راجوری،
سرحدی ضلع راجوری کے گھمبیر مغلاں کے جنگلاتی علاقے میں گزشتہ آٹھ روز سے آپریشن شیرو والی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ یہ سرچ آپریشن سکیورٹی فورسز کو ملی خفیہ جانکاری کے بعد شروع کیا گیا تھا تاہم آپریشن کے دوسرے روز فوج کی طرف سے سوشل میڈیا ہینڈل X پر جانکاری فراہم کی گئی تھی کہ اس علاقہ میں دو سے تین ملیٹنٹ ہونے کا اندیشہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد اس علاقہ میں وقفہ وقفہ سے دونوں اطراف سے گولیوں کا بھی تبادلہ ہوتا رہا۔ آج آپریشن کا آٹھواں روز ہے اور اس پورے علاقے کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ اس علاقے میں آپریشن کے دوران کئی بڑے افسران نے بھی دورہ کرکے جائزہ لیا.خبر کے مطابق جنگل گھنا ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو بہت کی طرح کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ تاہم اس آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہیلی کاپٹر، اسنائپر، ڈاگز، ڈرون و دیگر الکٹرانکس آلات کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔پورے علاقے کو چاروں اطراف سے بند کر دیا گیا
تاہم سکیورٹی فورسز کی طرف سے آج اس پورے علاقے کو چاروں اطراف سے عام لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور نزدیکی سڑک پر سفر کرنے والے ہر شخص کو چاہے وہ انسان ہو یا گاڑی ہو۔ پوری مستعدی سے چیک کیا جا رہا ہے


