فلسفہ قربانی

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اللہ رب العزت نے اپنا قرب عطا کرنے کے واسطے اپنے بندوں کے لئے جن عبادات کو مشروع کیا ہے، ان میں سے ایک قربانی بھی ہے۔ اس کی مشروعیت قرآن، حدیث اور اجماع سبھی سے ثابت ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صرف اسی امت پر اسے عائد نہیں کیا بلکہ پچھلی امتوں کو بھی اس کا مکلف بنایا تھا۔ ارشاد ربانی ہے:(ترجمہ): ’’ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ جو مویشی چوپائے ہم نے اُنھیں عطا کیے ہیں (اُن کے ذبح کے وقت) اُن پر اللہ کا نام لیا کریں، پس تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، لہٰذا تم اُسی کے تابع فرمان ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ‘‘ (الحج:۳۴)۔ اس امت پر یہ قربانی نماز عیدین کی طرح سنہ ۳ھ میں مشروع ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو اس کی تاکید کی اور فرمایا: ’’مَنْ کَانَ لَہُ مَالٌ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘یعنی ’’جس کے پاس مال ہو اور وہ قربانی نہ کرے تواسے چاہیے کہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے‘‘۔(مستدرک حاکمؒ، حدیث نمبر ۷۵۶۵، بروایت ابوہریرہؓ)۔ اس کی فضیلت میں آپؐ کا یہ ارشاد منقول ہے: ’’ قربانی کے دن خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ قرب کا باعث ہو، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے آگے مکان قبولیت میں گرتاہے، سو خوش دل ہو تم اس بشارت سے۔‘‘ (مستدرک حاکمؒ، حدیث نمبر ۷۵۲۳، بروایت عائشہؓ)۔ نیزیہ پوچھے جانے پر کہ اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے، آپ ؐنے فرمایا : ’’بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ ‘‘ یعنی ’’اس کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہؒ، حدیث نمبر ۳۱۲۷، بروایت زید بن ارقمؓ)۔ البتہ ابن ماجہ کی یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔
قربانی جمہور فقہا جن میں امام طحاویؒ کے قول کے مطابق امام یوسفؒ اور امام محمدؒ بھی شامل ہیں ،کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے لیکن امام ابوحنیفہؒ اسے ہرآزاد صاحب استطاعت مقیم شخص پر واجب بتاتے ہیں اور ان کے یہاں اس سلسلے میں بلوغت کی بھی شرط نہیں تاہم احناف کا فتویٰ وجوب کا عاقل و بالغ ہی کے لیے ہے جو امام صاحب کے ہی ایک قول جو ظاہر الروایہ میں ہے کی بنیاد پر ہے ۔ (الفقہ الاسلامی و أدلتہ تالیف وھبۃ الزحیلیؒ ،دارالفکر، دمشق، طبع ثانی، ۱۴۰۵؁ھ، جلد ۳ ، صفحات ۵۹۵-۵۹۶، ۶۰۴)۔ بہرحال ہر دور میں مسلمان اتباع نبویؐ میں قربانی کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جار ی ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا قربانی کی مشروعیت صرف حصول ثواب کے لیے ہے یا اس کی اور بھی کچھ حکمتیں ہیں؟
حقیت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو جن عبادات سے نوازا ہے، ان کی حکمتوں میں غور و خوض کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عبادات جہاں تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہیں وہیں ان میں ایمانی، روحانی اور اخلاقی تربیت کا پہلو بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہی حال قربانی کا بھی ہے۔ لیکن جس طرح دیگر عبادتوں کو ہم لوگوں نے رسمیت کا جامہ پہنا دیا ہے، قربانی کا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہیںہے۔ برسہا برس سے ہم لوگ قربانی کرتے آرہے ہیں لیکن اس کی حکمتوں اور اسرار و رموز سے واقف نہیں ہونے کی وجہ سے یا ان کا استحضار نہیں رہنے کی وجہ سے قربانی ہماری ایمانی، روحانی اور اخلاقی حالتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی لاتی نظر نہیں آتی حالاں کہ علمائے سلف و خلف نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی حکمتوں سے ہمیں خوب آگاہ بھی کردیا ہے۔ ابھی عید قربان کی آمد آمد ہے اور ہر صاحب استطاعت مسلمان ملک کے حالات کے ناخوشگوار، تہدید آمیز اور غیرمحفوظ ہونے کے باوجود اپنے جذبۂ مسلمانی کے تحت قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے اس فلسفہ کوہم ایک بار پھر یاد کریں اور اپنا محاسبہ بھی کریں کہ اب تک کی قربانی سے ہم نے کیا سبق سیکھاہے ؟
سب سے پہلے تو اس بات پر غور کیجیے کہ جانور تو آپ آج بھی ذبح کر سکتے ہیں اورفقراء ، مساکین اور ضرورت مندوںمیں اس کا گوشت تقسیم کرسکتے ہیں بلکہ اس کا بھی امکان ہے ملک کے کسی خطہ میں لوگوں کے امداد کی ضرورت آج بہ نسبت ایام النحر کے زیادہ ہو لیکن کیا وہ قربانی کہی جائے گی یا قربانی کا درجہ حاصل کر پائے گی؟ مجھے امید ہے کہ آپ یہی کہیں گے کہ یقینا یہ ایک نیکی اور ثواب کا کام تو ہوگا لیکن اسے قربانی نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس عمل کو اللہ کے یہاں وہ مقام حاصل ہوسکتا ہے جو قربانی کو حاصل ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺنے چند خاص دنوںمیں ہی قربانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے فقہا نے قربانی کی تعریف وقت کے حوالہ سے ہی کی ہے۔ مثلاًشیخ وھبۃ الزحیلیؒ نے قربانی کی تعریف اس طرح کی ہے: ’’ھي ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ في وقت مخصوص‘‘ یعنی ’’قربانی سے مراد قرب الٰہی کے حصول کے لیے ایک وقت مخصوص پر ایک مخصوص جانور کو ذبح کرنا ہے۔‘‘ (الفقہ الاسلامی و أدلتہ، جلد ۳ ، صفحہ ۵۹۴)۔
وقت مخصوص سے مراد ایام النحرکے تین دن یعنی ۱۰، ۱۱ ، ۱۲؍ذی الحجہ ہیں جیسا کہ عبداللہ بن عمرؓ کے اثر سے واضح ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’الْأَضْحٰی یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمِ الْأَضْحٰی‘‘یعنی ’’قربانی دو دنوں تک درست ہے بعد عیدالالضحیٰ کے۔‘‘ (مؤطا امام مالکؒ، حدیث نمبر ۱۷۷۴، بروایت نافعؒ)۔ ابوحنیفہؒ،مالکؒ اور احمد بن حنبلؒ ، تینوں ائمہ کا قول و عمل اسی روایت پر ہے لیکن امام شافعیؒ قربانی کا آخری وقت ۱۳؍ ذی الحجہ تک مانتے ہیں۔ (مظاہر حق جدید، دار الاشاعت، کراچی، ۲۰۰۹؁ء، جلد اول، صفحہ ۹۲۶)۔ ان کی دلیل ابن حبانؒ کی یہ روایت ہے جس کے الفاظ ہیں : ’’وَفِي کُلِّ أَیَّامِ  التَّشْرِیْقِ ذَبَحٌ‘‘یعنی’’تمام ایام تشریق میں ذبح (قربانی) کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبانؒ، حدیث نمبر ۳۸۵۴، بروایت حضرت جبیر بن مطعمؓ)۔ بہرحال جن کے نزدیک جو قول بھی راجح ہو ان مخصوص ایام کے پہلے یا بعد ان کے نزدیک قربانی درست نہیں ہوسکتی۔ مشہور فقیہ علامہ عبد الرحمٰن الجزیریؒ قربانی کے شرائط میں لکھتے ہیں۔ ’’و منھا الوقت المخصوص، فلا تصح إِذا فعلت قبلہ أو بعدہ‘‘یعنی منجملہ ان کے قربانی کا مقررہ اوقات میں ہونا ہے، لہٰذا اگر وقت سے پہلے یا بعد میں قربانی کی جائے تو درست نہ ہوگی۔ (الفقہ علی  المذاہب الأربعۃ،دارالکتب العلمیہ،بیروت (لبنان)، طبع ثانی، ۱۴۲۴؁ھ، جلد۱، صفحہ ۶۴۷)۔ حتیٰ کہ ۱۰؍ذی الحجہ کو بھی اگر نماز عید الاضحی کے قبل جانور ذبح کردیا تو اکثر فقہا کے نزدیک قربانی نہیں ہوئی کیوں کہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے قبل از نماز قربانی کرنے والے کو قربانی کے اعادہ کا حکم فرمایا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا أُخْرٰی‘‘ یعنی ’’جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہو تو وہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربانی کرے۔‘‘ (صحیح بخاریؒ ، حدیث نمبر ۵۵۶۲، بروایت حضرت جندب بن سفیان بجلیؓ)۔
حج کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ عرفات کا میدان کھلا پڑا ہے، آپ جب چاہیں اور جس وقت چاہیں وہاں جاسکتے ہیں لیکن آج اگر آپ وہاں چلے جائیں تو آپ کا نہ توحج ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی اجر ملے گالیکن عرفات کی یہی حاضری تھوڑی دیر کے لیے بھی اگر ۹؍ذی الحجہ کو احرام کے ساتھ ہوجائے تو آپ حج کی سعادت سے بہرور ہوجائیں گے۔ ان مثالوں سے جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا حکم اصل ہے۔ کسی عمل کے اندر بذات خود کوئی تقدس نہیں جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا حکم اس میں پیوست نہ ہوجائے یا یوںکہیے کہ کوئی عمل عبادت کا مقام حاصل نہیں کرسکتا جب تک بشمول ایمان و اخلاص کے وہ اللہ کے حکم اور نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو۔ اگر ہم لوگ ان باتوں پر غور کرتے تو بدعات (یعنی خود کے ایجاد کردہ اعمال جن کا داعیہ اور سبب موجود رہنے کے باوجود ان کی اصل قرن اولیٰ میںنہیں ملتی) کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی سعی کرنے کی کبھی غلطی نہ کرتے۔
اب اس بات پر بھی غور کیجیے کہ اللہ رب العزت نے آپ کو قربانی کا حکم دیا اور آپ نے قربانی کی لیکن اس کے پاس نہ تو قربانی کا گوشت پہنچااور نہ ہی خون بلکہ اس نے گوشت ہم آپ کو ہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی جسے اللہ کی میزبانی کی طور پر ہم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ تو پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس کیا پہنچا؟ قرآن اس سوال کاجواب یوں دیتا ہے: ’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اُس کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔‘‘ (الحج:۳۷)۔ تقویٰ کیا ہے؟ یہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کے احکام کی عظمت کی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے وہ ان کا پاس و لحاظ رکھتا ہے اور اس سے سرمو برابر انحراف نہیں کرنا چاہتا اور جس کے پیچھے اللہ کی خوشنودی کے حصول کے علاوہ اور کوئی محرک بھی نہیں ہوتا۔ اب اس قربانی پر غور کیجیے! اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو ہم اسے بجالاتے ہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کو ان معصوم جانوروں کی جان لینے سے کیا فائدہ پہنچے گا یا پھر اس پر جو مال کا صرفہ ہوگا اسے صدقہ بھی تو کیا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے خاص ایام میں ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو ہم اس کا بھی لحاظ رکھتے ہیں، اس سے قبل یا بعد نہیں کرتے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی بھی قید لگائی کہ جانور کس قسم کے ہونے چاہیے یعنی تندرست و توانا ہو اور عیب دار اور معذور نہ ہو تو ہم اس کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ ذبح کرتے وقت ان جانوروں پر میرا ہی نام لیاجائے تو ہم کسی اور کا نام لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تونیکی کے بجائے گناہ لازم آئے گا اور اس کا گوشت بھی ہمارے لئے حلال نہیں رہ جائے گا کیوں کہ قرآن کا اعلان ہے: ’’حرام کردیا گیا ہے تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔‘‘ (المائدۃ:۳)۔ پھر اللہ رب العزت نے یہ حکم دیا کہ قربانی خالصتاً میرے لیے ہی کی جائے اور اس میں میری رضا و خوشنودی کے علاوہ اور کوئی نیت نہ ہو۔ {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} ’’پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔‘‘ (الکوثر:۲)۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’ آپ کہہ دیجیے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی (سمیت ساری عبادات) اور میرا جینااور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔‘‘ (الانعام:۱۶۲-۱۶۳)۔
چنانچہ ہر سال قربانی میں جانورکو ذبح کرتے وقت ہم اس دعا کو پڑھ کر جو اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائی ہے اس بات کا اقرار اور تجدید کرتے ہیں۔’’إِنِّي وَجَّہْتَ وَجْھِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ، اللّٰہمَّ مِنْکَ وَلَکَ‘‘ ’’بلاشبہ میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم ؑ کی ملت پر ہوں ، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز میری قربانی (بلکہ تمام عبادتیں)، میرا جینا اور میرا مرناخالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہاں کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے اور خاص تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر ۲۷۹۵، بروایت جابر بن عبداللہؓ)۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کے لیے قربانی کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ یہ شرک ہو گا اور ہم بجائے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے اس کی لعنت کے مستحق ہوجائیں گے کیوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص پر اللہ کی لعنت کی بددعا کی ہے۔آپ ؐ کاارشاد ہے:’’لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ ‘‘ ’’اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جو ذبح کرے جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۵۱۲۵، بروایت حضرت علیؓ)۔
اللہ کے اغیار کے لیے قربانی کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اگر کسی نے اس میں صرف گوشت کی نیت کرلی اور عبادت کی نیت نہیں کی تو فقہا کے ایک طبقہ کے مطابق اس کی قربانی نہیں ہوئی اور وہ ایسے ہی ہے جیسے عام دنوں میں گوشت کے لیے جانور ذبح کرنا۔ اسی لیے شرکت کی قربانی کے سلسلے میں احناف کے یہاں ایک کڑی شرط ہے کہ قربانی میں کسی ایسے آدمی کو شریک نہ کیا جائے جس کی نیت عبادت کی بالکل نہ ہوبلکہ گوشت کی ہو۔ اگر ایک اونٹ یا بچھڑے میں سات آدمی شریک ہوئے ، سب کی نیت عبادت کی تھی سوائے ایک شخص کے کہ وہ گوشت کی نیت کئے ہوئے تھا، تو کسی کی طرف سے بھی قربانی نہیں ہوگی کیوں کہ عبادت (اللہ کے لیے )خون بہانے میں ہے اور اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے اس لیے کہ یہ ایک ہی فعل اور ایک ہی ذبح ہے۔‘‘(الفقہ الاسلامی و أدلتہ،جلد ۳ ، صفحہ ۶۰۵)۔
اتنی ساری پابندیوں کا لحاظ کرتے ہوئے قربانی کی جاتی ہے تو اللہ کے یہاں وہ تقرب کا باعث ہوتی ہے۔ اب ذرا اس بات پر بھی غور کریں کہ کیا واقعی ہم ان پابندیوں کا لحاظ استحضار کے ساتھ کررہے ہیں یا ہم سے عادتاً یا رسماً یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ؐ کے احکام کا ہمیں اتنا پاس و لحاظ ہے تو زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی یہ ہونا چاہیے۔ قربانی کی دعا کے الفاظ اور معنی پر غور کیجیے کہ ہر سال ہم اس بات کا اقرار بھی کررہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یعنی اللہ کے طابع فرمان و اطاعت گزار ہیں اور اس کا کوئی شریک نہیںلیکن زندگی کے دوسرے شعبوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺکے احکام کی نہ وہ اطاعت نظر آتی ہے اور نہ ہی شرکیہ اعمال سے ہی ہماری زندگی خالی ہے۔ تو آخر یہ کیسا تقویٰ ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم قربانی صرف گوشت کے لیے یا تفاخر کے طور پر کر رہے ہیں؟
جاننا چاہیے کہ اصل قربانی تو اپنے نفس کی ہے اور جانور تو حقیقت میں ایک علامت ہے ۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ قربانی کرتے وقت ہم اللہ کی طرف متوجہ ہوکر اپنے دل میں یہ کہیں کہ اے میرے رب ! یہ جانور کیا چیزہے، تیرے احکام کی پاسداری ا ور دین کی سربلندی کے لیے بندہ اپنی جان، مال اور اولاد کی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قربانی سے پیدا کرنا مطلوب ہے اوریہی وہ جذبہ تھا جس نے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے پر آمادہ کیا اور اللہ کی طرف سے آئی اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر ہی وہ انسانیت کی امامت کے منصب پر سرفراز کیے گئے ۔ جس کے اندر یہ جذبہ ہوگا وہ سب سے پہلے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کے تابع کرے گاجس کے بغیر ایمان کی تکمیل ہی ممکن نہیںکیوں کہ آپؐکا ارشادہے : ’’ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘‘  ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات نفس ان ہدایات کے تابع نہ ہوجائے جن کو میں لے کر آیا ہوں۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر ۱۶۷، بروایت عبد اللہؓ بن عمروبن العاصؓ)۔ نفس کے مطیع ہونے کی علامت ہی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام پر صبر و استقامت کے ساتھ جم جائے جیسا کہ دین حنیف کے امام ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی زندگی سے سبق ملتا ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا جو حکم نفس کو اچھا لگا وہ تو پورا کردیا اور جو نفس پر گراں گزرا، اسے ترک کردیا۔ قربانی سے اگر ہم نے یہ سبق نہیں لیا تو اللہ تعالیٰ کو گوشت اور خون سے کیا لینا۔
مال، جان اورنفس کی قربانی اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے ان عظیم جذبوں کو پیدا کرنے کے علاوہ قربانی سے محتاجوں اور غریبوں کی ہمدردی، غم گساری اور مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرنا بھی مطلوب ہے جیسا کہ اللہ رب العزت کے اس ارشاد سے واضح ہے: ’’اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، ان میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے، پس تم (قربانی کے وقت) انھیںقطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر پڑیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اس طرح ہم نے اُن کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجالاؤ۔‘‘ (الحج:۳۶ )۔ قربانی کا گوشت خود کھانے کی اجازت اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اسی امت کو دی ہے ، پچھلی امتوں کو نہیں دی لیکن ساتھ ہی غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھنے کی بھی تاکید کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی سے امرا کے اندر غربا پروری، بخشش و مہربانی اور سخاوت و ایثار نفس جیسی صفات کا پیدا کرنا بھی مقصود ہے۔ اس طرح قربانی مسلمانوں کی اجتماعیت کا بھی مظہر ہے اور اس سے آپس کے تعلقات کے بہتر ہونے کی بھی توقع کی جاتی ہے۔
یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قربانی کے مشروع ہونے کے ابتدائی سال میں اللہ کے رسول ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے اور استعمال کرنے سے منع کیا تھا لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی اوریہ کہا تھا کہ پچھلے سال چوں کہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میںان کی مدد کرو۔(صحیح بخاریؒ ، حدیث نمبر ۵۵۶۹، بروایت حضرت سلمہ بن الاکوع)۔ اس حدیث سے رسول پاکﷺ کی منشا بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ اگر آج بھی ایسے حالات ہوں کہ قرب و جوار کے لوگ تنگی میں مبتلا ہوں تو بجائے ان تنگ دستوں اور محتاجوں کی ضرورت کاخیال رکھنے کے فریزر میں گوشت کا ذخیرہ کرنا اور مہینوں اپنی ذات پر استعمال کرتے رہنا، یقینا منشاء نبویؐؐاور جذبہ قربانی کے خلاف ہوگا۔ نیزسورۃالحج کی مذکورہ آیت۳۶ سے یہ بھی مستفاد ہے کہ قربانی میں اللہ کے اُس انعام کی شکر گزاری کا پہلو بھی شامل ہے جو اُس نے ان جانوروں کو ہمارے لیے مسخر کرکے کیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کوان جذبوں کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

فلسفہ قربانی

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اللہ رب العزت نے اپنا قرب عطا کرنے کے واسطے اپنے بندوں کے لئے جن عبادات کو مشروع کیا ہے، ان میں سے ایک قربانی بھی ہے۔ اس کی مشروعیت قرآن، حدیث اور اجماع سبھی سے ثابت ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صرف اسی امت پر اسے عائد نہیں کیا بلکہ پچھلی امتوں کو بھی اس کا مکلف بنایا تھا۔ ارشاد ربانی ہے:(ترجمہ): ’’ اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ جو مویشی چوپائے ہم نے اُنھیں عطا کیے ہیں (اُن کے ذبح کے وقت) اُن پر اللہ کا نام لیا کریں، پس تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، لہٰذا تم اُسی کے تابع فرمان ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ‘‘ (الحج:۳۴)۔ اس امت پر یہ قربانی نماز عیدین کی طرح سنہ ۳ھ میں مشروع ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو اس کی تاکید کی اور فرمایا: ’’مَنْ کَانَ لَہُ مَالٌ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘یعنی ’’جس کے پاس مال ہو اور وہ قربانی نہ کرے تواسے چاہیے کہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے‘‘۔(مستدرک حاکمؒ، حدیث نمبر ۷۵۶۵، بروایت ابوہریرہؓ)۔ اس کی فضیلت میں آپؐ کا یہ ارشاد منقول ہے: ’’ قربانی کے دن خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ قرب کا باعث ہو، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے آگے مکان قبولیت میں گرتاہے، سو خوش دل ہو تم اس بشارت سے۔‘‘ (مستدرک حاکمؒ، حدیث نمبر ۷۵۲۳، بروایت عائشہؓ)۔ نیزیہ پوچھے جانے پر کہ اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے، آپ ؐنے فرمایا : ’’بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ ‘‘ یعنی ’’اس کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہؒ، حدیث نمبر ۳۱۲۷، بروایت زید بن ارقمؓ)۔ البتہ ابن ماجہ کی یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔
قربانی جمہور فقہا جن میں امام طحاویؒ کے قول کے مطابق امام یوسفؒ اور امام محمدؒ بھی شامل ہیں ،کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے لیکن امام ابوحنیفہؒ اسے ہرآزاد صاحب استطاعت مقیم شخص پر واجب بتاتے ہیں اور ان کے یہاں اس سلسلے میں بلوغت کی بھی شرط نہیں تاہم احناف کا فتویٰ وجوب کا عاقل و بالغ ہی کے لیے ہے جو امام صاحب کے ہی ایک قول جو ظاہر الروایہ میں ہے کی بنیاد پر ہے ۔ (الفقہ الاسلامی و أدلتہ تالیف وھبۃ الزحیلیؒ ،دارالفکر، دمشق، طبع ثانی، ۱۴۰۵؁ھ، جلد ۳ ، صفحات ۵۹۵-۵۹۶، ۶۰۴)۔ بہرحال ہر دور میں مسلمان اتباع نبویؐ میں قربانی کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جار ی ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا قربانی کی مشروعیت صرف حصول ثواب کے لیے ہے یا اس کی اور بھی کچھ حکمتیں ہیں؟
حقیت یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو جن عبادات سے نوازا ہے، ان کی حکمتوں میں غور و خوض کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عبادات جہاں تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہیں وہیں ان میں ایمانی، روحانی اور اخلاقی تربیت کا پہلو بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہی حال قربانی کا بھی ہے۔ لیکن جس طرح دیگر عبادتوں کو ہم لوگوں نے رسمیت کا جامہ پہنا دیا ہے، قربانی کا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہیںہے۔ برسہا برس سے ہم لوگ قربانی کرتے آرہے ہیں لیکن اس کی حکمتوں اور اسرار و رموز سے واقف نہیں ہونے کی وجہ سے یا ان کا استحضار نہیں رہنے کی وجہ سے قربانی ہماری ایمانی، روحانی اور اخلاقی حالتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی لاتی نظر نہیں آتی حالاں کہ علمائے سلف و خلف نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی حکمتوں سے ہمیں خوب آگاہ بھی کردیا ہے۔ ابھی عید قربان کی آمد آمد ہے اور ہر صاحب استطاعت مسلمان ملک کے حالات کے ناخوشگوار، تہدید آمیز اور غیرمحفوظ ہونے کے باوجود اپنے جذبۂ مسلمانی کے تحت قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے اس فلسفہ کوہم ایک بار پھر یاد کریں اور اپنا محاسبہ بھی کریں کہ اب تک کی قربانی سے ہم نے کیا سبق سیکھاہے ؟
سب سے پہلے تو اس بات پر غور کیجیے کہ جانور تو آپ آج بھی ذبح کر سکتے ہیں اورفقراء ، مساکین اور ضرورت مندوںمیں اس کا گوشت تقسیم کرسکتے ہیں بلکہ اس کا بھی امکان ہے ملک کے کسی خطہ میں لوگوں کے امداد کی ضرورت آج بہ نسبت ایام النحر کے زیادہ ہو لیکن کیا وہ قربانی کہی جائے گی یا قربانی کا درجہ حاصل کر پائے گی؟ مجھے امید ہے کہ آپ یہی کہیں گے کہ یقینا یہ ایک نیکی اور ثواب کا کام تو ہوگا لیکن اسے قربانی نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس عمل کو اللہ کے یہاں وہ مقام حاصل ہوسکتا ہے جو قربانی کو حاصل ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺنے چند خاص دنوںمیں ہی قربانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے فقہا نے قربانی کی تعریف وقت کے حوالہ سے ہی کی ہے۔ مثلاًشیخ وھبۃ الزحیلیؒ نے قربانی کی تعریف اس طرح کی ہے: ’’ھي ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ في وقت مخصوص‘‘ یعنی ’’قربانی سے مراد قرب الٰہی کے حصول کے لیے ایک وقت مخصوص پر ایک مخصوص جانور کو ذبح کرنا ہے۔‘‘ (الفقہ الاسلامی و أدلتہ، جلد ۳ ، صفحہ ۵۹۴)۔
وقت مخصوص سے مراد ایام النحرکے تین دن یعنی ۱۰، ۱۱ ، ۱۲؍ذی الحجہ ہیں جیسا کہ عبداللہ بن عمرؓ کے اثر سے واضح ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’الْأَضْحٰی یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمِ الْأَضْحٰی‘‘یعنی ’’قربانی دو دنوں تک درست ہے بعد عیدالالضحیٰ کے۔‘‘ (مؤطا امام مالکؒ، حدیث نمبر ۱۷۷۴، بروایت نافعؒ)۔ ابوحنیفہؒ،مالکؒ اور احمد بن حنبلؒ ، تینوں ائمہ کا قول و عمل اسی روایت پر ہے لیکن امام شافعیؒ قربانی کا آخری وقت ۱۳؍ ذی الحجہ تک مانتے ہیں۔ (مظاہر حق جدید، دار الاشاعت، کراچی، ۲۰۰۹؁ء، جلد اول، صفحہ ۹۲۶)۔ ان کی دلیل ابن حبانؒ کی یہ روایت ہے جس کے الفاظ ہیں : ’’وَفِي کُلِّ أَیَّامِ  التَّشْرِیْقِ ذَبَحٌ‘‘یعنی’’تمام ایام تشریق میں ذبح (قربانی) کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبانؒ، حدیث نمبر ۳۸۵۴، بروایت حضرت جبیر بن مطعمؓ)۔ بہرحال جن کے نزدیک جو قول بھی راجح ہو ان مخصوص ایام کے پہلے یا بعد ان کے نزدیک قربانی درست نہیں ہوسکتی۔ مشہور فقیہ علامہ عبد الرحمٰن الجزیریؒ قربانی کے شرائط میں لکھتے ہیں۔ ’’و منھا الوقت المخصوص، فلا تصح إِذا فعلت قبلہ أو بعدہ‘‘یعنی منجملہ ان کے قربانی کا مقررہ اوقات میں ہونا ہے، لہٰذا اگر وقت سے پہلے یا بعد میں قربانی کی جائے تو درست نہ ہوگی۔ (الفقہ علی  المذاہب الأربعۃ،دارالکتب العلمیہ،بیروت (لبنان)، طبع ثانی، ۱۴۲۴؁ھ، جلد۱، صفحہ ۶۴۷)۔ حتیٰ کہ ۱۰؍ذی الحجہ کو بھی اگر نماز عید الاضحی کے قبل جانور ذبح کردیا تو اکثر فقہا کے نزدیک قربانی نہیں ہوئی کیوں کہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے قبل از نماز قربانی کرنے والے کو قربانی کے اعادہ کا حکم فرمایا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا أُخْرٰی‘‘ یعنی ’’جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہو تو وہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربانی کرے۔‘‘ (صحیح بخاریؒ ، حدیث نمبر ۵۵۶۲، بروایت حضرت جندب بن سفیان بجلیؓ)۔
حج کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ عرفات کا میدان کھلا پڑا ہے، آپ جب چاہیں اور جس وقت چاہیں وہاں جاسکتے ہیں لیکن آج اگر آپ وہاں چلے جائیں تو آپ کا نہ توحج ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی اجر ملے گالیکن عرفات کی یہی حاضری تھوڑی دیر کے لیے بھی اگر ۹؍ذی الحجہ کو احرام کے ساتھ ہوجائے تو آپ حج کی سعادت سے بہرور ہوجائیں گے۔ ان مثالوں سے جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا حکم اصل ہے۔ کسی عمل کے اندر بذات خود کوئی تقدس نہیں جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا حکم اس میں پیوست نہ ہوجائے یا یوںکہیے کہ کوئی عمل عبادت کا مقام حاصل نہیں کرسکتا جب تک بشمول ایمان و اخلاص کے وہ اللہ کے حکم اور نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو۔ اگر ہم لوگ ان باتوں پر غور کرتے تو بدعات (یعنی خود کے ایجاد کردہ اعمال جن کا داعیہ اور سبب موجود رہنے کے باوجود ان کی اصل قرن اولیٰ میںنہیں ملتی) کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی سعی کرنے کی کبھی غلطی نہ کرتے۔
اب اس بات پر بھی غور کیجیے کہ اللہ رب العزت نے آپ کو قربانی کا حکم دیا اور آپ نے قربانی کی لیکن اس کے پاس نہ تو قربانی کا گوشت پہنچااور نہ ہی خون بلکہ اس نے گوشت ہم آپ کو ہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی جسے اللہ کی میزبانی کی طور پر ہم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ تو پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس کیا پہنچا؟ قرآن اس سوال کاجواب یوں دیتا ہے: ’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اُس کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔‘‘ (الحج:۳۷)۔ تقویٰ کیا ہے؟ یہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کے احکام کی عظمت کی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے وہ ان کا پاس و لحاظ رکھتا ہے اور اس سے سرمو برابر انحراف نہیں کرنا چاہتا اور جس کے پیچھے اللہ کی خوشنودی کے حصول کے علاوہ اور کوئی محرک بھی نہیں ہوتا۔ اب اس قربانی پر غور کیجیے! اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو ہم اسے بجالاتے ہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کو ان معصوم جانوروں کی جان لینے سے کیا فائدہ پہنچے گا یا پھر اس پر جو مال کا صرفہ ہوگا اسے صدقہ بھی تو کیا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے خاص ایام میں ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو ہم اس کا بھی لحاظ رکھتے ہیں، اس سے قبل یا بعد نہیں کرتے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی بھی قید لگائی کہ جانور کس قسم کے ہونے چاہیے یعنی تندرست و توانا ہو اور عیب دار اور معذور نہ ہو تو ہم اس کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ ذبح کرتے وقت ان جانوروں پر میرا ہی نام لیاجائے تو ہم کسی اور کا نام لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تونیکی کے بجائے گناہ لازم آئے گا اور اس کا گوشت بھی ہمارے لئے حلال نہیں رہ جائے گا کیوں کہ قرآن کا اعلان ہے: ’’حرام کردیا گیا ہے تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔‘‘ (المائدۃ:۳)۔ پھر اللہ رب العزت نے یہ حکم دیا کہ قربانی خالصتاً میرے لیے ہی کی جائے اور اس میں میری رضا و خوشنودی کے علاوہ اور کوئی نیت نہ ہو۔ {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} ’’پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔‘‘ (الکوثر:۲)۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’ آپ کہہ دیجیے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی (سمیت ساری عبادات) اور میرا جینااور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔‘‘ (الانعام:۱۶۲-۱۶۳)۔
چنانچہ ہر سال قربانی میں جانورکو ذبح کرتے وقت ہم اس دعا کو پڑھ کر جو اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں سکھائی ہے اس بات کا اقرار اور تجدید کرتے ہیں۔’’إِنِّي وَجَّہْتَ وَجْھِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ، اللّٰہمَّ مِنْکَ وَلَکَ‘‘ ’’بلاشبہ میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم ؑ کی ملت پر ہوں ، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز میری قربانی (بلکہ تمام عبادتیں)، میرا جینا اور میرا مرناخالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہاں کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے اور خاص تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر ۲۷۹۵، بروایت جابر بن عبداللہؓ)۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کے لیے قربانی کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ یہ شرک ہو گا اور ہم بجائے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے اس کی لعنت کے مستحق ہوجائیں گے کیوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص پر اللہ کی لعنت کی بددعا کی ہے۔آپ ؐ کاارشاد ہے:’’لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ ‘‘ ’’اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جو ذبح کرے جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۵۱۲۵، بروایت حضرت علیؓ)۔
اللہ کے اغیار کے لیے قربانی کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اگر کسی نے اس میں صرف گوشت کی نیت کرلی اور عبادت کی نیت نہیں کی تو فقہا کے ایک طبقہ کے مطابق اس کی قربانی نہیں ہوئی اور وہ ایسے ہی ہے جیسے عام دنوں میں گوشت کے لیے جانور ذبح کرنا۔ اسی لیے شرکت کی قربانی کے سلسلے میں احناف کے یہاں ایک کڑی شرط ہے کہ قربانی میں کسی ایسے آدمی کو شریک نہ کیا جائے جس کی نیت عبادت کی بالکل نہ ہوبلکہ گوشت کی ہو۔ اگر ایک اونٹ یا بچھڑے میں سات آدمی شریک ہوئے ، سب کی نیت عبادت کی تھی سوائے ایک شخص کے کہ وہ گوشت کی نیت کئے ہوئے تھا، تو کسی کی طرف سے بھی قربانی نہیں ہوگی کیوں کہ عبادت (اللہ کے لیے )خون بہانے میں ہے اور اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے اس لیے کہ یہ ایک ہی فعل اور ایک ہی ذبح ہے۔‘‘(الفقہ الاسلامی و أدلتہ،جلد ۳ ، صفحہ ۶۰۵)۔
اتنی ساری پابندیوں کا لحاظ کرتے ہوئے قربانی کی جاتی ہے تو اللہ کے یہاں وہ تقرب کا باعث ہوتی ہے۔ اب ذرا اس بات پر بھی غور کریں کہ کیا واقعی ہم ان پابندیوں کا لحاظ استحضار کے ساتھ کررہے ہیں یا ہم سے عادتاً یا رسماً یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول ؐ کے احکام کا ہمیں اتنا پاس و لحاظ ہے تو زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی یہ ہونا چاہیے۔ قربانی کی دعا کے الفاظ اور معنی پر غور کیجیے کہ ہر سال ہم اس بات کا اقرار بھی کررہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یعنی اللہ کے طابع فرمان و اطاعت گزار ہیں اور اس کا کوئی شریک نہیںلیکن زندگی کے دوسرے شعبوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺکے احکام کی نہ وہ اطاعت نظر آتی ہے اور نہ ہی شرکیہ اعمال سے ہی ہماری زندگی خالی ہے۔ تو آخر یہ کیسا تقویٰ ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم قربانی صرف گوشت کے لیے یا تفاخر کے طور پر کر رہے ہیں؟
جاننا چاہیے کہ اصل قربانی تو اپنے نفس کی ہے اور جانور تو حقیقت میں ایک علامت ہے ۔ ہمارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ قربانی کرتے وقت ہم اللہ کی طرف متوجہ ہوکر اپنے دل میں یہ کہیں کہ اے میرے رب ! یہ جانور کیا چیزہے، تیرے احکام کی پاسداری ا ور دین کی سربلندی کے لیے بندہ اپنی جان، مال اور اولاد کی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قربانی سے پیدا کرنا مطلوب ہے اوریہی وہ جذبہ تھا جس نے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے پر آمادہ کیا اور اللہ کی طرف سے آئی اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر ہی وہ انسانیت کی امامت کے منصب پر سرفراز کیے گئے ۔ جس کے اندر یہ جذبہ ہوگا وہ سب سے پہلے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کے تابع کرے گاجس کے بغیر ایمان کی تکمیل ہی ممکن نہیںکیوں کہ آپؐکا ارشادہے : ’’ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘‘  ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات نفس ان ہدایات کے تابع نہ ہوجائے جن کو میں لے کر آیا ہوں۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر ۱۶۷، بروایت عبد اللہؓ بن عمروبن العاصؓ)۔ نفس کے مطیع ہونے کی علامت ہی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام پر صبر و استقامت کے ساتھ جم جائے جیسا کہ دین حنیف کے امام ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی زندگی سے سبق ملتا ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا جو حکم نفس کو اچھا لگا وہ تو پورا کردیا اور جو نفس پر گراں گزرا، اسے ترک کردیا۔ قربانی سے اگر ہم نے یہ سبق نہیں لیا تو اللہ تعالیٰ کو گوشت اور خون سے کیا لینا۔
مال، جان اورنفس کی قربانی اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کے ان عظیم جذبوں کو پیدا کرنے کے علاوہ قربانی سے محتاجوں اور غریبوں کی ہمدردی، غم گساری اور مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرنا بھی مطلوب ہے جیسا کہ اللہ رب العزت کے اس ارشاد سے واضح ہے: ’’اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، ان میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے، پس تم (قربانی کے وقت) انھیںقطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر پڑیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اس طرح ہم نے اُن کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجالاؤ۔‘‘ (الحج:۳۶ )۔ قربانی کا گوشت خود کھانے کی اجازت اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اسی امت کو دی ہے ، پچھلی امتوں کو نہیں دی لیکن ساتھ ہی غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھنے کی بھی تاکید کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی سے امرا کے اندر غربا پروری، بخشش و مہربانی اور سخاوت و ایثار نفس جیسی صفات کا پیدا کرنا بھی مقصود ہے۔ اس طرح قربانی مسلمانوں کی اجتماعیت کا بھی مظہر ہے اور اس سے آپس کے تعلقات کے بہتر ہونے کی بھی توقع کی جاتی ہے۔
یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قربانی کے مشروع ہونے کے ابتدائی سال میں اللہ کے رسول ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے اور استعمال کرنے سے منع کیا تھا لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی اوریہ کہا تھا کہ پچھلے سال چوں کہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میںان کی مدد کرو۔(صحیح بخاریؒ ، حدیث نمبر ۵۵۶۹، بروایت حضرت سلمہ بن الاکوع)۔ اس حدیث سے رسول پاکﷺ کی منشا بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ اگر آج بھی ایسے حالات ہوں کہ قرب و جوار کے لوگ تنگی میں مبتلا ہوں تو بجائے ان تنگ دستوں اور محتاجوں کی ضرورت کاخیال رکھنے کے فریزر میں گوشت کا ذخیرہ کرنا اور مہینوں اپنی ذات پر استعمال کرتے رہنا، یقینا منشاء نبویؐؐاور جذبہ قربانی کے خلاف ہوگا۔ نیزسورۃالحج کی مذکورہ آیت۳۶ سے یہ بھی مستفاد ہے کہ قربانی میں اللہ کے اُس انعام کی شکر گزاری کا پہلو بھی شامل ہے جو اُس نے ان جانوروں کو ہمارے لیے مسخر کرکے کیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کوان جذبوں کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں