سننے کے لیے جن پر حکومت کی جاتی تھی۔ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہم نے اسی ڈھانچے کو ورثے کے طور پر برقرار رکھا، اسے ایک نیا نام دیا، اسے کھادی کا لباس پہنایا اور خود کو یقین دلایا کہ اب یہ ہمارا اپنا نظام ہے۔ لیکن کسی ایسے ڈھانچے کو جو لوگوں پر تسلط قائم کرنے کرنے کے لیے بنایا گیا ہو، محض نام بدل دینے سے عوام کی خدمت کے لیے موزوں قرارنہیں دیا جا سکتا اور ہماری جمہوریہ کی ابتدائی کئی دہائیوں تک بھارت اسی نوآبادیاتی نظام کے تحت زندگی گزارتا رہا —ایک ہی فارم تین تین بار بھرنا، انہی اونچے پلیٹ فارمز کے سامنے انہی قطاروں میں کھڑے رہنا، اور کسی "صاحب” کے فیصلے کا انتظار کرنا کہ ہماری قسمت کیا ہوگی۔
میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی ڈھانچے کے تحت گزارا ہے — پہلے ایک شہری اور پیشہ ور کی حیثیت سے، اور پھر حکومتِ ہند میں محکمہ امورِ عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی ذمہ داری سنبھالنے والے کی حیثیت سے۔ یہ وہ محکمہ ہے، جس کا بنیادی کام ہی اس فولادی ڈھانچے کا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا ہے کہ اس میں کیا کچھ ازسرِنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا بھارت نے اپنی نوکرشاہی میں اصلاحات کی ہیں، تو میرا جواب نہ تو کسی ادارے کے دفاع میں دی جانے والی وضاحت ہے اور نہ ہی اس شخص کی مایوسی جو نظام سے امید کھو چکا ہو۔ یہ اس شخص کا جواب ہے، جس نے اندر سے، لفظی معنوں میں، ایک ایسے نظام کی بارہ سالہ خاموش مگر پُرعزم ازسرِنو تشکیل دیکھی ہے جسے آزادی کے بعد سے بامعنی طور پر چھوا تک نہیں گیا تھا، اور شاید آج بھی اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آتی اگر غیر روایتی اور دوراندیش سوچ کے حامل جناب نریندر مودی نے بھارت کے 15ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔
ذرا غور کیجیے کہ ہم نے کہاں سے آغاز کیا تھا۔ 2014 میں مرکزی حکومت کو بھیجی جانے والی ایک شہری کی شکایت کا ازالہ ، اگر وہ حل کردیا جاتا تھا، تو اس میں اوسطاً 157 دن لگتے تھے۔ شکایت درج کرانے کا مطلب ایک ایسے نظام سے گزرنا تھا، جس میں پورے ملک میں بمشکل شکایات کے ازالے کے لئے دس ہزار افسران موجود تھے؛ ان میں سے بیشتر تک رسائی مشکل تھی اور کسی حقیقی مدت کی پابندی کے حوالے سے وہ جواب دہ بھی نہیں تھے۔ سرکاری دفتر کے باہر ملازمت کے لیے قطار میں کھڑا نوجوان، اپنے شوہر کی پنشن کی فائل کے لئے در در بھٹکتی ہوئی بیوہ خاتون، یا یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوا کسان کہ اس کی فصل بیمہ کی رقم کسی وزارت کی الماری میں آخر کہاں غائب ہوگئی — سب کو ایک ہی دیوار کا سامنا تھا: ایک ایسا نظام جو شہریوں کو انتظار کروانے کے لیے بنایا گیا تھا اور ایسے افسران جو بغیر کسی نتیجے کے محض کندھے اچکا سکتے تھے۔ یہ صرف نااہلی نہیں تھی۔ یہ اس انتظامی نظام کی آخری زندہ باقیات تھیں، جو عوام کی خدمت کے بجائے ان میں خوف پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
آج کے حالات سے اس کا موازنہ محض رائے کا معاملہ نہیں، بلکہ اعداد و شمار میں درج حقیقت ہے۔ شکایات کے ازالے کا وہ 157 دن کا اوسط وقت کم ہو کر اب محض 15 دن رہ گیا ہے۔ نظام کے ذریعے نمٹائی جانے والی شکایات کی تعداد تقریباً نو گنا بڑھ چکی ہے — تقریباً 3 لاکھ سالانہ سے بڑھ کر 27 لاکھ کے قریب — جبکہ ان کے ازالے کے لیے بااختیار افسران کی تعداد دس گنا سے زیادہ بڑھ کر ایک لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ اس سال مارچ تک مرکزی سیکریٹریٹ نے مسلسل 45ویں ماہ ایک لاکھ شکایات کے ازالے کا سنگِ میل عبور کیا ہے۔ ہم نے سی پی جی آر اے ایم ایس، یعنی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کا سینٹرلائزڈ نظام، کو ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کیا ہے، جو اب 22 زبانوں میں خدمات فراہم کرتا ہے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے شہری کی شکایت کو سمجھ کر اسے متعلقہ شعبے تک پہنچاتا ہے، اور یہاں تک کہ دور دراز گاؤں میں رہنے والے کسان کو بھی یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقامی لہجے اور زبان میں، آواز کے ذریعے، ایک چیٹ بوٹ کے توسط سے شکایت درج کرا سکے۔ اس چیٹ بوٹ کا نام ہم نے جان بوجھ کر "سمادھان دیدی” رکھا ہے —یعنی "حل فراہم کرنے والی بہن”۔ جو دیہاتی پہلے ضلعی دفتر تک سفر کرنے اور وہاں اپنی درخواست کے نتیجے کا انتظار کرنے پر مجبور تھا، وہ اب اپنی ہی پنچایت میں موجود کامن سروس سینٹر سے یہ کام کر واسکتا ہے۔ ہر ماہ کی 20 تاریخ کو سی ایس سی- سی پی جی آر اے ایم ای کا دن اسی مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے، تاکہ یہ وعدہ آخری شہری تک پہنچ سکے۔
لیکن اس سے بھی گہری تبدیلی، جسے میں فولادی ڈھانچے کی حقیقی اصلاح سمجھتا ہوں، محض ڈیجیٹل سہولت کاری نہیں ہے۔ اصل تبدیلی اس فلسفے میں ہے کہ ہم اپنے سرکاری ملازمین کو ابتدا ہی سے کس طرح تیار کرتے ہیں۔ ستر برس تک حکومت ایک ایسے ہی طرز پر چلتی رہی، جسے "قاعدہ پر مبنی” نظام کہا جا سکتا ہے: کسی افسر کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ اس نے درست طریقۂ کار پر عمل کیا یا نہیں، نہ کہ اس بات سے کہ اس نے شہری کا مسئلہ حل کیا یا نہیں۔ 2020 میں ہم نے مشن کرم یوگی، یعنی سول سروسز کی صلاحیت سازی کا قومی پروگرام شروع کیا، تاکہ اس نظام کو "کردار پر مبنی” کلچر میں تبدیل کیا جا سکے۔ اب افسر کی تربیت اور کارکردگی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جاتا ہے کہ اس کے منصب کے حقیقی تقاضے کیا ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ نوآبادیاتی دور کے کس ضابطے کو زبانی بیان کر سکتا ہے۔ آج 1.65 کروڑ سے زیادہ سرکاری ملازمین— گاؤں کی سطح کے کلرک سے لے کر حکومتِ ہند کے سیکریٹری تک— ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم آئی جی او ٹی (گوٹ )کرم یوگی کے ذریعے سیکھنے کا عمل انجام دے رہے ہیں، جس پر اب ہندی اور 17 دیگر بھارتی زبانوں میں پانچ ہزار سے زیادہ کورسز دستیاب ہیں۔ پہلی مرتبہ ہم نے اس تربیت کو افسر کی سالانہ کارکردگی کی جائزہ رپورٹ (اے پی اے آر) سے باقاعدہ طور پر جوڑ دیا ہے، جس کی بنیاد پر ترقی کے مواقع بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ اس طرح مسلسل سیکھنا اب محض ذاتی خوبی یا اضافی سرگرمی نہیں رہا، بلکہ براہِ راست سرکاری ملازم کے کیریئر سے جڑا ہوا ایک پیمانہ بن گیا ہے، یہ کارکردگی اور جواب دہی ہے—محض نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ ایک عملی نظام کے طور پر۔
ہم نے افسران کی تقرری اور تربیت کے طریقۂ کار سے نوآبادیاتی باقیات کو نکالنے کے لیے بھی خاموش مگر مسلسل کام کیا ہے۔ 2016 سے مرکزی حکومت کے دفاتر میں نچلے اور درمیانے درجے کی سرکاری ملازمتوں، یعنی گروپ (سی)، اور غیر گزٹیڈ گروپ(بی) عہدوں کے لیے انٹرویو ختم کر دیے گئے ہیں۔ یہی وہ عہدے تھے جہاں انٹرویو اکثر اقربا پروری اور، بہت سے مواقع پر، رشوت کا ذریعہ بن جاتا تھا۔ اب تک 24 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے بھی اس اقدام کو اپنایا ہے۔ ہم نے اس پرانے تقاضے کو بھی ختم کیا کہ کسی امیدوار کو سرکاری فارم بھرنے سے پہلے کسی گزٹیڈ افسر سے اپنے کاغذات کی تصدیق اور ضمانت کروانی ہوگی۔ یہ نوآبادیاتی دور کی وہ روایت تھی جو گویا ہر شہری کو جعل سازی کا مرتکب سمجھتی تھی، جب تک کہ وہ اس کے برعکس ثابت نہ کر دے۔ اب کامیاب امیدوار پولیس تصدیق مکمل ہونے تک مہینوں انتظار کرنے کے بجائے عارضی طور پر اپنی نئی ملازمت شروع کر سکتے ہیں۔ ہم نے 1600 سے زیادہ فرسودہ قوانین منسوخ کیے ہیں، جن کا کوئی عملی مقصد باقی نہیں رہ گیا تھا، سوائے اس کے کہ وہ ہمیں یاد دلاتے رہیں کہ کبھی ہم پر کون حکومت کرتا تھا اور جب میں آج نوجوان افسران سے ملتا ہوں، تو میں انہیں صاف الفاظ میں وہی بات کہتا ہوں، جو میں نے اس سال کے آغاز میں افسران کے ایک اجتماع سے کہی تھی: ابھی سب سے بڑی اصلاح ہمارے ذہنوں میں درکار ہے— اس چیز سے نجات حاصل کرنا جسے میں نے بلا جھجک ہماری "نوآبادیاتی ذہنیت” کانام دیا۔ جب وزیر اعظم نے خود ہماری وزارت کو نارتھ بلاک سے منتقل کرکے نئے کرتویہ بھون میں منتقل کیا، تو یہ محض دفتر کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بھارتی حکومت کے کام کرنے کا بنیادی لفظ "کرتویہ” یعنی فرض اور خدمت ہونا چاہیے، نہ کہ اختیار اور کنٹرول۔
ان سب کے ساتھ ایک نسبتاً خاموش اصلاحی عمل بھی جاری ہے، جس کا تعلق دفتر کے باہر موجود شہریوں سے نہیں، بلکہ ان خواتین سے ہے جو اندرونی طور پر سرکاری نظام کو چلاتی ہیں۔ آزاد بھارت کی تاریخ کے بیشتر عرصے میں اگر کسی سرکاری ملازمہ کا بچہ پیدائش کے وقت انتقال کر جاتا، تو اسے سوگ منانے کے لیے کوئی باقاعدہ رخصت دستیاب نہیں تھی۔ آج اسے 60 دن کی خصوصی زچگی رخصت فراہم کی گئی ہے۔ یہ سہولت ہم نے 2022 میں دیر سے سہی، مگر ضروری انسانی ہمدردی کے احساس کے ساتھ متعارف کرائی، اور بعد میں اسے ان ماؤں تک بھی وسعت دی جو سروگیسی کے ذریعے اپنا خاندان تشکیل دیتی ہیں۔ ہم نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے چائلڈ کیئر لیو کو بھی اس طرح سہل بنایا ہے کہ ملازمت کے دوران ماں کی تعیناتی جہاں بھی ہو، یہ سہولت اسے حاصل رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ بیرونِ ملک سفر کے دوران بھی اس سہولت سے استفادہ کرسکتی ہیں ۔ سنگل ماں کو ایک کیلنڈر سال میں اس رخصت کے چھ مواقع تک دیے جا سکتے ہیں، جبکہ دیگر ملازمین کے لیے یہ تعداد تین ہے۔ جو خاتون اپنے دفتر میں جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرانے کی ہمت کرتی ہے، اسے اب اپنی شکایت کی تحقیقات مکمل ہونے تک 90 دن کی رخصت حاصل ہے، اور یہ رخصت اس کے اپنے چھٹیوں کے کوٹے سے علیحدہ ہوتی ہیں ۔ معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والی خواتین افسران کو نومولود کی پرورش میں مدد کے لیے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی سرکاری ملازم کے معذور بچے کے لیے تعلیمی الاؤنس کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز جی ڈی پی کے کسی چارٹ میں نظر نہیں آئے گی، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوگی کہ کیا ایک خاتون سرکاری ملازمت میں ان برسوں کے دوران بھی رہنے کا فیصلہ کرتی ہے، جن میں ماضی میں حالات اسے خاموشی سے ملازمت چھوڑنے پر مجبور کر دیتے تھے اور یہ بھی کہ کیا سول سروس ایمانداری سے یہ کہہ سکتی ہے کہ صنفی مساوات صرف سال میں ایک مرتبہ بینر پر لکھا جانے والا نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے، جس پر وہ عملی طور پر خود بھی عمل کرتی ہے۔
یقیناً ان تمام اصلاحات کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر ان سے ایک عام شہری کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے— اور تبدیلی آئی ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ چند برسوں میں روزگار میلوں کے ذریعے جاری کیے گئے 12 لاکھ سے زیادہ تقرری نامے ہیں، جو پرانے تعلقات اور اثر و رسوخ کی سیاست کے بغیر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی مسوری کے کامن فاؤنڈیشن کورس میں بھی نظر آتی ہے، جہاں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران ایک دوسرے سے الگ اپنے اپنے دائرے میں رہنے کے بجائے ایک ساتھ تربیت حاصل کرتے ہیں، تاکہ جب برسوں بعد وہ کسی شہری سے ملیں، تو تین مختلف محکموں کے بجائے ایک حکومت کی حیثیت سے کام کریں۔ یہ تبدیلی اس پنشن حاصل کرنے والے فرد میں بھی نظر آتی ہے، جو اب بینک کی قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے اپنے گھر سے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ اس نوجوان امیدوار میں بھی نظر آتی ہے، جو ہر امتحان کے لیے ایک ہی فارم بار بار بھرنے کے بجائے یو پی ایس سی پورٹل پر ایک مرتبہ رجسٹریشن کراتا ہے۔ اور یہ سرکاری ملازمتوں میں او بی سی نمائندگی میں بھی دکھائی دیتی ہے، جو 2014 کے 19 فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد ہو چکی ہے۔ انگریز، جو فولادی ڈھانچہ ہمارے لیے چھوڑ گئے تھے، اسے ایک ہی رات میں ختم نہیں کیا جا سکتا تھا، اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ ادارے اپنی یادیں برقرار رکھتے ہیں، اور ادارہ جاتی یادوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ اسے خاموشی سے، ایک ایک خدمت، ایک ایک ضابطے اور ایک ایک اصلاح کے ذریعے ازسرِنو تشکیل دیا جائے۔ تاکہ وہ ڈھانچہ، جو کبھی ایک سلطنت کو سہارا دیتا تھا، اب اس چیز کو سہارا دے، جو ہمارے آئین نے دراصل اپنے شہریوں سے وعدہ کیا تھا: ایسی حکومت، جو حکمرانی کرنے کے بجائے خدمت کرے، اور محض سربراہی کرنے کے بجائے عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
(قلمکار ، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی ، ارضیاتی علوم ، اور وزیر مملکت ، وزیر اعظم کا دفتر ، عملہ ، ایٹمی توانائی اور خلا ، حکومت ہند ہیں)


