بدھ کے مقدس آثار کی واپسی: 127 برس بعد تاریخ کی ایک خاموش فتح

 

جنگ فیچر

دنیا بھر میں نوآبادیاتی دور میں لوٹے گئے ثقافتی ورثے کی واپسی کی کہانیاں عموماً قانونی جنگوں، سفارتی مذاکرات یا طویل تنازعات سے جڑی ہوتی ہیں، لیکن بھارت میں پپراہوا سے برآمد ہونے والے بدھ مت کے مقدس آثار کی واپسی کی داستان ایک منفرد مثال بن کر ابھری ہے۔ یہ صرف چند تاریخی نوادرات کی واپسی نہیں بلکہ تہذیبی شناخت، قومی شعور اور نوآبادیاتی زخموں کے ازالے کی ایک علامتی کامیابی بھی ہے۔
مئی 2025 میں عالمی نیلامی ادارے “سوتھبیز” نے اعلان کیا کہ وہ لارڈ بدھ سے منسوب مقدس آثار کا ایک حصہ ہانگ کانگ میں نیلام کرے گا۔ یہ آثار 1898 میں موجودہ اتر پردیش کے پپراہوا مقام سے برطانوی دور کے ایک زمیندار ولیم کلاکسن پیپے نے دریافت کیے تھے۔ ان میں جواہرات، ہڈیوں کے ٹکڑے اور قدیم برہمی رسم الخط میں لکھی ہوئی محفوظ اشیاء شامل تھیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ مقام قدیم کپل وستو کے حدود میں آتا ہے، جو گوتم بدھ کی جائے پیدائش اور ابتدائی زندگی سے وابستہ خطہ سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت نے ان دریافت شدہ نوادرات کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا، جبکہ کچھ حصہ پیپے خاندان کے پاس رہا، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد یہی حصہ فروخت کے لئے پیش کیا گیا۔ مگر اب دنیا بدل چکی تھی۔ بھارت بھی اب اپنے تہذیبی ورثے کو خاموشی سے بیرون ملک نجی مجموعوں میں جانے دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔
پپراہوا آثار کی اہمیت اس لئے بھی منفرد تھی کہ یہ صرف تاریخی یا تزئینی نوادرات نہیں تھے بلکہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ اور ان کے خاندان سے براہ راست منسلک مقدس باقیات تھیں۔ برہمی رسم الخط میں درج تحریر ان آثار کو بدھ اور ان کے اہل خاندان سے جوڑتی ہے۔ دنیا بھر کے بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے یہ محض آثار قدیمہ کا معاملہ نہیں بلکہ گہری روحانی وابستگی کا مسئلہ ہے۔
نوآبادیاتی دور میں بھارت سے بے شمار قیمتی اشیاء بیرون ملک منتقل کی گئیں۔ کوہ نور ہیرا، سلطان گنج بدھ مجسمہ، قدیم مخطوطات اور مندروں کے مجسمے آج بھی مغربی عجائب گھروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یونان اپنے پارتھینون ماربلز، نائجیریا اپنے برونز مجسموں اور ایتھوپیا اپنے مذہبی نوادرات کی واپسی کے لئے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پپراہوا آثار کی واپسی ایک بڑی سفارتی اور ثقافتی کامیابی تصور کی گئی۔
بھارت کی وزارت ثقافت نے اس نیلامی کے خلاف فوری کارروائی کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے تہذیبی و مذہبی آثار کو نجی ملکیت کے طور پر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے قانونی اور اخلاقی دونوں بنیادوں پر دعویٰ کیا کہ یہ آثار نوآبادیاتی دور میں ہندوستانی عوام کی رضامندی کے بغیر یہاں سے لے جائے گئے تھے، اس لئے ان کی فروخت غیر اخلاقی ہے۔
بالآخر نیلامی روک دی گئی اور مذاکرات کے بعد 30 جولائی 2025 کو یہ مقدس آثار بھارت واپس لائے گئے۔ اس عمل میں حکومت ہند کے ساتھ “گودریج انڈسٹریز گروپ” نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک خاموش مگر تاریخی لمحہ تھا۔ 127 برس بعد بدھ کے مقدس آثار دوبارہ ہندوستانی سرزمین پر واپس پہنچ چکے تھے۔
ان آثار کی واپسی کے بعد نئی دہلی کے قلعہ رائے پتھورا ثقافتی مرکز میں “دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: ریلکس آف دی اویکنڈ ون” کے عنوان سے ایک عظیم الشان نمائش منعقد کی گئی، جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے 3 جنوری 2026 کو کیا۔ اس نمائش میں قومی عجائب گھر اور کولکاتا کے انڈین میوزیم سے لائی گئی 80 سے زائد نایاب اشیاء بھی پیش کی گئیں، جن میں مجسمے، مخطوطات، جواہرات اور مقدس صندوق شامل تھے۔
یہ واقعہ بھارت کے لئے صرف ایک ثقافتی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ نوآبادیات صرف سیاسی اور معاشی تسلط کا نام نہیں تھا بلکہ تہذیبی شناخت کی پامالی بھی اس کا حصہ تھی۔ ان آثار کی واپسی نے یہ پیغام دیا کہ جب کوئی قوم اپنے ورثے کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھ کر اس کے تحفظ کے لئے کھڑی ہو جائے تو تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتا ہے۔
پپراہوا سے برطانوی جاگیر، پھر ہانگ کانگ کی نیلامی گاہ اور آخرکار دوبارہ ہندوستانی سرزمین تک کا یہ 127 سالہ سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تہذیبی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ قوموں کی روح، تاریخ اور اجتماعی شعور کا حصہ ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

بدھ کے مقدس آثار کی واپسی: 127 برس بعد تاریخ کی ایک خاموش فتح

 

جنگ فیچر

دنیا بھر میں نوآبادیاتی دور میں لوٹے گئے ثقافتی ورثے کی واپسی کی کہانیاں عموماً قانونی جنگوں، سفارتی مذاکرات یا طویل تنازعات سے جڑی ہوتی ہیں، لیکن بھارت میں پپراہوا سے برآمد ہونے والے بدھ مت کے مقدس آثار کی واپسی کی داستان ایک منفرد مثال بن کر ابھری ہے۔ یہ صرف چند تاریخی نوادرات کی واپسی نہیں بلکہ تہذیبی شناخت، قومی شعور اور نوآبادیاتی زخموں کے ازالے کی ایک علامتی کامیابی بھی ہے۔
مئی 2025 میں عالمی نیلامی ادارے “سوتھبیز” نے اعلان کیا کہ وہ لارڈ بدھ سے منسوب مقدس آثار کا ایک حصہ ہانگ کانگ میں نیلام کرے گا۔ یہ آثار 1898 میں موجودہ اتر پردیش کے پپراہوا مقام سے برطانوی دور کے ایک زمیندار ولیم کلاکسن پیپے نے دریافت کیے تھے۔ ان میں جواہرات، ہڈیوں کے ٹکڑے اور قدیم برہمی رسم الخط میں لکھی ہوئی محفوظ اشیاء شامل تھیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ مقام قدیم کپل وستو کے حدود میں آتا ہے، جو گوتم بدھ کی جائے پیدائش اور ابتدائی زندگی سے وابستہ خطہ سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت نے ان دریافت شدہ نوادرات کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا، جبکہ کچھ حصہ پیپے خاندان کے پاس رہا، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد یہی حصہ فروخت کے لئے پیش کیا گیا۔ مگر اب دنیا بدل چکی تھی۔ بھارت بھی اب اپنے تہذیبی ورثے کو خاموشی سے بیرون ملک نجی مجموعوں میں جانے دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔
پپراہوا آثار کی اہمیت اس لئے بھی منفرد تھی کہ یہ صرف تاریخی یا تزئینی نوادرات نہیں تھے بلکہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ اور ان کے خاندان سے براہ راست منسلک مقدس باقیات تھیں۔ برہمی رسم الخط میں درج تحریر ان آثار کو بدھ اور ان کے اہل خاندان سے جوڑتی ہے۔ دنیا بھر کے بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے یہ محض آثار قدیمہ کا معاملہ نہیں بلکہ گہری روحانی وابستگی کا مسئلہ ہے۔
نوآبادیاتی دور میں بھارت سے بے شمار قیمتی اشیاء بیرون ملک منتقل کی گئیں۔ کوہ نور ہیرا، سلطان گنج بدھ مجسمہ، قدیم مخطوطات اور مندروں کے مجسمے آج بھی مغربی عجائب گھروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یونان اپنے پارتھینون ماربلز، نائجیریا اپنے برونز مجسموں اور ایتھوپیا اپنے مذہبی نوادرات کی واپسی کے لئے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پپراہوا آثار کی واپسی ایک بڑی سفارتی اور ثقافتی کامیابی تصور کی گئی۔
بھارت کی وزارت ثقافت نے اس نیلامی کے خلاف فوری کارروائی کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے تہذیبی و مذہبی آثار کو نجی ملکیت کے طور پر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے قانونی اور اخلاقی دونوں بنیادوں پر دعویٰ کیا کہ یہ آثار نوآبادیاتی دور میں ہندوستانی عوام کی رضامندی کے بغیر یہاں سے لے جائے گئے تھے، اس لئے ان کی فروخت غیر اخلاقی ہے۔
بالآخر نیلامی روک دی گئی اور مذاکرات کے بعد 30 جولائی 2025 کو یہ مقدس آثار بھارت واپس لائے گئے۔ اس عمل میں حکومت ہند کے ساتھ “گودریج انڈسٹریز گروپ” نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک خاموش مگر تاریخی لمحہ تھا۔ 127 برس بعد بدھ کے مقدس آثار دوبارہ ہندوستانی سرزمین پر واپس پہنچ چکے تھے۔
ان آثار کی واپسی کے بعد نئی دہلی کے قلعہ رائے پتھورا ثقافتی مرکز میں “دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: ریلکس آف دی اویکنڈ ون” کے عنوان سے ایک عظیم الشان نمائش منعقد کی گئی، جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے 3 جنوری 2026 کو کیا۔ اس نمائش میں قومی عجائب گھر اور کولکاتا کے انڈین میوزیم سے لائی گئی 80 سے زائد نایاب اشیاء بھی پیش کی گئیں، جن میں مجسمے، مخطوطات، جواہرات اور مقدس صندوق شامل تھے۔
یہ واقعہ بھارت کے لئے صرف ایک ثقافتی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ نوآبادیات صرف سیاسی اور معاشی تسلط کا نام نہیں تھا بلکہ تہذیبی شناخت کی پامالی بھی اس کا حصہ تھی۔ ان آثار کی واپسی نے یہ پیغام دیا کہ جب کوئی قوم اپنے ورثے کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھ کر اس کے تحفظ کے لئے کھڑی ہو جائے تو تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتا ہے۔
پپراہوا سے برطانوی جاگیر، پھر ہانگ کانگ کی نیلامی گاہ اور آخرکار دوبارہ ہندوستانی سرزمین تک کا یہ 127 سالہ سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تہذیبی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ قوموں کی روح، تاریخ اور اجتماعی شعور کا حصہ ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں