سرینگر جنگ
انقرہ/واشنگٹن/تہران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی (سیز فائر/مفاہمتی یادداشت) اب عملاً ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو امریکہ آج رات ہی دوبارہ سخت فوجی حملے کر سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایران کی جانب سے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں قطر اور سعودی عرب سے وابستہ تجارتی آئل ٹینکروں سمیت متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے 80 سے زائد فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر فضائی حملے کیے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ایرانی فوج کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ مختلف فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایرانی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تہران کے ساتھ مزید مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ ایسی بات چیت وقت کا ضیاع ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان فی الحال کم ہے، اگرچہ ایران کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی کی صورت میں امریکہ بھرپور جواب دے گا۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے بیانات کو "اشتعال انگیز” اور "ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے انہیں مجرمانہ ذہنیت کا مظاہرہ کہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کے لئے کسی بھی جارحیت کا بے خوف اور مؤثر جواب دے گا۔ اسی دوران خلیج فارس اور خلیج عمان میں امریکی فضائی سرگرمیوں میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بحران کا آغاز رواں سال ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ بعد ازاں جون میں ایک عارضی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت ایران کو مخصوص شرائط کے ساتھ تیل برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور مستقل معاہدے کے لئے 60 روزہ مہلت مقرر کی گئی تھی، تاہم تازہ پیش رفت نے اس عمل کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔


