افسر جمال افسرؔ
سوزِ دروں جو آج تلک تھی دبی ہوئی
نکلا تو حرف بن کے مری شاعری ہوئی
ہر زرہ مجھ کو خاکِ وطن کا عزیز ہے
ہے میرے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی
بدلے گا اس طرح سے یہ ماحول عنقریب
رہ جائیں گی تمہاری بھی آنکھیں پھٹی ہوئی
سجدہ خدا کا اور بھروسہ بھی غیر پر
تم ہی بتاؤ کیا یہ کوئی بندگی ہوئی؟
ہم نے جو داستانِ غمِ دوستاں سنی
لگتا ہے یہ کتاب ہے کچھ کچھ پڑھی ہوئی
ہر ظلم پر خموش مسلمان بے زبان
رہتی ہیں جن کو دیکھ کے آنکھیں بھری ہوئی
جو دل میں ہے ہمارے وہی ہے زبان پر
یوں ہے کتابِ زیست ہماری کھلی ہوئی
حق بات کا کیا ہے کسی نے جو انکشاف
کیوں کھلبلی ہے چار سو افسرؔ مچی ہوئی
ززز


