پی آئی بی بیک گراؤنڈر
مرکزی حکومت نے نکسل مخالف حکمتِ عملی کو ایک مربوط نقطہ نظر کے ذریعے تبدیل کیا ہے، جس میں سکیورٹی، ترقی اور بحالی کو یکجا کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے ماضی کے بکھرے ہوئے ردعمل سے ہٹ کر، مکالمہ، سلامتی اور ہم آہنگی پر مبنی ایک متحد منصوبہ اختیار کیا ہے، جس کا ہدف مارچ 2026 تک تمام متاثرہ اضلاع کو نکسل سے پاک بنانا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مضبوطی، صلاحیت سازی اور سماجی انضمام پر توجہ دینے کے نتیجے میں نکسل سے متعلق تشدد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ 2014 سے 2024 کے درمیان نکسل پسندی سے جڑے تشدد کے واقعات میں 53 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ اکتوبر 2025 تک 1,225 نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ 270 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
گزشتہ دہائی میں سکیورٹی فورسز کی مربوط کارروائیوں اور ترقیاتی اقدامات کے باعث نکسل تشدد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
نکسل سے منسلک تشدد میں کمی
2004 تا 2014 اور 2014 تا 2024 کے درمیان تشدد کے واقعات 16,463 سے گھٹ کر 7,744 رہ گئے، سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 1,851 سے 509 اور شہری اموات 4,766 سے 1,495 تک کم ہو گئیں۔
2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں270 نکسل باغی مارے گئے اور 680 سے زائد گرفتار ہوئے۔
آپریشن بلیک فاریسٹ اور بیجاپور، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں اجتماعی طور پر ہتھیار ڈالنے جیسی بڑی کاروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق باغی تشدد کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔
سکیورٹی میں ٹیکنالوجی کا استعمال
سکیورٹی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر مرکزی حکومت کا زور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ 2014 سے اب تک 576 مضبوط پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے جبکہ گزشتہ چھ برسوں میں 336 نئے سکیورٹی کیمپ بنائے گئے۔
نکسل متاثرہ اضلاع کی تعداد 2014 میں 126 سے گھٹ کر 2024 میں 18 رہ گئی ہے، جن میں سے صرف 6 اضلاع انتہائی متاثرہ قرار پائے ہیں۔
مزید برآں، موجودہ حکومت نے نقل و حمل اور کاروائیوں کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے 68 نائٹ لینڈنگ ہیلی پیڈز تعمیر کیے ہیں۔
سکیورٹی ایجنسیاں اب نکسل سرگرمیوں کی نگرانی اور تجزیہ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ امیجنگ اور اے آئی پر مبنی تجزیات کے ساتھ ساتھ لوکیشن ٹریکنگ، موبائل ڈیٹا اور کال لاگ تجزیہ، سوشل میڈیا مانیٹرنگ، ڈرون نگرانی، سیٹلائٹ امیجنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیات استعمال کر رہی ہیں، جس سے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور کوآرڈینیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
نکسل مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی حکمت عملی
سکیورٹی اداروں کا نکسل ازم کی مالیاتی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے سخت اقدامات کا بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 40 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کیے، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 12 کروڑ روپے ضبط کیے، جبکہ ریاستی حکومتوں نے مزید 40 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں قرق کیں۔
سکیورٹی ریلیٹڈ ایکسپنڈیچر (ایس آر ای) اسکیم کے تحت گزشتہ 11 برسوں میں نکسل ازم سے متاثرہ ریاستوں کو 3,331 کروڑ روپے فراہم کیے گئے، جو پچھلی دہائی کے مقابلے میں 155 فیصد اضافہ ہے۔
اسپیشل انفراسٹرکچر اسکیم (ایس آئی ایس) کے تحت 991 کروڑ روپے ریاستی فورسز اور انٹیلی جنس برانچوں کو مضبوط بنانے کے لیے منظور کیے گئے۔
صلاحیت سازی اور ریاستی معاونت
2017 سے 2018 کے دوران 1,741 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے منظور ہوئے، جن میں سے 445 کروڑ روپے واگزار کیے گئے۔
اسپیشل سنٹرل اسسٹنس (ایس سی اے) اسکیم کے تحت 3,769 کروڑ روپے نکسل متاثرہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے۔
علاوہ ازیں، 122.28 کروڑ روپے کیمپ کے بنیادی ڈھانچے اور 12.56 کروڑ روپے صحت سہولیات کے لیے فراہم کیے گئے۔
گزشتہ دہائی میں 12,000 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوئی جبکہ مزید کاموں کے لیے 20,815 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔
موبائل کنیکٹیویٹی میں توسیع کے تحت 2,343 ٹاور پہلے مرحلے میں بنائے گئے اور 2,542 فورجی ٹاور دوسرے مرحلے میں منظور ہوئے، جن میں سے 1,000 سے زائد فعال ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر
1,007 نئی بینک شاخیں، 937 اے ٹی ایم، 37,850 بینکنگ نمائندے، اور 5,899 ڈاک خانے اب 90 اضلاع میں خدمات انجام دینے سے مالیاتی شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
کوشل وکاس یوجنا کے تحت 495 کروڑ روپے کی منظوری سے 48 صنعتی تربیتی ادارے اور 61 اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر قائم کیے گئے، جن سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
قانون نافذ کرنے والے محاذ پر 108مقدمات کی تفتیش کی گئی اور 87 چارج شیٹ داخل کی گئیں۔ بستاریا بٹالین، جو 2018 میں 1,143 بھرتیوں بشمول بیجاپور، سکما اور دانتے واڑہ کے 400 نوجوانوں پر مشتمل ہے، سکیورٹی میں عوامی شمولیت کی علامت بن چکی ہے۔
نکسل نیٹ ورک کا خاتمہ
انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے حکومت نے کئی علاقے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں، جو پہلے نکسلیوں کے کنٹرول میں تھے۔ ’’ٹریس، ٹارگٹ، نیوٹرلائز‘‘ حکمتِ عملی نے اہم نکسل رہنماؤں کی شناکت اور ان کو ختم کرنے میں مدد کی ہے۔
آکٹوپس، ڈبل بل، اور چکربندھا جیسے آپریشن سے نکسل کے سابق گڑھوں میں سکیورٹی کیمپ قائم کیے گئے۔
بودھا پہاڑ، پارس ناتھ، بارامسیا اور چکربندھا جیسے علاقے انتہا پسندی سے پاک ہو چکے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے ابوجھماد میں دہائیوں بعد داخلہ کیا۔
2024 میں 26 بڑے انسداد بغاوت آپریشن عمل میں لائے گئے جن کی بدولت نکسل تنظیم کے اعلیٰ کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا اور بنیادی گروپوں کو بے اثر کیا گیا۔ پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کو بیجاپور اور سکما کے اہم علاقوں سے نکال دیا گیا۔
حکومت کی بحالی و باز آبادکاری پالیسی
حکومت کی سرنڈر اور ری ہیبلیٹیشن پالیسی کے تحت نکسل کارکنوں کو معاشرے میں واپسی کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
2025 میں 521 کارکنوں نے ہتھیار ڈالے جبکہ گزشتہ چند برسوں میں چھتیس گڑھ میں 1,053 خود سپردگی کے واقعے درج ہوئے۔
باز آباد افراد کو 2.5 سے 5 لاکھ روپے مالی امداد اور 36 ماہ کے لیے 10,000 روپے ماہانہ وظیفہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے لیے دیا جاتا ہے۔مرکزی حکومت کی یہ جامع حکمتِ عملی آئندہ بھارت کو اگلے پانچ ماہ میں نکسل ازم کے مکمل خاتمے کی بنیاد رکھتی ہے۔
جبکہ نکسل ازم کے خلاف جنگ اب سلامتی، ترقی اور سماجی انصاف کی بنیاد پر ایک ہمہ گیر مہم میںتبدیل ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے سابق متنازعہ علاقوں کو ترقی و مواقع کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
مرکز اور ریاستوں کے درمیان مسلسل تعاون اور عزم کے ساتھ، بھارت مارچ 2026 تک نکسل ازم سے مکمل آزادی کے ہدف کی طرف گامزن ہے — جو ایک مستحکم، فیصلہ کن اور پْرامن طرزِ حکمرانی کی دہائی کی علامت ہے۔
…٭…
بشکریہ: پی آئی بی سرینگر


