نابالغ لڑکی کے ساتھ جنگل میں جنسی زیادتی، سات نامعلوم لوگوں پر مقدمہ درج،

ہریدوار:

اتراکھنڈ کے ضلع ہریدوار سے ایک سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ ہریدوار کے پاتھری تھانہ حلقے میں 16 سالہ نابالغ لڑکی کو جنگل میں کئی لڑکوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے اس معاملے میں سات لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین نے لڑکی کو جان سے مارنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

الزام ہے کہ اس پر جنسی حملے سے قبل ملزمین نے اس کے دوست کے ساتھ بھی مار پیٹ کر کے اسے وہاں سے بھگا دیا اور پھر متاثرہ اٹھا کر لے گئے۔ عصمت دری کے بعد ملزمین اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، تاہم لڑکی کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی اور اپنے گھر والوں کو پورے واقعے کی خبر دی۔ متاثرہ لڑکی ہریدوار کے لکسر تھانہ حلقے کے ایک گاؤں کی رہنے والی ہے۔

 

پولیس کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ اتوار کی رات پیش آیا۔ متاثرہ خاندان نے پتھری تھانے پہنچ کر تحریری شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں متاثرہ نے کہا کہ اتوار کی رات وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بائیک پر کتھا اور پھول گڑھ گاؤں کی طرف جا رہی تھی۔ گاؤں سے تھوڑی دور سات آٹھ نوجوانوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان دونوں کو گھیر لیا۔

متاثرہ کے مطابق ملزمین نے پہلے اس کے دوست کو بری طرح مارا پیٹا اور اسے وہاں سے بھگا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے اسے اٹھا کر پاس کے ایک کھیت میں لے گئے، جہاں ایک شخص نے اس کا ریپ کیا۔ متاثرہ کے مطابق تمام ملزمین نشے کی حالت میں تھے اور سبھی اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کر رہے تھے۔

متاثرہ کے مطابق ملزمان اسے رات بھر اپنے پاس رکھنے اور پھر قتل کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔ تاہم لڑکی موقع پا کر ملزمان کے چنگل سے بھاگ نکلی اور برہنہ حالت میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے کسی طرح ایک گھر میں چھپ گئی۔ گھر کی ایک خاتون نے اسے اپنے کپڑے دیے۔

دوسری طرف جب لڑکی گھر واپس نہیں پہنچی تو گھر والوں نے رات بھر اس کی تلاش کی۔ صبح گھر والوں ملنے کے بعد اس نے انہیں بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس دوران لڑکی کے اہل خانہ نے پولیس اسٹیشن میں نامعلوم نوجوانوں کے خلاف تحریری شکایت دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملزمین کی تلاش شروع کر دی ہے۔ لڑکی کا بیان بھی قلمبند کیا جا رہا ہے۔

پتھری پولس اسٹیشن کے انچارج رویندر کمار نے بتایا کہ ” موصولہ شکایت کی بنیاد پر نامعلوم ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

نابالغ لڑکی کے ساتھ جنگل میں جنسی زیادتی، سات نامعلوم لوگوں پر مقدمہ درج،

ہریدوار:

اتراکھنڈ کے ضلع ہریدوار سے ایک سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ ہریدوار کے پاتھری تھانہ حلقے میں 16 سالہ نابالغ لڑکی کو جنگل میں کئی لڑکوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے اس معاملے میں سات لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ ملزمین نے لڑکی کو جان سے مارنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

الزام ہے کہ اس پر جنسی حملے سے قبل ملزمین نے اس کے دوست کے ساتھ بھی مار پیٹ کر کے اسے وہاں سے بھگا دیا اور پھر متاثرہ اٹھا کر لے گئے۔ عصمت دری کے بعد ملزمین اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، تاہم لڑکی کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی اور اپنے گھر والوں کو پورے واقعے کی خبر دی۔ متاثرہ لڑکی ہریدوار کے لکسر تھانہ حلقے کے ایک گاؤں کی رہنے والی ہے۔

 

پولیس کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ اتوار کی رات پیش آیا۔ متاثرہ خاندان نے پتھری تھانے پہنچ کر تحریری شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں متاثرہ نے کہا کہ اتوار کی رات وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بائیک پر کتھا اور پھول گڑھ گاؤں کی طرف جا رہی تھی۔ گاؤں سے تھوڑی دور سات آٹھ نوجوانوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان دونوں کو گھیر لیا۔

متاثرہ کے مطابق ملزمین نے پہلے اس کے دوست کو بری طرح مارا پیٹا اور اسے وہاں سے بھگا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے اسے اٹھا کر پاس کے ایک کھیت میں لے گئے، جہاں ایک شخص نے اس کا ریپ کیا۔ متاثرہ کے مطابق تمام ملزمین نشے کی حالت میں تھے اور سبھی اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کر رہے تھے۔

متاثرہ کے مطابق ملزمان اسے رات بھر اپنے پاس رکھنے اور پھر قتل کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔ تاہم لڑکی موقع پا کر ملزمان کے چنگل سے بھاگ نکلی اور برہنہ حالت میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے کسی طرح ایک گھر میں چھپ گئی۔ گھر کی ایک خاتون نے اسے اپنے کپڑے دیے۔

دوسری طرف جب لڑکی گھر واپس نہیں پہنچی تو گھر والوں نے رات بھر اس کی تلاش کی۔ صبح گھر والوں ملنے کے بعد اس نے انہیں بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس دوران لڑکی کے اہل خانہ نے پولیس اسٹیشن میں نامعلوم نوجوانوں کے خلاف تحریری شکایت دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملزمین کی تلاش شروع کر دی ہے۔ لڑکی کا بیان بھی قلمبند کیا جا رہا ہے۔

پتھری پولس اسٹیشن کے انچارج رویندر کمار نے بتایا کہ ” موصولہ شکایت کی بنیاد پر نامعلوم ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں