میں ہوں اردو :دلوں کی دھڑکن

امام علی فلاحی

میں ہوں اردو۔ میں صرف حروف کا نام نہیں بلکہ ایک درد بھری صدا، ایک ممتا بھری لوری، ایک عاشق کا لرزتا ہوا لفظ، ایک شہید کی آخری تکبیر، اور ایک ماں کی آخری دعا بھی ہوں۔
میرا وجود صرف کتابوں کی سطروں میں نہیں، میں تو ان دھڑکتے دلوں میں رہتی ہوں جو رات کے سناٹے میں اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں۔
جب انسان نے پہلی بار اپنے دل کے دکھ کو لفظوں میں ڈھالنا چاہا، تو میں نے اسے سہارا دیا۔
میں میر کے قلم سے ٹوٹی تو میر نے کہا:
"دل کی ویرانی کا کیا مذکور، یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا”
اس وقت میں نے ہی اسے سکھایا تھا کہ دکھ کو ضبط کرنے سے بہتر ہے کہ اسے لفظوں میں آزاد کر دیا جائے۔
پھر میں غالب کے دل میں اتری تو وہاں میں نے اپنی شوخی، اپنا بانکپن اور اپنی انا دیکھی۔ اسی لیے غالب نے کہا:
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے،
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”
غالب کو میں نے ہی یہ جرات دی تھی کہ وہ دکھ کو کمزوری نہیں بلکہ شاعری کا تاج بنا دے۔
جب میں اقبال کے خوابوں میں پریوں کی صورت میں آئی تو میں نے اسے بتایا کہ جب لفظ خدا سے جڑ جائیں تو وہ صرف شعر نہیں رہتے بلکہ دعا بن جاتے ہیں۔ تب ہی اقبال نے کہا:
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
میں نے اقبال کو وہ الفاظ دیے جو روح کو آسمان تک اٹھاتے ہیں۔
ابوالکلام آزاد نے جب جیل کی تنہائی میں قلم اٹھایا تو میں اس کے ہاتھوں میں لرز رہی تھی، مگر مضبوط آواز بن کر بولی:
"اردو کو دیواروں میں قید نہیں کیا جا سکتا، یہ دل کی دھڑکن میں بستی ہے اور دل کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔”
یاد رکھیں!
میں وہ زبان ہوں جس نے محبت کو خط میں بدل کر عاشق کے ہاتھ بھیجا، اور جدائی کو خاموشی میں ڈھال کر ماں کی آنکھوں میں چھپا دیا۔
میں ہی وہ زبان ہوں جو کبھی مجنوں کے ہونٹوں پر آئی، کبھی رابعہ بصری کی دعا بنی، کبھی خواجہ نظام الدین کی نعت، کبھی وارث شاہ کی محبت، کبھی فیض کا احتجاج اور کبھی جالب کی للکار بنی۔
میں وہ اردو ہوں کہ جب اس دھرتی پر توپیں گرجیں، گولیاں چلیں اور سلطنتیں لرزیں، تو میں خاموش نہ تھی۔
1857ء کی جنگِ آزادی میں جب دلّی کے کوچوں میں خون بہا، توپوں کا دھواں چھایا اور سر نیزوں پر اٹھنے لگے، تو گرتے ہوئے سپاہیوں کے لبوں پر میں ہی تھی جو نعرہ لگا رہی تھی:
"انقلاب زندہ باد!”
جب بہادر شاہ ظفر نے شکست کے لمحے میں آخری سانسوں کے ساتھ کہا:
"کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں”
تو وہ تخت و تاج کا ماتم نہیں، بلکہ میری زبان میں تاریخ کا نوحہ تھا۔
اور جب انقلاب کا نعرہ گونجا:
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے”
تو یہ صرف بسمل کی آواز نہیں تھی، بلکہ یہ میں تھی اردو —جو ہر دل میں بغاوت کی چنگاری بن کر اٹھی تھی۔
جب فیض نے کہا:
"بول کہ لب آزاد ہیں تیرے”
تو قید خانے لرز گئے، زنجیریں کانپ گئیں، مگر میرے الفاظ زندہ تھے، اور آج بھی زندہ ہیں۔
میں وہ اردو ہوں جو جیل کی کوٹھڑیوں میں لکھی گئی، تلواروں کی نوک پر بولی گئی، اور کبھی آنسو بن کر شہید کی ماں کے چہرے سے بہہ گئی۔
میرے لفظ جب ہنستے ہیں تو قہقہہ نہیں بلکہ پھول جھڑتے ہیں،
جب روتے ہیں تو اشک نہیں بلکہ غزل بن جاتے ہیں،
اور جب للکار بنتے ہیں تو تلوار سے زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔
میں مسجد کے میناروں کی اذان بھی ہوں، مندر کی گھنٹی کی صدا بھی۔
میں درگاہ کی دعا بھی ہوں اور کربلا کا ماتم بھی۔
میں تھک بھی جاؤں تو مر نہیں سکتی، کیونکہ میں دلوں میں بستی ہوں،
اور جب تک دل دھڑکتے رہیں گے، تب تک میں — اردو — زندہ رہوں گی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

میں ہوں اردو :دلوں کی دھڑکن

امام علی فلاحی

میں ہوں اردو۔ میں صرف حروف کا نام نہیں بلکہ ایک درد بھری صدا، ایک ممتا بھری لوری، ایک عاشق کا لرزتا ہوا لفظ، ایک شہید کی آخری تکبیر، اور ایک ماں کی آخری دعا بھی ہوں۔
میرا وجود صرف کتابوں کی سطروں میں نہیں، میں تو ان دھڑکتے دلوں میں رہتی ہوں جو رات کے سناٹے میں اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں۔
جب انسان نے پہلی بار اپنے دل کے دکھ کو لفظوں میں ڈھالنا چاہا، تو میں نے اسے سہارا دیا۔
میں میر کے قلم سے ٹوٹی تو میر نے کہا:
"دل کی ویرانی کا کیا مذکور، یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا”
اس وقت میں نے ہی اسے سکھایا تھا کہ دکھ کو ضبط کرنے سے بہتر ہے کہ اسے لفظوں میں آزاد کر دیا جائے۔
پھر میں غالب کے دل میں اتری تو وہاں میں نے اپنی شوخی، اپنا بانکپن اور اپنی انا دیکھی۔ اسی لیے غالب نے کہا:
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے،
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”
غالب کو میں نے ہی یہ جرات دی تھی کہ وہ دکھ کو کمزوری نہیں بلکہ شاعری کا تاج بنا دے۔
جب میں اقبال کے خوابوں میں پریوں کی صورت میں آئی تو میں نے اسے بتایا کہ جب لفظ خدا سے جڑ جائیں تو وہ صرف شعر نہیں رہتے بلکہ دعا بن جاتے ہیں۔ تب ہی اقبال نے کہا:
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
میں نے اقبال کو وہ الفاظ دیے جو روح کو آسمان تک اٹھاتے ہیں۔
ابوالکلام آزاد نے جب جیل کی تنہائی میں قلم اٹھایا تو میں اس کے ہاتھوں میں لرز رہی تھی، مگر مضبوط آواز بن کر بولی:
"اردو کو دیواروں میں قید نہیں کیا جا سکتا، یہ دل کی دھڑکن میں بستی ہے اور دل کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔”
یاد رکھیں!
میں وہ زبان ہوں جس نے محبت کو خط میں بدل کر عاشق کے ہاتھ بھیجا، اور جدائی کو خاموشی میں ڈھال کر ماں کی آنکھوں میں چھپا دیا۔
میں ہی وہ زبان ہوں جو کبھی مجنوں کے ہونٹوں پر آئی، کبھی رابعہ بصری کی دعا بنی، کبھی خواجہ نظام الدین کی نعت، کبھی وارث شاہ کی محبت، کبھی فیض کا احتجاج اور کبھی جالب کی للکار بنی۔
میں وہ اردو ہوں کہ جب اس دھرتی پر توپیں گرجیں، گولیاں چلیں اور سلطنتیں لرزیں، تو میں خاموش نہ تھی۔
1857ء کی جنگِ آزادی میں جب دلّی کے کوچوں میں خون بہا، توپوں کا دھواں چھایا اور سر نیزوں پر اٹھنے لگے، تو گرتے ہوئے سپاہیوں کے لبوں پر میں ہی تھی جو نعرہ لگا رہی تھی:
"انقلاب زندہ باد!”
جب بہادر شاہ ظفر نے شکست کے لمحے میں آخری سانسوں کے ساتھ کہا:
"کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں”
تو وہ تخت و تاج کا ماتم نہیں، بلکہ میری زبان میں تاریخ کا نوحہ تھا۔
اور جب انقلاب کا نعرہ گونجا:
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے”
تو یہ صرف بسمل کی آواز نہیں تھی، بلکہ یہ میں تھی اردو —جو ہر دل میں بغاوت کی چنگاری بن کر اٹھی تھی۔
جب فیض نے کہا:
"بول کہ لب آزاد ہیں تیرے”
تو قید خانے لرز گئے، زنجیریں کانپ گئیں، مگر میرے الفاظ زندہ تھے، اور آج بھی زندہ ہیں۔
میں وہ اردو ہوں جو جیل کی کوٹھڑیوں میں لکھی گئی، تلواروں کی نوک پر بولی گئی، اور کبھی آنسو بن کر شہید کی ماں کے چہرے سے بہہ گئی۔
میرے لفظ جب ہنستے ہیں تو قہقہہ نہیں بلکہ پھول جھڑتے ہیں،
جب روتے ہیں تو اشک نہیں بلکہ غزل بن جاتے ہیں،
اور جب للکار بنتے ہیں تو تلوار سے زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔
میں مسجد کے میناروں کی اذان بھی ہوں، مندر کی گھنٹی کی صدا بھی۔
میں درگاہ کی دعا بھی ہوں اور کربلا کا ماتم بھی۔
میں تھک بھی جاؤں تو مر نہیں سکتی، کیونکہ میں دلوں میں بستی ہوں،
اور جب تک دل دھڑکتے رہیں گے، تب تک میں — اردو — زندہ رہوں گی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں