کشمیر میراتھن: اتحاد، برداشت اور اُمید کی علامت

سہیل خان 
سرینگر
سرینگر نے ایک بار پھر زندگی، جوش اور رنگینی کا حسین منظر پیش کیا جب کشمیر میراتھن میں وادی بھر سے ہزاروں شرکاء نے حصہ لیا۔ پیشہ ور ایتھلیٹس، اسکول کے طلبہ، نوجوان، خواتین، بزرگ اور حتیٰ کہ بالی وُڈ کے معروف چہرے بھی اس دوڑ میں شامل ہوئے۔ یہ ایونٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ امن، ہم آہنگی اور عزمِ نو کا پیغام بن کر سامنے آیا، جس نے دنیا بھر میں کشمیر کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا۔
محکمہ سیاحت کی طر ف سے فُل اور ہاف مراتھن بالترتیب 42 اور 21 کلومیٹر منعقد کی گئی جس میں 27 ریاستوں، یونین ٹیریٹریوںاور 11 غیر ملکی ممالک سے تعلق رکھنے والے 1100 دوڑنے والوں نے اِ س میگا بین الاقوامی ایونٹ میں حصہ لیا۔
خوبصورت خزاں کے موسم میں جب سورج کی نرم کرنیں ڈل جھیل کے پانیوں پر جھلملاتی دکھائی دے رہی تھیں، تب سرینگر کی گلیوں میں قدموں کی چاپ، نعروں اور تالیاں گونج رہی تھیں۔ کشمیر میراتھن نے یہ ثابت کر دیا کہ وادی کی دھڑکن اب بھی امید، ہمت اور زندگی سے لبریز ہے۔
یہ میراتھن مختلف کھیل و ثقافتی اداروں اور مقامی انتظامیہ کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد صحت، فٹنس، ذہنی تندرستی، ماحول دوستی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس ایونٹ نے نوجوانوں کے اس جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس موقع پر بالی وُڈ کے معروف فنکاروں کی شرکت نے تقریب میں ایک خاص چمک پیدا کر دی۔ اداکار سنیل شیٹھی نے نہ صرف دوڑ میں حصہ لیا بلکہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ گھل مل کر ان کا حوصلہ بھی بڑھایا۔ ان کی موجودگی نے اس میراتھن کو کھیل، ثقافت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج بنا دیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شیٹھی نے کہا، "یہ ہے اصل کشمیر خوبصورت، پُرامن اور زندگی سے بھرپور۔ دنیا کو یہ چہرہ زیادہ دیکھنا چاہیے۔”
ان کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جہاں میراتھن کی ویڈیوز اور تصاویر نے لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیے۔
مارگ کے دونوں اطراف طلبہ اور رضاکاروں نے ہاتھوں میں صحت، صفائی اور ماحولیاتی آگاہی کے پیغامات والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ کشمیری روایتی موسیقی اور لوک فنکاروں کی دھنوں نے فضا کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ دوڑ کے راستے میں موجود نظارے اور نظم و ضبط نے اسے صرف ایک ایونٹ نہیں بلکہ عوامی عزم و اتحاد کا تہوار بنا دیا۔
منتظمین اور سرکاری نمائندوں نے کہا کہ اس میراتھن نے کشمیر کی ایک نئی، مثبت اور پُرامن شناخت دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ ایک منتظم کے مطابق:
"یہ دوڑ صرف فٹنس کے لیے نہیں، بلکہ اس پیغام کے لیے ہے کہ کشمیر مضبوط، متحد اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔”
بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس ایونٹ کو ایک مثبت علامت قرار دیا، جو وادی میں بڑھتی ہوئی عام زندگی، اعتماد اور استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
درحقیقت کشمیر میراتھن ایک عالمی پیغام بن کر اُبھری کہ یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ حوصلے، ہم آہنگی اور اُمید کی بھی علامت ہے۔ دوڑ مکمل کرنے والے ہر شرکاء کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی، وہ اس بات کی علامت تھی کہ کشمیر اپنے ماضی سے فرار نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی طرف دوڑ رہا ہے ایک ایسا مستقبل جو صحت مند، پُرامن اور متحد ہے۔
صرف دو برس کے اندر کشمیر میراتھن ملک کے سب سے باوقار رننگ ٹورنامنٹس میں سے ایک بن گیا ہے ۔ اس نے لوگوںمیں فخر اور جذبے کا احساس پیدا کیا ہے اور نوجوانوںکو دوڑنے کے لئے متاثر کیا ہے۔  مستقبل قریب میں کشمیر میراتھن میں دِلچسپی اور شرکت مزید بڑھے گی اور یہ ہمارے سیاحتی شعبے کے لئے ایک بڑا اِقتصادی اہم ثابت ہوگی۔
جیسے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا،”آئیے اِس بین الاقوامی تقریب کو اَپنے قیمتی ثقافتی ورثے، فنون لطیفہ، دست کاری اور منفرد روایات کی نمائش کے لئے اِستعمال کریں۔ اِس شاندار ایونٹ کو تبدیلی اور ہماری کامیابیوں کو اُجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔ آئیے اِس موقعے سے فائدہ اُٹھا کر اَپنی دست کاری، ہینڈلوم اور سیاحتی شعبے کو عالمی سطح پر نمایاں کریں۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

کشمیر میراتھن: اتحاد، برداشت اور اُمید کی علامت

سہیل خان 
سرینگر
سرینگر نے ایک بار پھر زندگی، جوش اور رنگینی کا حسین منظر پیش کیا جب کشمیر میراتھن میں وادی بھر سے ہزاروں شرکاء نے حصہ لیا۔ پیشہ ور ایتھلیٹس، اسکول کے طلبہ، نوجوان، خواتین، بزرگ اور حتیٰ کہ بالی وُڈ کے معروف چہرے بھی اس دوڑ میں شامل ہوئے۔ یہ ایونٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ امن، ہم آہنگی اور عزمِ نو کا پیغام بن کر سامنے آیا، جس نے دنیا بھر میں کشمیر کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا۔
محکمہ سیاحت کی طر ف سے فُل اور ہاف مراتھن بالترتیب 42 اور 21 کلومیٹر منعقد کی گئی جس میں 27 ریاستوں، یونین ٹیریٹریوںاور 11 غیر ملکی ممالک سے تعلق رکھنے والے 1100 دوڑنے والوں نے اِ س میگا بین الاقوامی ایونٹ میں حصہ لیا۔
خوبصورت خزاں کے موسم میں جب سورج کی نرم کرنیں ڈل جھیل کے پانیوں پر جھلملاتی دکھائی دے رہی تھیں، تب سرینگر کی گلیوں میں قدموں کی چاپ، نعروں اور تالیاں گونج رہی تھیں۔ کشمیر میراتھن نے یہ ثابت کر دیا کہ وادی کی دھڑکن اب بھی امید، ہمت اور زندگی سے لبریز ہے۔
یہ میراتھن مختلف کھیل و ثقافتی اداروں اور مقامی انتظامیہ کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد صحت، فٹنس، ذہنی تندرستی، ماحول دوستی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس ایونٹ نے نوجوانوں کے اس جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس موقع پر بالی وُڈ کے معروف فنکاروں کی شرکت نے تقریب میں ایک خاص چمک پیدا کر دی۔ اداکار سنیل شیٹھی نے نہ صرف دوڑ میں حصہ لیا بلکہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ گھل مل کر ان کا حوصلہ بھی بڑھایا۔ ان کی موجودگی نے اس میراتھن کو کھیل، ثقافت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج بنا دیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شیٹھی نے کہا، "یہ ہے اصل کشمیر خوبصورت، پُرامن اور زندگی سے بھرپور۔ دنیا کو یہ چہرہ زیادہ دیکھنا چاہیے۔”
ان کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جہاں میراتھن کی ویڈیوز اور تصاویر نے لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیے۔
مارگ کے دونوں اطراف طلبہ اور رضاکاروں نے ہاتھوں میں صحت، صفائی اور ماحولیاتی آگاہی کے پیغامات والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ کشمیری روایتی موسیقی اور لوک فنکاروں کی دھنوں نے فضا کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ دوڑ کے راستے میں موجود نظارے اور نظم و ضبط نے اسے صرف ایک ایونٹ نہیں بلکہ عوامی عزم و اتحاد کا تہوار بنا دیا۔
منتظمین اور سرکاری نمائندوں نے کہا کہ اس میراتھن نے کشمیر کی ایک نئی، مثبت اور پُرامن شناخت دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ ایک منتظم کے مطابق:
"یہ دوڑ صرف فٹنس کے لیے نہیں، بلکہ اس پیغام کے لیے ہے کہ کشمیر مضبوط، متحد اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔”
بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس ایونٹ کو ایک مثبت علامت قرار دیا، جو وادی میں بڑھتی ہوئی عام زندگی، اعتماد اور استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
درحقیقت کشمیر میراتھن ایک عالمی پیغام بن کر اُبھری کہ یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ حوصلے، ہم آہنگی اور اُمید کی بھی علامت ہے۔ دوڑ مکمل کرنے والے ہر شرکاء کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی، وہ اس بات کی علامت تھی کہ کشمیر اپنے ماضی سے فرار نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی طرف دوڑ رہا ہے ایک ایسا مستقبل جو صحت مند، پُرامن اور متحد ہے۔
صرف دو برس کے اندر کشمیر میراتھن ملک کے سب سے باوقار رننگ ٹورنامنٹس میں سے ایک بن گیا ہے ۔ اس نے لوگوںمیں فخر اور جذبے کا احساس پیدا کیا ہے اور نوجوانوںکو دوڑنے کے لئے متاثر کیا ہے۔  مستقبل قریب میں کشمیر میراتھن میں دِلچسپی اور شرکت مزید بڑھے گی اور یہ ہمارے سیاحتی شعبے کے لئے ایک بڑا اِقتصادی اہم ثابت ہوگی۔
جیسے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا،”آئیے اِس بین الاقوامی تقریب کو اَپنے قیمتی ثقافتی ورثے، فنون لطیفہ، دست کاری اور منفرد روایات کی نمائش کے لئے اِستعمال کریں۔ اِس شاندار ایونٹ کو تبدیلی اور ہماری کامیابیوں کو اُجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔ آئیے اِس موقعے سے فائدہ اُٹھا کر اَپنی دست کاری، ہینڈلوم اور سیاحتی شعبے کو عالمی سطح پر نمایاں کریں۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں