مما مت جاؤ، مجھے چھوڑ کر

 

شبیر احمد میر

جب وہ چھوٹی بچی تھی تو اکثر ماں کا البم کھولے بیٹھ جاتی، ماں سے شکوہ کرتی، کبھی ماں کی تصویر کو جی بھر کے پیار کرتی، کبھی "I love you مما” کہتی کہتی رو پڑتی اور کبھی "I hate you مما” کہہ کر چیخ اٹھتی۔ چیختے چیختے اس کی ہچکی بندھ جاتی اور کہتی: "مجھے کیوں تنہا کر گئیں آپ؟ کیوں آپ کو مجھ پر ترس نہ آیا؟ آپ کی ممتا میرے لیے کیوں نہ تڑپی؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ مائیں کس طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک بار میرے پاس آئیں اور مجھے اپنی آغوش میں لے لیں۔ پاپا بھی اکثر آپ کی جدائی میں رویا کرتے ہیں۔”
وہ دیر تک البم کھولے تصویریں دیکھتے دیکھتے سحر زدہ سی ہو کر اپنی مما کی آنکھوں پر اپنی ننھی ننھی انگلیاں پھیرتی اور خود بہ خود اس کی آنکھوں سے گرم گرم آنسو ابل پڑتے۔ دل میں درد کی ایک شدید لہر اٹھتی اور کھڑکی سے باہر آسمان کی طرف دیکھتی اور تاروں میں اپنی مما کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی کہ کون سا تار اس کی مما ہے۔ تاروں کو دیکھتے دیکھتے جب وہ تھک جاتی تو وہیں البم پر سر رکھ کر بے ہوش ہو جاتی اور نیند کی گہرائی میں گم ہو جاتی۔
اتنے عرصے کے بعد آج وہی بچی دلہن کے کپڑوں میں ملبوس دلہن بنی ہوئی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اب اسے یہ گھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑنا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں آئی، دروازہ بند کیا اور سامنے دیوار پر ایک بڑی تصویر اس کی مما کی لٹکی ہوئی تھی۔ وہ تصویر کے سامنے کھڑی ہو گئی اور اپنا ماتھا تصویر کے ساتھ ٹکا دیا اور اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر زار و قطار رونے لگی۔
تب ہی اس کے کانوں میں ایک سریلی سی آواز آئی، سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی آواز۔ اس نے آنچل سے بہتی آنکھوں کو پونچھ ڈالا اور اطمینان سے اپنی مما کو دیکھا۔ اسے محسوس ہوا اس کی مما اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔
"میری بچی! میری لاڈلی! تجھے معلوم ہے میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانے کے لیے تمہارا خیال ہی کافی ہے۔ پھر بھی میرے اندر ایک آگ تھی جو اندر ہی اندر جل رہی تھی، جس کی وجہ سے مجھے اپنا وجود ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ میں تجھے اسی روپ میں دیکھنا چاہتی تھی، کیونکہ ایسے معاملے دلوں کے معاملے ہوتے ہیں جو بہت ہی نازک ہوتے ہیں اور ان معاملات کے ساتھ ساتھ جذبے بھی جنم لیتے ہیں جو اندھے ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے خوبصورت جذبے خود بہ خود اپنی روشنی سے دلوں کو منور کرتے ہیں۔
میں اپنی آنکھوں میں تمہاری صورت بسا کر اس دنیا سے رخصت ہوئی تھی اور تمہاری ہر آہٹ پر میری نگاہیں بے چین ہوا کرتی تھیں۔ تم مجھ سے دور رہ کر بھی میرے اندر موجود تھی، میری روح تھی۔ میں یہی سوچا کرتی تھی کہ وہ دن کب آئے گا جب میں تمہارے سپنوں کو سچ ہوتا ہوا دیکھوں۔ اس سے پہلے بہت سارے سوالات میرے دل و دماغ میں اٹھتے اور ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے مجھے تمہارے پاس آنا پڑا۔ میں جانتی ہوں تم کم عمر اور ناسمجھ ہو، زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا بھی نہیں، جس نے ابھی تک خواب ہی دیکھے ہیں، اس لیے اس موڑ پر تمہیں سمجھانا میرا اولین فرض بنتا ہے۔”
اس نے دیکھا، مما کی خوبصورت آنکھوں میں محبت کی روشنی اتر آئی اور ان کی حسین آنکھوں کی گہرائیوں میں چاہتوں کے عکس ڈول رہے تھے۔ اس کی مما بولی:
"ایک گھر اور چار دیواری کا خواب تو ہر عورت اور لڑکی دیکھتی ہے، اور ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت نیک عورت ہی تو ہے۔ جب تم اپنے گھر چلی جاؤ گی، اجنبی بستی، نیا گھر، نیا ماحول، سارا دن اکیلی پڑی سوچتی رہو گی اور خود کو کھپاتی رہو گی، جس کی وجہ سے گھر کا بھی کوئی کام کرنے کو جی نہیں چاہے گا۔ تم نے اگر ان چیزوں کو اپنے اوپر حاوی کر دیا تو سمجھو جھگڑے کا بیج تمہارے دامن سے پروان چڑھنے کے لیے زمین میں گر جائے گا۔
ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر ضبط کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں ضبط قائم نہیں رکھ سکتا وہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی ہار سکتا ہے، اور پھر ضبط اور محبت میں دشمنی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انسان بری باتیں سوچنے لگتا ہے، پھر اس کا دماغ الجھتا ہی جاتا ہے اور وہ شک کی بیماری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔
بیوی اور خاوند کے درمیان اعتماد اور بھروسہ ہی ایک ایسی بنیاد ہے جس پر ان کی زندگی کی دیوار تعمیر کی جاتی ہے۔ اگر یہ اعتماد اور بھروسہ نہ ہوں تو شاید دنیا کب کی دفن ہو چکی ہوتی۔ سخت سسرال کسی بھی دلہن کے لیے چٹان کی مانند ہوتی ہے، مگر اس کا صبر بہرحال اس چٹان کو توڑ ہی دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلاف زندگی کا معمول ہوتے ہیں، لیکن ان اختلاف کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دینا ہی عقل مندی ہے، اور مجھے امید ہے کہ تم ہمیشہ سمجھداری کا ثبوت دو گی۔
زندگی کے ہر معاملے میں اعتبار پہلی شرط ہے، اور انسان کی زندگی میں اعتبار نکل جائے تو پھر جینے کو کیا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی اعتبار میاں بیوی کے درمیان محبت کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب محبت کا دیا انسان کے اندر جلتا ہے تو اس کا عکس نور بن کر چہروں پر چھا جاتا ہے۔ محبت اس بہار کا نام ہے جو خزاں رسیدہ پتوں کو بھی ہرا بھرا کر دیتی ہے۔
ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا، بگڑی ہوئی بات کو وہیں دفن کر دینا، کیونکہ گھر میں آنے والی دراڑیں مرد اور عورت پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ پریشانیوں میں گھِرے ہونے کے باوجود ہمت اور حوصلے سے آگے بڑھا جائے۔ ایک عورت مرد کے بنا ادھوری ہے، مرد کے بغیر عورت رُل کر بے مول ہو جاتی ہے۔ اس کی ساری دولت مرد ہی تو ہے۔ یہ کائنات کی اٹل حقیقت ہے۔
شادی کے بعد لڑکیاں سسرال جا کر نئے نئے رشتوں سے روشناس ہوتی ہیں۔ ان رشتوں کے اپنے انداز ہوتے ہیں اور ان رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔ بیٹی بہو بن کر اس گھر کی بیٹی ہی تو بن جاتی ہے، اور یہ اس گھر کی مان ہوتی ہے، بھرم ہوتی ہے، عزت و آبرو ہوتی ہے، رشتوں کا، نسلوں کا، خاندان کا۔ بہو پر یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بھرم نہ توڑے، ورنہ بہت سے طوفان تمہارے گھر کا راستہ دیکھیں گے۔
جن میاں بیوی میں انڈر اسٹینڈنگ ہو، محبت ہو، وہ ایک دوسرے کا دل جیت لیتے ہیں۔ مرد کا دل بے حد ناقابل فہم، پیچیدہ چیز ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے دل کی اس بستی میں بسنے اور حکمرانی کرنے کے لیے اطاعت، فرمانبرداری، محبت اور خلوص ہی وہ اصول ہیں جو جھاڑ کانٹوں سے بھرپور اس راستے کو گلزار بنا سکتے ہیں۔ صبر اور حوصلے کے نتائج ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے حوصلہ افزا رہے ہیں اور رہیں گے۔
دنیا کی سب سے قیمتی اور مہنگی چیز ایک جیون ساتھی کی سچی اور بے لوث رفاقت ہوتی ہے، اور گھر میں فنا ہونا عورت کی معراج ہے۔ یہ معراج تب ہی ممکن ہے جب ایسی عورت اپنے وجود کی ہستی کو مکمل طور پر گھر اور گھر والوں میں جذب ہو جائے۔
اس بات کو ذرا غور سے سننا، جب تم اپنے خیالوں کی حفاظت کرو گی وہ تمہارے اعمال بن جاتے ہیں، تم اپنے اعمال کی حفاظت کرو گی وہ تمہارا کردار بن جائے گا۔ یہ کردار ایک ایسی مالا ہے، اگر اس کا ایک موتی بھی ٹوٹ جائے تو ساری مالا بکھر جائے گی، اور جب تم اپنے کردار کی حفاظت کرو گی تو وہی تمہاری پہچان ہو گی۔
یہ سب باتیں میں تم سے اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ اس دنیا میں تمہارے آس پاس اتنی داستانیں بکھری ہیں۔ اگر تم ان داستانوں کو سنو گی تو تم اپنے کان اور آنکھیں بند کر لو گی۔ کاش عورت سمجھتی کہ وہ ایک تہذیب کو جنم دیتی ہے، تاریخ کو صاحبِ کردار بناتی ہے اور کرداروں کو صاحبِ تاریخ کرتی ہے۔ یہ آج تک ہوتا آیا ہے۔
شادی محض دو جسموں کا ملاپ نہیں، حقیقت میں شادی دو روحوں کا بندھن ہے، دو انسانوں کی سوچوں کا ملاپ۔ مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو عورت کی محبت کی قدر نہیں کرتے۔ اس قسم کے سنگدل انسان پیار و محبت کے لطیف و نازک جذبات کو سمجھ نہیں سکتے، لیکن اگر ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو ان کے اندر بھی ایک بہت پیارا انسان چھپا ہوتا ہے۔
زندگی کا سکون ذہنی ملاپ میں ہے، اور ذہنی ملاپ تب ہی ممکن ہے جب آپ اس کو اور اس کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں، اسے محبت اور توجہ دیں۔ آپ اپنا رویہ تبدیل کریں تو وہ خود بخود تبدیل ہو جائے گا۔ اس کے لیے صبر اور برداشت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت میں صبر اور برداشت کی قوت دس گنا زیادہ بخشی ہے، ورنہ یہ جو گھر آباد دکھائی دے رہے ہیں تو آدھے سے زیادہ ویران نظر آتے۔
تو یہ عورت ہی ہے جو سمجھوتہ کرتی ہے اور برے سے برے مرد کو بھی بھگت رہی ہے۔ دنیا عورت سے چار چیزیں مانگتی ہے: دل سے نیکی، چہرے میں حیا، زبان میں شیرینی اور ہاتھ سے کام۔ عورت چاہے تو مکان کے دس کھلے دروازوں سے سوئی بھی باہر نہ جانے دے، وہی عورت بند دروازوں میں رہتے ہوئے سوئی جیسے چھید میں پورا گھر نکال دیتی ہے۔
انسان کی زندگی میں گھر کی بڑی اہمیت ہے۔ گھر سے مراد اینٹ، پتھر، مٹی، گارے کا مکان نہیں بلکہ گھر سے مراد خاندان اور اہل و عیال ہیں۔ خاندان کی بنیاد ڈالنے سے گھر وجود میں آتا ہے اور اس گھر میں سکون و اطمینان عورت کی مرہونِ منت ہے۔ رشتوں اور انسانوں سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہوتا، بشرطیکہ تم خلوص اور پرخلوص ہو۔ جس طرح معاشرے کی اصلاح، تربیت اور رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نبیوں، رسولوں اور اپنے برگزیدہ بندوں کو مبعوث فرماتا ہے، اسی طرح بزرگ خاندان میں، اپنے گھر میں ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی نبی اپنی امت کے درمیان۔
عورت اپنی فطری صلاحیت اور فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔ گھر کے نظام میں اسے مرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا کردار بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے یا بگڑنے سے گھر بکھر جاتا ہے۔ اس لیے صالح عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ بہو گھر کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنے نئے گھر میں بہو خود کو حالات کے مطابق ہم آہنگ نہیں کر پاتی، جس کے نتیجے میں ساس، سسر اور دیور سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھر کا بٹوارہ ہو جاتا ہے۔ بہو کے آتے ہی ساس سسر سے ان بن ہو جاتی ہے، بیٹا بوڑھے والدین کو چھوڑ کر نئے گھر میں رہائش اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مشترکہ خاندان کا تصور مٹتا جاتا ہے اور گھر کے بزرگ کی اہمیت گھٹ کر رہ گئی ہے۔
بہو ہونے کی حیثیت سے ذمہ داری ہے کہ تمہیں اپنی ساس کی خواہشات کا احترام کرنا ہو گا اور اسے اپنی حقیقی ماں کی طرح عزت دینی ہو گی، اور تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عورت قربانیوں اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ یہ ہر رشتے میں خود کو ڈال لیتی ہے۔ گڑیوں سے کھیلنے سے شروع ہو کر زندگی کے مختلف مراحل کو طے کرنے تک اس کا سفر بہت ہی کٹھن ہوتا ہے۔ رشتوں کو نبھاتے نبھاتے عورت بوڑھی ہو جاتی ہے، اور اگر خوبصورت رشتوں کی بات کی جائے تو دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت رشتہ ماں کا ہے، جو اپنی خواہشات بھول کر صرف اپنی اولاد کی خواہشات کو ترجیح دیتی ہے۔
اس سے اب تم اندازہ لگاؤ ساس کا رتبہ کتنا بلند ہے۔ تمہیں بھی اسی زاویۂ نگاہ سے اپنی ساس کو دیکھنا ہو گا جس زاویۂ نگاہ سے تمہارے شوہر اپنی ماں کو دیکھتے ہیں۔ لیکن افسوس، تمہیں اتنا سمجھانے کے باوجود مجھے پورا یقین ہے تم اپنی ساس کے بارے میں یہی سوچو گی اور کہو گی:
"تجھے محبت کرنا نہیں آتا، مجھے محبت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں، ایک مجھے نہیں آتا، ایک تجھے نہیں آتا۔”
میری بچی، میں تم سے شکایت نہیں کر رہی ہوں۔ میری دعا ہے تم اپنے گھر میں خوش رہو، دنیا بھر کی خوشیاں تمہیں عطا ہوں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں تمہیں اس روپ میں دیکھ سکوں۔ سچ پوچھو تو مجھے ابھی بھی یہ ایک خواب لگ رہا ہے۔ اللہ مجھ پر کتنا مہربان ہوا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج ہم پھر سے یکجا ہو گئے۔ صدقے جاؤں اللہ کی قدرت کے، جس نے مجھ جیسی بندی کو کیسی کیسی نعمتوں و خوشیوں سے نوازا ہے۔
اب وہ اپنی بیٹی کے سراپا کو غور سے دیکھنے لگی۔ اس وقت اس کی بیٹی ہرنی جیسی سیاہ آنکھوں والی، گھنگھور گھٹاؤں جیسے بالوں والی اور مورنی جیسی چال والی لگ رہی تھی۔ جب وہ ہنستی ہے تو اس کے سارے شوخ رنگ مسکرانے لگتے ہیں، اور اگر اداس ہو جائے تو کائنات سوگوار ہو جائے گی، کیونکہ ایسی لڑکی سے پیار ہی کیا جا سکتا ہے۔
ہم دیر تک ایک دوسرے کو جی بھر کے دیکھتے رہے۔ جب رخصت ہونے کا وقت آیا تو میں نے دیکھا، مما کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ روتی رہی اور اپنے آنچل سے آنسو پونچھتی رہی۔ مما کی باتیں سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری مما نے مجھے گہرے خیالات کے سمندر سے نکال کر کنارے تک پہنچا دیا اور خوفناک لہروں کے بہاؤ سے کسی ایسے ٹاپو میں مجھے پہنچایا جہاں اب کسی کا ڈر نہیں تھا اور نہ کسی قسم کا خوف۔
جب میں نے اپنی کلائی کی گھڑی کی طرف دیکھا اور من ہی من میں سوچنے لگی کہ آدمی کو وقت کی قیمت کا اندازہ ایسے وقت میں ہوتا ہے جب وہ اپنے پیار کرنے والوں سے جدا ہو رہا ہو اور گھڑی کی سوئیاں تیز رفتاری سے بھاگ رہی ہوں۔
مما کو واپس جاتے دیکھ کر میرے سینے میں ایک ہوک سی اٹھی۔ میرے ہونٹ کچھ کہنے سے پھڑپھڑائے، لیکن میں کچھ نہ کہہ سکی۔ میری آواز میرے حلق میں ہی دب کر رہ گئی، مگر دل کی آواز زور زور سے چلاتے ہوئے مما کے پیچھے پیچھے دوڑ پڑی:
مما، مت جاؤ، مجھے چھوڑ کر۔ میری یہ آواز التجا بھری تھی۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

تعلیم تک رسائی کا نیا دروازہ

اعلیٰ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور...

کولگام میں دہشت گردوں کی غیر مقامی مزدوروں پر فائرنگ، 1 ہلاک، 1 زخمی

  کولگام، 31 جولائی: جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے...

شوہر کے قتل میں بیوی، عاشق اور 3 شوٹروں کو عمر قید

جعلی دستاویزات پر سالے کو 10 سال سزا مدھیہ پردیش...

سونے کی قیمتوں میں کمی

سرینگر: ایف ایکس اسٹریٹ (FXStreet) کے مرتب کردہ اعداد و...

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

تازہ ترین خبریں

تعلیم تک رسائی کا نیا دروازہ

اعلیٰ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور...

کولگام میں دہشت گردوں کی غیر مقامی مزدوروں پر فائرنگ، 1 ہلاک، 1 زخمی

  کولگام، 31 جولائی: جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے...

شوہر کے قتل میں بیوی، عاشق اور 3 شوٹروں کو عمر قید

جعلی دستاویزات پر سالے کو 10 سال سزا مدھیہ پردیش...

سونے کی قیمتوں میں کمی

سرینگر: ایف ایکس اسٹریٹ (FXStreet) کے مرتب کردہ اعداد و...

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

مما مت جاؤ، مجھے چھوڑ کر

 

شبیر احمد میر

جب وہ چھوٹی بچی تھی تو اکثر ماں کا البم کھولے بیٹھ جاتی، ماں سے شکوہ کرتی، کبھی ماں کی تصویر کو جی بھر کے پیار کرتی، کبھی "I love you مما” کہتی کہتی رو پڑتی اور کبھی "I hate you مما” کہہ کر چیخ اٹھتی۔ چیختے چیختے اس کی ہچکی بندھ جاتی اور کہتی: "مجھے کیوں تنہا کر گئیں آپ؟ کیوں آپ کو مجھ پر ترس نہ آیا؟ آپ کی ممتا میرے لیے کیوں نہ تڑپی؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ مائیں کس طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک بار میرے پاس آئیں اور مجھے اپنی آغوش میں لے لیں۔ پاپا بھی اکثر آپ کی جدائی میں رویا کرتے ہیں۔”
وہ دیر تک البم کھولے تصویریں دیکھتے دیکھتے سحر زدہ سی ہو کر اپنی مما کی آنکھوں پر اپنی ننھی ننھی انگلیاں پھیرتی اور خود بہ خود اس کی آنکھوں سے گرم گرم آنسو ابل پڑتے۔ دل میں درد کی ایک شدید لہر اٹھتی اور کھڑکی سے باہر آسمان کی طرف دیکھتی اور تاروں میں اپنی مما کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی کہ کون سا تار اس کی مما ہے۔ تاروں کو دیکھتے دیکھتے جب وہ تھک جاتی تو وہیں البم پر سر رکھ کر بے ہوش ہو جاتی اور نیند کی گہرائی میں گم ہو جاتی۔
اتنے عرصے کے بعد آج وہی بچی دلہن کے کپڑوں میں ملبوس دلہن بنی ہوئی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اب اسے یہ گھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑنا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں آئی، دروازہ بند کیا اور سامنے دیوار پر ایک بڑی تصویر اس کی مما کی لٹکی ہوئی تھی۔ وہ تصویر کے سامنے کھڑی ہو گئی اور اپنا ماتھا تصویر کے ساتھ ٹکا دیا اور اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر زار و قطار رونے لگی۔
تب ہی اس کے کانوں میں ایک سریلی سی آواز آئی، سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی آواز۔ اس نے آنچل سے بہتی آنکھوں کو پونچھ ڈالا اور اطمینان سے اپنی مما کو دیکھا۔ اسے محسوس ہوا اس کی مما اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔
"میری بچی! میری لاڈلی! تجھے معلوم ہے میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانے کے لیے تمہارا خیال ہی کافی ہے۔ پھر بھی میرے اندر ایک آگ تھی جو اندر ہی اندر جل رہی تھی، جس کی وجہ سے مجھے اپنا وجود ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ میں تجھے اسی روپ میں دیکھنا چاہتی تھی، کیونکہ ایسے معاملے دلوں کے معاملے ہوتے ہیں جو بہت ہی نازک ہوتے ہیں اور ان معاملات کے ساتھ ساتھ جذبے بھی جنم لیتے ہیں جو اندھے ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے خوبصورت جذبے خود بہ خود اپنی روشنی سے دلوں کو منور کرتے ہیں۔
میں اپنی آنکھوں میں تمہاری صورت بسا کر اس دنیا سے رخصت ہوئی تھی اور تمہاری ہر آہٹ پر میری نگاہیں بے چین ہوا کرتی تھیں۔ تم مجھ سے دور رہ کر بھی میرے اندر موجود تھی، میری روح تھی۔ میں یہی سوچا کرتی تھی کہ وہ دن کب آئے گا جب میں تمہارے سپنوں کو سچ ہوتا ہوا دیکھوں۔ اس سے پہلے بہت سارے سوالات میرے دل و دماغ میں اٹھتے اور ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے مجھے تمہارے پاس آنا پڑا۔ میں جانتی ہوں تم کم عمر اور ناسمجھ ہو، زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا بھی نہیں، جس نے ابھی تک خواب ہی دیکھے ہیں، اس لیے اس موڑ پر تمہیں سمجھانا میرا اولین فرض بنتا ہے۔”
اس نے دیکھا، مما کی خوبصورت آنکھوں میں محبت کی روشنی اتر آئی اور ان کی حسین آنکھوں کی گہرائیوں میں چاہتوں کے عکس ڈول رہے تھے۔ اس کی مما بولی:
"ایک گھر اور چار دیواری کا خواب تو ہر عورت اور لڑکی دیکھتی ہے، اور ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت نیک عورت ہی تو ہے۔ جب تم اپنے گھر چلی جاؤ گی، اجنبی بستی، نیا گھر، نیا ماحول، سارا دن اکیلی پڑی سوچتی رہو گی اور خود کو کھپاتی رہو گی، جس کی وجہ سے گھر کا بھی کوئی کام کرنے کو جی نہیں چاہے گا۔ تم نے اگر ان چیزوں کو اپنے اوپر حاوی کر دیا تو سمجھو جھگڑے کا بیج تمہارے دامن سے پروان چڑھنے کے لیے زمین میں گر جائے گا۔
ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر ضبط کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں ضبط قائم نہیں رکھ سکتا وہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی ہار سکتا ہے، اور پھر ضبط اور محبت میں دشمنی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انسان بری باتیں سوچنے لگتا ہے، پھر اس کا دماغ الجھتا ہی جاتا ہے اور وہ شک کی بیماری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔
بیوی اور خاوند کے درمیان اعتماد اور بھروسہ ہی ایک ایسی بنیاد ہے جس پر ان کی زندگی کی دیوار تعمیر کی جاتی ہے۔ اگر یہ اعتماد اور بھروسہ نہ ہوں تو شاید دنیا کب کی دفن ہو چکی ہوتی۔ سخت سسرال کسی بھی دلہن کے لیے چٹان کی مانند ہوتی ہے، مگر اس کا صبر بہرحال اس چٹان کو توڑ ہی دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلاف زندگی کا معمول ہوتے ہیں، لیکن ان اختلاف کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دینا ہی عقل مندی ہے، اور مجھے امید ہے کہ تم ہمیشہ سمجھداری کا ثبوت دو گی۔
زندگی کے ہر معاملے میں اعتبار پہلی شرط ہے، اور انسان کی زندگی میں اعتبار نکل جائے تو پھر جینے کو کیا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی اعتبار میاں بیوی کے درمیان محبت کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب محبت کا دیا انسان کے اندر جلتا ہے تو اس کا عکس نور بن کر چہروں پر چھا جاتا ہے۔ محبت اس بہار کا نام ہے جو خزاں رسیدہ پتوں کو بھی ہرا بھرا کر دیتی ہے۔
ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا، بگڑی ہوئی بات کو وہیں دفن کر دینا، کیونکہ گھر میں آنے والی دراڑیں مرد اور عورت پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ پریشانیوں میں گھِرے ہونے کے باوجود ہمت اور حوصلے سے آگے بڑھا جائے۔ ایک عورت مرد کے بنا ادھوری ہے، مرد کے بغیر عورت رُل کر بے مول ہو جاتی ہے۔ اس کی ساری دولت مرد ہی تو ہے۔ یہ کائنات کی اٹل حقیقت ہے۔
شادی کے بعد لڑکیاں سسرال جا کر نئے نئے رشتوں سے روشناس ہوتی ہیں۔ ان رشتوں کے اپنے انداز ہوتے ہیں اور ان رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔ بیٹی بہو بن کر اس گھر کی بیٹی ہی تو بن جاتی ہے، اور یہ اس گھر کی مان ہوتی ہے، بھرم ہوتی ہے، عزت و آبرو ہوتی ہے، رشتوں کا، نسلوں کا، خاندان کا۔ بہو پر یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بھرم نہ توڑے، ورنہ بہت سے طوفان تمہارے گھر کا راستہ دیکھیں گے۔
جن میاں بیوی میں انڈر اسٹینڈنگ ہو، محبت ہو، وہ ایک دوسرے کا دل جیت لیتے ہیں۔ مرد کا دل بے حد ناقابل فہم، پیچیدہ چیز ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے دل کی اس بستی میں بسنے اور حکمرانی کرنے کے لیے اطاعت، فرمانبرداری، محبت اور خلوص ہی وہ اصول ہیں جو جھاڑ کانٹوں سے بھرپور اس راستے کو گلزار بنا سکتے ہیں۔ صبر اور حوصلے کے نتائج ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے حوصلہ افزا رہے ہیں اور رہیں گے۔
دنیا کی سب سے قیمتی اور مہنگی چیز ایک جیون ساتھی کی سچی اور بے لوث رفاقت ہوتی ہے، اور گھر میں فنا ہونا عورت کی معراج ہے۔ یہ معراج تب ہی ممکن ہے جب ایسی عورت اپنے وجود کی ہستی کو مکمل طور پر گھر اور گھر والوں میں جذب ہو جائے۔
اس بات کو ذرا غور سے سننا، جب تم اپنے خیالوں کی حفاظت کرو گی وہ تمہارے اعمال بن جاتے ہیں، تم اپنے اعمال کی حفاظت کرو گی وہ تمہارا کردار بن جائے گا۔ یہ کردار ایک ایسی مالا ہے، اگر اس کا ایک موتی بھی ٹوٹ جائے تو ساری مالا بکھر جائے گی، اور جب تم اپنے کردار کی حفاظت کرو گی تو وہی تمہاری پہچان ہو گی۔
یہ سب باتیں میں تم سے اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ اس دنیا میں تمہارے آس پاس اتنی داستانیں بکھری ہیں۔ اگر تم ان داستانوں کو سنو گی تو تم اپنے کان اور آنکھیں بند کر لو گی۔ کاش عورت سمجھتی کہ وہ ایک تہذیب کو جنم دیتی ہے، تاریخ کو صاحبِ کردار بناتی ہے اور کرداروں کو صاحبِ تاریخ کرتی ہے۔ یہ آج تک ہوتا آیا ہے۔
شادی محض دو جسموں کا ملاپ نہیں، حقیقت میں شادی دو روحوں کا بندھن ہے، دو انسانوں کی سوچوں کا ملاپ۔ مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو عورت کی محبت کی قدر نہیں کرتے۔ اس قسم کے سنگدل انسان پیار و محبت کے لطیف و نازک جذبات کو سمجھ نہیں سکتے، لیکن اگر ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو ان کے اندر بھی ایک بہت پیارا انسان چھپا ہوتا ہے۔
زندگی کا سکون ذہنی ملاپ میں ہے، اور ذہنی ملاپ تب ہی ممکن ہے جب آپ اس کو اور اس کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں، اسے محبت اور توجہ دیں۔ آپ اپنا رویہ تبدیل کریں تو وہ خود بخود تبدیل ہو جائے گا۔ اس کے لیے صبر اور برداشت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت میں صبر اور برداشت کی قوت دس گنا زیادہ بخشی ہے، ورنہ یہ جو گھر آباد دکھائی دے رہے ہیں تو آدھے سے زیادہ ویران نظر آتے۔
تو یہ عورت ہی ہے جو سمجھوتہ کرتی ہے اور برے سے برے مرد کو بھی بھگت رہی ہے۔ دنیا عورت سے چار چیزیں مانگتی ہے: دل سے نیکی، چہرے میں حیا، زبان میں شیرینی اور ہاتھ سے کام۔ عورت چاہے تو مکان کے دس کھلے دروازوں سے سوئی بھی باہر نہ جانے دے، وہی عورت بند دروازوں میں رہتے ہوئے سوئی جیسے چھید میں پورا گھر نکال دیتی ہے۔
انسان کی زندگی میں گھر کی بڑی اہمیت ہے۔ گھر سے مراد اینٹ، پتھر، مٹی، گارے کا مکان نہیں بلکہ گھر سے مراد خاندان اور اہل و عیال ہیں۔ خاندان کی بنیاد ڈالنے سے گھر وجود میں آتا ہے اور اس گھر میں سکون و اطمینان عورت کی مرہونِ منت ہے۔ رشتوں اور انسانوں سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہوتا، بشرطیکہ تم خلوص اور پرخلوص ہو۔ جس طرح معاشرے کی اصلاح، تربیت اور رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نبیوں، رسولوں اور اپنے برگزیدہ بندوں کو مبعوث فرماتا ہے، اسی طرح بزرگ خاندان میں، اپنے گھر میں ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی نبی اپنی امت کے درمیان۔
عورت اپنی فطری صلاحیت اور فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔ گھر کے نظام میں اسے مرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا کردار بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے یا بگڑنے سے گھر بکھر جاتا ہے۔ اس لیے صالح عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ بہو گھر کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنے نئے گھر میں بہو خود کو حالات کے مطابق ہم آہنگ نہیں کر پاتی، جس کے نتیجے میں ساس، سسر اور دیور سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھر کا بٹوارہ ہو جاتا ہے۔ بہو کے آتے ہی ساس سسر سے ان بن ہو جاتی ہے، بیٹا بوڑھے والدین کو چھوڑ کر نئے گھر میں رہائش اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مشترکہ خاندان کا تصور مٹتا جاتا ہے اور گھر کے بزرگ کی اہمیت گھٹ کر رہ گئی ہے۔
بہو ہونے کی حیثیت سے ذمہ داری ہے کہ تمہیں اپنی ساس کی خواہشات کا احترام کرنا ہو گا اور اسے اپنی حقیقی ماں کی طرح عزت دینی ہو گی، اور تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عورت قربانیوں اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ یہ ہر رشتے میں خود کو ڈال لیتی ہے۔ گڑیوں سے کھیلنے سے شروع ہو کر زندگی کے مختلف مراحل کو طے کرنے تک اس کا سفر بہت ہی کٹھن ہوتا ہے۔ رشتوں کو نبھاتے نبھاتے عورت بوڑھی ہو جاتی ہے، اور اگر خوبصورت رشتوں کی بات کی جائے تو دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت رشتہ ماں کا ہے، جو اپنی خواہشات بھول کر صرف اپنی اولاد کی خواہشات کو ترجیح دیتی ہے۔
اس سے اب تم اندازہ لگاؤ ساس کا رتبہ کتنا بلند ہے۔ تمہیں بھی اسی زاویۂ نگاہ سے اپنی ساس کو دیکھنا ہو گا جس زاویۂ نگاہ سے تمہارے شوہر اپنی ماں کو دیکھتے ہیں۔ لیکن افسوس، تمہیں اتنا سمجھانے کے باوجود مجھے پورا یقین ہے تم اپنی ساس کے بارے میں یہی سوچو گی اور کہو گی:
"تجھے محبت کرنا نہیں آتا، مجھے محبت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں، ایک مجھے نہیں آتا، ایک تجھے نہیں آتا۔”
میری بچی، میں تم سے شکایت نہیں کر رہی ہوں۔ میری دعا ہے تم اپنے گھر میں خوش رہو، دنیا بھر کی خوشیاں تمہیں عطا ہوں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں تمہیں اس روپ میں دیکھ سکوں۔ سچ پوچھو تو مجھے ابھی بھی یہ ایک خواب لگ رہا ہے۔ اللہ مجھ پر کتنا مہربان ہوا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج ہم پھر سے یکجا ہو گئے۔ صدقے جاؤں اللہ کی قدرت کے، جس نے مجھ جیسی بندی کو کیسی کیسی نعمتوں و خوشیوں سے نوازا ہے۔
اب وہ اپنی بیٹی کے سراپا کو غور سے دیکھنے لگی۔ اس وقت اس کی بیٹی ہرنی جیسی سیاہ آنکھوں والی، گھنگھور گھٹاؤں جیسے بالوں والی اور مورنی جیسی چال والی لگ رہی تھی۔ جب وہ ہنستی ہے تو اس کے سارے شوخ رنگ مسکرانے لگتے ہیں، اور اگر اداس ہو جائے تو کائنات سوگوار ہو جائے گی، کیونکہ ایسی لڑکی سے پیار ہی کیا جا سکتا ہے۔
ہم دیر تک ایک دوسرے کو جی بھر کے دیکھتے رہے۔ جب رخصت ہونے کا وقت آیا تو میں نے دیکھا، مما کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ روتی رہی اور اپنے آنچل سے آنسو پونچھتی رہی۔ مما کی باتیں سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری مما نے مجھے گہرے خیالات کے سمندر سے نکال کر کنارے تک پہنچا دیا اور خوفناک لہروں کے بہاؤ سے کسی ایسے ٹاپو میں مجھے پہنچایا جہاں اب کسی کا ڈر نہیں تھا اور نہ کسی قسم کا خوف۔
جب میں نے اپنی کلائی کی گھڑی کی طرف دیکھا اور من ہی من میں سوچنے لگی کہ آدمی کو وقت کی قیمت کا اندازہ ایسے وقت میں ہوتا ہے جب وہ اپنے پیار کرنے والوں سے جدا ہو رہا ہو اور گھڑی کی سوئیاں تیز رفتاری سے بھاگ رہی ہوں۔
مما کو واپس جاتے دیکھ کر میرے سینے میں ایک ہوک سی اٹھی۔ میرے ہونٹ کچھ کہنے سے پھڑپھڑائے، لیکن میں کچھ نہ کہہ سکی۔ میری آواز میرے حلق میں ہی دب کر رہ گئی، مگر دل کی آواز زور زور سے چلاتے ہوئے مما کے پیچھے پیچھے دوڑ پڑی:
مما، مت جاؤ، مجھے چھوڑ کر۔ میری یہ آواز التجا بھری تھی۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون