گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز

بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں 7 جون کو مجوزہ قانون ساز اسمبلی انتخابات کرانے کے فیصلے پر سخت احتجاج درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں MEA نے کہا کہ 1947 میں سابق ریاست جموں و کشمیر کے قانونی الحاق کے نتیجے میں یہ تمام علاقے بھارت کا حصہ ہیں، جبکہ گلگت بلتستان سمیت بعض علاقے پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں ہیں۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے زیرِ قبضہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی انتخابی یا انتظامی سرگرمی کو بھارت یکسر مسترد کرتا ہے اور ایسے اقدامات ان علاقوں کی قانونی حیثیت یا بھارت کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
MEA نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں سیاسی جبر، معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں جیسے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت نے ایک بار پھر پاکستان سے اپنے غیر قانونی قبضے والے علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ بھارت ماضی میں بھی پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان اور دیگر زیرِ قبضہ علاقوں میں انتخابات یا آئینی تبدیلیوں کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 7 جون کو ہوں گے

گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے انتخابی عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور پولنگ 7 جون 2026 کو ہوگی۔ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 24 رکنی اسمبلی کے لئے ووٹنگ اتوار کے روز منعقد ہوگی۔
یہ انتخابات ابتدائی طور پر جنوری 2026 میں ہونے تھے، تاہم سخت موسمی حالات کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کرتے ہوئے 7 جون کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی۔
انتخابات کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جبکہ الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف پولنگ کے لئے انتظامات مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں 24 عمومی نشستیں ہیں، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کے لئے مخصوص نشستیں بعد میں مختص کی جاتی ہیں۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز

بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں 7 جون کو مجوزہ قانون ساز اسمبلی انتخابات کرانے کے فیصلے پر سخت احتجاج درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔
میڈیا کے سوالات کے جواب میں MEA نے کہا کہ 1947 میں سابق ریاست جموں و کشمیر کے قانونی الحاق کے نتیجے میں یہ تمام علاقے بھارت کا حصہ ہیں، جبکہ گلگت بلتستان سمیت بعض علاقے پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں ہیں۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے زیرِ قبضہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی انتخابی یا انتظامی سرگرمی کو بھارت یکسر مسترد کرتا ہے اور ایسے اقدامات ان علاقوں کی قانونی حیثیت یا بھارت کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
MEA نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں سیاسی جبر، معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں جیسے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت نے ایک بار پھر پاکستان سے اپنے غیر قانونی قبضے والے علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ بھارت ماضی میں بھی پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان اور دیگر زیرِ قبضہ علاقوں میں انتخابات یا آئینی تبدیلیوں کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 7 جون کو ہوں گے

گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے انتخابی عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور پولنگ 7 جون 2026 کو ہوگی۔ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 24 رکنی اسمبلی کے لئے ووٹنگ اتوار کے روز منعقد ہوگی۔
یہ انتخابات ابتدائی طور پر جنوری 2026 میں ہونے تھے، تاہم سخت موسمی حالات کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کرتے ہوئے 7 جون کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی۔
انتخابات کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جبکہ الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف پولنگ کے لئے انتظامات مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں 24 عمومی نشستیں ہیں، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کے لئے مخصوص نشستیں بعد میں مختص کی جاتی ہیں۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں