بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ کشمیر یونیورسٹی میں پیر کے روز حضرت امیر خسروؒ کی حیات، فکر اور لازوال ادبی و روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک شاندار صوفی موسیقی کی محفل منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، روحانی شخصیات، فنکاروں، صحافیوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس روح پرور تقریب نے حاضرین کو تصوف، ادب اور موسیقی کی دل آویز فضا سے روشناس کرایا۔
حضرت امیر خسروؒ، جنہیں "طوطیٔ ہند” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ عظیم شاعر، فلسفی، ماہرِ لسانیات، موسیقار اور حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مخلص مرید تھے۔ آپؒ نے فارسی کی لطافت اور ہندوی زبان کی شیرینی کو ہم آہنگ کرکے ایسی ادبی اور موسیقیاتی روایت قائم کی جو آج بھی تصوف، کلاسیکی موسیقی اور روحانی ادب کے میدان میں مشعلِ راہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ تقریب شیخ العالم مرکز برائے کثیر الجہتی مطالعات نے انسٹی ٹیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس اور علامہ اقبال لائبریری کے اشتراک سے منعقد کی۔ اس موقع پر دہلی گھرانے سے تعلق رکھنے والی معروف صوفی گلوکارہ وسعت اقبال خان نے حضرت امیر خسروؒ کے لازوال کلام کو اپنی دلنشیں آواز میں پیش کیا، جس نے پورے ہال کو روحانی سرشاری اور وجد کی کیفیت سے معمور کر دیا۔
تقریب کا آغاز کرتے ہوئے شیخ العالم مرکز کے چیئر پروفیسر پروفیسر ستیش ومل نے حضرت امیر خسروؒ کی علمی، ادبی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کے معمار تھے، جن کی شاعری اور موسیقی آج بھی زبان، زمانے اور ثقافت کی تمام سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانیت کو جوڑنے کا پیغام دیتی ہے۔
اس موقع پر کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ناصر خان اور ممتاز صوفی محقق حضرت ریاض الدین چشتی نے حضرت امیر خسروؒ کی صوفیانہ فکر، روحانی جمالیات اور ہند۔اسلامی موسیقی کی تشکیل و ارتقا میں ان کے نمایاں کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیر خسروؒ کا پیغامِ محبتِ الٰہی، اخوتِ انسانی اور روحانی ہم آہنگی آج کے منتشر معاشرے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
تقریب کی نظامت نوجوان فنکارہ اور محققہ بدر النساء نے نہایت عمدگی سے انجام دی۔ ان کے مدلل اور شائستہ اندازِ بیان نے پوری محفل کو علمی وقار اور تہذیبی حسن عطا کیا۔
تقریب کے اختتام پر حاضرین نے وسعت اقبال خان کی شاندار پیشکش کو بھرپور داد دیتے ہوئے کھڑے ہو کر ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر کشمیر یونیورسٹی نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے کی علمی، ادبی اور روحانی میراث کے تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ حضرت امیر خسروؒ کی لازوال خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔
آخر میں مرکزِ نور کے چیئرمین پروفیسر عادل امین کاک نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے معزز مقررین، مہمانانِ گرامی، علماء، محققین، شرکائے تقریب، منتظمین، رضاکاروں اور اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد کی مشترکہ کاوشوں کے باعث یہ علمی، ادبی اور روحانی تقریب نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔


