ازدواجی زندگی میں والدین کی غیر ضروری مداخلت

محمد مسلم بن محمد

  ازدواجی زندگی انسان کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور نازک مرحلہ ہے۔ شادی صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو تہذیبوں اور دو مختلف ماحولوں کے باہمی ربط کا نام ہے۔ جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو والدین، خصوصاً ماں باپ کی ذمہ داریاں ایک نئے رخ اختیار کرتی ہیں۔ اگر اس مرحلے میں دانائی، صبر، محبت اور اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو گھر کا سکون متاثر ہو جاتا ہے، رشتوں میں تلخی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک خوشحال گھرانہ اختلافات کا شکار بن جاتا ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض والدین لاعلمی، جذباتیت یا غیر ضروری توقعات کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو بیٹے اور بہو کی ازدواجی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ ان غلطیوں کا جائزہ لینا اور ان کی اصلاح کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ خاندان محبت، احترام اور اعتماد کا گہوارہ بن سکے۔
بیٹے کو شادی کے بعد بھی مکمل طور پر اپنے اختیار میں رکھنا:
بعض والدین یہ چاہتے ہیں کہ شادی کے بعد بھی بیٹا ہر معاملے میں صرف انہی کی مرضی کے مطابق چلے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اب اس کی زندگی میں ایک نئی شریکِ حیات شامل ہو چکی ہے جس کے حقوق، جذبات اور احساسات بھی اہم ہیں۔ اگر والدین ہر معاملے میں مداخلت کریں گے تو بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار ہوگا اور میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا ہوں گی۔
اسلام اور انسانی اخلاق دونوں یہی تعلیم دیتے ہیں کہ شادی کے بعد بیٹے کو ایک ذمہ دار اور خودمختار فرد کے طور پر قبول کیا جائے اور اس کی نئی زندگی کا احترام کیا جائے۔
بہو کو صرف "خدمت گزار” سمجھنا
کئی گھروں میں بہو کو گھر کی بیٹی یا فردِ خاندان سمجھنے کے بجائے صرف ایک خدمت کرنے والی عورت سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ بہو بھی ایک انسان ہے، اس کے بھی خواب، احساسات اور جذبات ہیں۔ اگر اسے محبت، عزت اور اپنائیت دی جائے تو وہ پورے خاندان کے لئے رحمت بن جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حسنِ سلوک، نرم مزاجی اور عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دی ہے۔ گھر کی فضا اسی وقت خوشگوار رہتی ہے جب عزت اور محبت باہمی بنیادوں پر قائم ہوں۔
ہر وقت تنقید اور موازنہ کرنا:
بعض والدین اپنی بہو کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہتے ہیں: "فلاں کی بہو ایسی ہے، تم ویسی کیوں نہیں؟” "ہم نے تو یہ طریقہ دیکھا ہے، تمہیں کچھ نہیں آتا!”
اس طرح کی مسلسل تنقید انسان کے اعتماد کو توڑ دیتی ہے۔ ہر انسان کا مزاج، تربیت اور ماحول مختلف ہوتا ہے۔ اصلاح محبت سے ہوتی ہے، طعن و تشنیع سے نہیں۔
بیٹے اور بہو کی نجی زندگی میں مداخلت:
ازدواجی زندگی کا ایک دائرہ نجی اور ذاتی ہوتا ہے۔ بعض والدین ہر چھوٹی بڑی بات میں مداخلت کرتے ہیں، میاں بیوی کے اختلافات کو بڑھا دیتے ہیں یا ایک فریق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس رویّے سے اعتماد ختم ہوتا ہے اور گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔
دانشمندی اسی میں ہے کہ والدین رہنمائی ضرور کریں مگر ہر معاملے میں حاکمانہ انداز اختیار نہ کریں۔
بہو کو قبول نہ کرنا:
کبھی کبھی والدین دل سے بہو کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اسے “غیر” سمجھتے ہیں، اس کی ہر بات میں خامی تلاش کرتے ہیں یا اسے احساس دلاتے ہیں کہ وہ اس گھر کی نہیں۔ اس رویّے سے بہو احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے اور خاندان میں فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔اگر بہو کو بیٹی کی طرح محبت اور احترام دیا جائے تو وہ بھی ماں باپ جیسی عزت و خدمت پیش کرتی ہے۔
بیٹے کی توجہ تقسیم ہونے کو برداشت نہ کرنا:
بعض والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ شادی کے بعد بیٹا ان سے دور ہوگیا ہے، اس لئے وہ انجانے میں بہو کے خلاف ذہن سازی شروع کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھتی ہیں، محبت تقسیم نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ سمجھدار والدین اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں اور اپنے بیٹے کی نئی زندگی میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
انا اور ضد کو مسئلہ بنا لینا:
خاندانی اختلافات کی ایک بڑی وجہ انا اور ضد بھی ہے۔ کبھی والدین اپنی عمر اور تجربے کی بنیاد پر ہر بات منوانا چاہتے ہیں جبکہ نئی نسل اپنی سوچ رکھتی ہے۔ اگر دونوں جانب برداشت، مکالمہ اور نرمی نہ ہو تو معمولی مسائل بھی بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں۔
اسلامی اور اخلاقی تعلیمات
اسلام خاندان کو محبت، احترام، عدل اور حسنِ سلوک کی بنیاد پر قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں والدین کے احترام کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق اور حسنِ معاشرت کی بھی واضح تعلیم دی گئی ہے۔ ایک کامیاب گھر وہی ہوتا ہے جہاں والدین شفقت اور حکمت سے پیش آئیں،بہو کو عزت اور اعتماد دیا جائے،بیٹا عدل اور توازن قائم رکھے،اور سب ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
بیٹے کی شادی کے بعد والدین کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنی مرضی مسلط کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک نئی زندگی کو محبت، حکمت اور دعا کے ساتھ پروان چڑھائیں۔ اگر والدین اپنی انا، غیر ضروری توقعات اور مسلسل مداخلت سے گریز کریں تو گھر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔محبت، برداشت، عزت، صبر اور سمجھداری ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک خوشحال خاندان قائم رہتا ہے۔ والدین اگر اپنے بیٹے اور بہو کو اعتماد، اپنائیت اور دعا کے ساتھ زندگی گزارنے دیں تو گھر میں سکون، برکت اور خوشیاں ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

ازدواجی زندگی میں والدین کی غیر ضروری مداخلت

محمد مسلم بن محمد

  ازدواجی زندگی انسان کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور نازک مرحلہ ہے۔ شادی صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو تہذیبوں اور دو مختلف ماحولوں کے باہمی ربط کا نام ہے۔ جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو والدین، خصوصاً ماں باپ کی ذمہ داریاں ایک نئے رخ اختیار کرتی ہیں۔ اگر اس مرحلے میں دانائی، صبر، محبت اور اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو گھر کا سکون متاثر ہو جاتا ہے، رشتوں میں تلخی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک خوشحال گھرانہ اختلافات کا شکار بن جاتا ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض والدین لاعلمی، جذباتیت یا غیر ضروری توقعات کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو بیٹے اور بہو کی ازدواجی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ ان غلطیوں کا جائزہ لینا اور ان کی اصلاح کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ خاندان محبت، احترام اور اعتماد کا گہوارہ بن سکے۔
بیٹے کو شادی کے بعد بھی مکمل طور پر اپنے اختیار میں رکھنا:
بعض والدین یہ چاہتے ہیں کہ شادی کے بعد بھی بیٹا ہر معاملے میں صرف انہی کی مرضی کے مطابق چلے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اب اس کی زندگی میں ایک نئی شریکِ حیات شامل ہو چکی ہے جس کے حقوق، جذبات اور احساسات بھی اہم ہیں۔ اگر والدین ہر معاملے میں مداخلت کریں گے تو بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار ہوگا اور میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا ہوں گی۔
اسلام اور انسانی اخلاق دونوں یہی تعلیم دیتے ہیں کہ شادی کے بعد بیٹے کو ایک ذمہ دار اور خودمختار فرد کے طور پر قبول کیا جائے اور اس کی نئی زندگی کا احترام کیا جائے۔
بہو کو صرف "خدمت گزار” سمجھنا
کئی گھروں میں بہو کو گھر کی بیٹی یا فردِ خاندان سمجھنے کے بجائے صرف ایک خدمت کرنے والی عورت سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ بہو بھی ایک انسان ہے، اس کے بھی خواب، احساسات اور جذبات ہیں۔ اگر اسے محبت، عزت اور اپنائیت دی جائے تو وہ پورے خاندان کے لئے رحمت بن جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حسنِ سلوک، نرم مزاجی اور عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دی ہے۔ گھر کی فضا اسی وقت خوشگوار رہتی ہے جب عزت اور محبت باہمی بنیادوں پر قائم ہوں۔
ہر وقت تنقید اور موازنہ کرنا:
بعض والدین اپنی بہو کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہتے ہیں: "فلاں کی بہو ایسی ہے، تم ویسی کیوں نہیں؟” "ہم نے تو یہ طریقہ دیکھا ہے، تمہیں کچھ نہیں آتا!”
اس طرح کی مسلسل تنقید انسان کے اعتماد کو توڑ دیتی ہے۔ ہر انسان کا مزاج، تربیت اور ماحول مختلف ہوتا ہے۔ اصلاح محبت سے ہوتی ہے، طعن و تشنیع سے نہیں۔
بیٹے اور بہو کی نجی زندگی میں مداخلت:
ازدواجی زندگی کا ایک دائرہ نجی اور ذاتی ہوتا ہے۔ بعض والدین ہر چھوٹی بڑی بات میں مداخلت کرتے ہیں، میاں بیوی کے اختلافات کو بڑھا دیتے ہیں یا ایک فریق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس رویّے سے اعتماد ختم ہوتا ہے اور گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔
دانشمندی اسی میں ہے کہ والدین رہنمائی ضرور کریں مگر ہر معاملے میں حاکمانہ انداز اختیار نہ کریں۔
بہو کو قبول نہ کرنا:
کبھی کبھی والدین دل سے بہو کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اسے “غیر” سمجھتے ہیں، اس کی ہر بات میں خامی تلاش کرتے ہیں یا اسے احساس دلاتے ہیں کہ وہ اس گھر کی نہیں۔ اس رویّے سے بہو احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے اور خاندان میں فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔اگر بہو کو بیٹی کی طرح محبت اور احترام دیا جائے تو وہ بھی ماں باپ جیسی عزت و خدمت پیش کرتی ہے۔
بیٹے کی توجہ تقسیم ہونے کو برداشت نہ کرنا:
بعض والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ شادی کے بعد بیٹا ان سے دور ہوگیا ہے، اس لئے وہ انجانے میں بہو کے خلاف ذہن سازی شروع کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھتی ہیں، محبت تقسیم نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ سمجھدار والدین اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں اور اپنے بیٹے کی نئی زندگی میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔
انا اور ضد کو مسئلہ بنا لینا:
خاندانی اختلافات کی ایک بڑی وجہ انا اور ضد بھی ہے۔ کبھی والدین اپنی عمر اور تجربے کی بنیاد پر ہر بات منوانا چاہتے ہیں جبکہ نئی نسل اپنی سوچ رکھتی ہے۔ اگر دونوں جانب برداشت، مکالمہ اور نرمی نہ ہو تو معمولی مسائل بھی بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں۔
اسلامی اور اخلاقی تعلیمات
اسلام خاندان کو محبت، احترام، عدل اور حسنِ سلوک کی بنیاد پر قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں والدین کے احترام کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق اور حسنِ معاشرت کی بھی واضح تعلیم دی گئی ہے۔ ایک کامیاب گھر وہی ہوتا ہے جہاں والدین شفقت اور حکمت سے پیش آئیں،بہو کو عزت اور اعتماد دیا جائے،بیٹا عدل اور توازن قائم رکھے،اور سب ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
بیٹے کی شادی کے بعد والدین کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنی مرضی مسلط کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک نئی زندگی کو محبت، حکمت اور دعا کے ساتھ پروان چڑھائیں۔ اگر والدین اپنی انا، غیر ضروری توقعات اور مسلسل مداخلت سے گریز کریں تو گھر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔محبت، برداشت، عزت، صبر اور سمجھداری ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک خوشحال خاندان قائم رہتا ہے۔ والدین اگر اپنے بیٹے اور بہو کو اعتماد، اپنائیت اور دعا کے ساتھ زندگی گزارنے دیں تو گھر میں سکون، برکت اور خوشیاں ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں