جنگ نیوز
میرواعظ عمر فاروق نے لائن آف کنٹرول (LoC) کے اُس پار، بالخصوص راولاکوٹ اور پونچھ میں جاری بے چینی کے دوران عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات، تحمل اور پرامن طریقۂ کار اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
ایک بیان میں میرواعظ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شناخت، سیاسی نمائندگی اور آئینی حقوق جیسے معاملات کو حساسیت، عوامی اعتماد اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
میرواعظ نے کہا کہ ایل او سی کے دونوں جانب رہنے والے کشمیری تاریخی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اس لئے ایک جانب کے حالات دوسری جانب بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور وہاں کی مقامی انتظامیہ سے اپیل کی کہ تصادم کے بجائے مذاکرات اور افہام و تفہیم کو ترجیح دی جائے، جبکہ احتجاج کرنے والوں سے بھی دانشمندی، ذمہ داری اور امن کی بحالی کے لئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے دونوں جانب کے عوام کے لئے پائیدار امن اور مسائل کے پرامن حل کی دعا بھی کی۔


