دبئی، متحدہ عرب امارات:
امریکہ نے منگل کی صبح ایک بار پھر ایران پر بمباری شروع کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف ناکہ بندی "دوبارہ” شروع کر رہا ہے۔ مزید برآں، ٹرمپ نے تجویز کیا کہ امریکہ دنیا بھر میں نیوی گیشن کی آزادی کی حمایت کرنے والی امریکی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے محفوظ آمد و رفت کے لیے بحری جہازوں سے فیس وصول کرے گا۔
اس سے قبل ایران نے بحرین کو نشانہ بنانے کے علاوہ آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے دو ٹینکروں پر حملہ کر دیا، جس میں ایک بھارتی ملاح ہلاک جب کہ آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔ وہیں امارات نے ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکہ دونوں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے لڑ رہے ہیں جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ دریں اثنا کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت منگل کے اوائل میں ٹریڈنگ میں ایک ماہ کی بلند ترین سطح 84 ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم یہ جنگ کے عروج کے دوران بڑھی قیمت تقریباً 120 ڈالر سے ابھی نیچے ہے۔ بہرحال دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضاے کا خدشہ برقرار ہے۔
آبنائے کھلا رہے گا، ٹرمپ کا اصرار
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ "یہ حملے ایرانی افواج سے بھاری قیمت وصول کریں گے اور معصوم شہریوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیں گے۔”
فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے اعلان کے چند لمحوں بعد ٹرمپ نے اسے "ایک اور بڑا حملہ” قرار دیا۔ انہوں نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم انہیں بہت سخت ضرب لگا رہے ہیں اور یہ جاری رہے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔” "ہم ان کی تمام جارحانہ صلاحیت کو ختم کر رہے ہیں اور ہم آبنائے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ہم ناکہ بندی واپس بحال کر رہے ہیں۔”


