جنگ نیوز
جموں و کشمیر نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے نام کر لیا۔ ہبلی میں کھیلے گئے فائنل میں جموں و کشمیر نے کرناٹک کرکٹ ٹیم کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 66 برس کا طویل انتظار ختم کر دیا۔
کپتان پارس ڈوگرہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ٹیم نے پہلی اننگز میں 584 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور بنایا۔ شبھم پنڈیر نے ذمہ دارانہ 121 رنز اسکور کیے جبکہ یاور حسن (88)، پارس ڈوگرہ (70)، عبدالسماد (61)، کنہیا وادھاون (70) اور ساحل لوٹرا (72) نے اہم شراکتیں قائم کر کے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔
جواب میں کرناٹک کی ٹیم دباؤ کا شکار نظر آئی اور 293 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی، یوں پہلی اننگز میں اسے 291 رنز کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان میانک اگروال نے 160 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی لیکن دیگر بلے باز جموں و کشمیر کے باؤلرز کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ عاقب نبی ڈار نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سنیل کمار اور یدھویر سنگھ نے بھرپور ساتھ دیا۔
دوسری اننگز میں جموں و کشمیر نے برتری کو مزید مستحکم کیا۔ قمران اقبال نے ناقابل شکست 160 اور ساحل لوٹرا نے ناقابل شکست 101 رنز بنا کر کرناٹک کی واپسی کی امیدیں ختم کر دیں۔ اگرچہ میچ ڈرا ہوا، تاہم پہلی اننگز کی واضح برتری کے باعث جموں و کشمیر کو فاتح قرار دیا گیا۔
سیمی فائنل میں بنگال کرکٹ ٹیم کو شکست دینے اور کوارٹر فائنل میں مدھیہ پردیش کرکٹ ٹیم کے خلاف کامیابی نے ٹیم کے اعتماد کو نئی بلندی دی تھی۔ ابتدائی مرحلے میں ممبئی کرکٹ ٹیم کے خلاف شکست کے باوجود ٹیم نے شاندار واپسی کی اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔
یہ تاریخی کامیابی جموں و کشمیر کی کرکٹ کےلئے ایک سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فتح سے نہ صرف خطے میں کرکٹ کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی نئی امید اور حوصلہ ملے گا۔ یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ محنت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کے ذریعے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ جو ہمیشہ یاد رہے گا ، جموں و کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے اپنی پہلی رانجی ٹرافی کا ٹائٹل جیت لیا جس پر وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کیلئے 2 کروڑ روپے کا نقد انعام کا اعلان کیا ۔


