غزل:افسر جمال افسرؔ

افسر جمال افسرؔ

سوزِ دروں جو آج تلک تھی دبی ہوئی
نکلا تو حرف بن کے مری شاعری ہوئی
ہر زرہ مجھ کو خاکِ وطن کا عزیز ہے
ہے میرے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی
بدلے گا اس طرح سے یہ ماحول عنقریب
رہ جائیں گی تمہاری بھی آنکھیں پھٹی ہوئی
سجدہ خدا کا اور بھروسہ بھی غیر پر
تم ہی بتاؤ کیا یہ کوئی بندگی ہوئی؟
ہم نے جو داستانِ غمِ دوستاں سنی
لگتا ہے یہ کتاب ہے کچھ کچھ پڑھی ہوئی
ہر ظلم پر خموش مسلمان بے زبان
رہتی ہیں جن کو دیکھ کے آنکھیں بھری ہوئی
جو دل میں ہے ہمارے وہی ہے زبان پر
یوں ہے کتابِ زیست ہماری کھلی ہوئی
حق بات کا کیا ہے کسی نے جو انکشاف
کیوں کھلبلی ہے چار سو افسرؔ مچی ہوئی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

جب جمہوریت عوام کی آواز سنتی ہے

لوک سبھا کی جانب سے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ...

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

تازہ ترین خبریں

جب جمہوریت عوام کی آواز سنتی ہے

لوک سبھا کی جانب سے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ...

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

غزل:افسر جمال افسرؔ

افسر جمال افسرؔ

سوزِ دروں جو آج تلک تھی دبی ہوئی
نکلا تو حرف بن کے مری شاعری ہوئی
ہر زرہ مجھ کو خاکِ وطن کا عزیز ہے
ہے میرے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی
بدلے گا اس طرح سے یہ ماحول عنقریب
رہ جائیں گی تمہاری بھی آنکھیں پھٹی ہوئی
سجدہ خدا کا اور بھروسہ بھی غیر پر
تم ہی بتاؤ کیا یہ کوئی بندگی ہوئی؟
ہم نے جو داستانِ غمِ دوستاں سنی
لگتا ہے یہ کتاب ہے کچھ کچھ پڑھی ہوئی
ہر ظلم پر خموش مسلمان بے زبان
رہتی ہیں جن کو دیکھ کے آنکھیں بھری ہوئی
جو دل میں ہے ہمارے وہی ہے زبان پر
یوں ہے کتابِ زیست ہماری کھلی ہوئی
حق بات کا کیا ہے کسی نے جو انکشاف
کیوں کھلبلی ہے چار سو افسرؔ مچی ہوئی
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون