افسانوی مجموعہ "شریفوں کا محلہ” کشمیر کی زمینی آواز

بشیر اطہر

کتاب کا اجرا بذاتِ خود ایک واقعہ ہوتا ہے، مگر جب وہ کتاب اپنے علاقے کی تہذیبی، سماجی اور اخلاقی پرتوں کو جِلا بخشے تو اُس کا اثر دیرپا رہتا ہے۔محمد حسین ظفر کا افسانوی مجموعہ "شریفوں کا محلہ” اسی قسم کی تحریر ہے ایک ایسی دستاویز جس میں مقامی تجربہ، سماجی تنقید اور ذاتی مشاہدہ آپس میں مل کر قاری کو ایک سوچنے والا آئینہ پیش کرتے ہیں۔میرا یہ مضمون اسی مجموعے کے موضوعات، اسلوب، ادبی اہمیت اور سماجی اثرات پر طفلانہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔
محمد حسین ظفر کا یہ افسانوی مجموعہ حقیقت پر مبنی ایسے افسانوں پر مشتمل ہے جن میں سماج کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوبصورتی اور بےباکی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب معاشرے میں پنپ رہی برائیوں اور ان کے پروردگاروں پر ایک کاری ضرب ہے۔مجموعے میں تقریباً اکتیس افسانے شامل ہیں۔ عام طور پر افسانہ نگار تخیل کے پردے میں معاشرتی حقیقتوں کو پیش کرتا ہے، مگر ظفر صاحب نے روایتی طرز سے ہٹ کر خود سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات کو براہِ راست قاری کے سامنے رکھا ہے۔ ان کے افسانوں میں سچائی کی گونج سنائی دیتی ہے اور قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اپنی آپ بیتی سنارہا ہے۔کتاب کے عنوان "شریفوں کا محلہ” کا انتخاب ان کے ایک افسانے سے لیا گیا ہے۔ عنوان بظاہر کسی ناول کا تاثر دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ سماج کی عکاسی کرنے والا ایک منفرد اور فکر انگیز افسانوی مجموعہ ہے، جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے معاشرتی رویّوں پر نظرِثانی کی دعوت بھی دیتا ہے۔
"شریفوں کا محلہ” کا بنیادی دھاگہ سماج کی ظاہری شرافت اور باطنی کجی کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ عنوان بذاتِ خود ایک طنزیہ آمیز سرخی بن کر سامنے آتا ہے وہ محلہ جہاں لوگوں کے رویّے "شریف” کہلاتے ہیں مگر عمل میں گہرے تضاد موجود ہیں۔ اس تضاد کی کھوج یہی مجموعہ کرتا ہے: چھوٹی سی روایتی رسم، روزمرہ کے رشتے، خوفِ بدنامی، حسِ تحفظ اور اخلاقی بےحسی یہ سب افسانوں میں مل کر زندگی کی ایک پیچیدہ تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی "زنجیر” جیسا علامتی افسانہ دکھاتا ہے کہ کس طرح بندھن مختلف شکلوں میں لوگوں کی آزادی سلب کرتے ہیں طوق، بیڑیاں، ہتھکڑیاں….. جو ظاہری یا باطنی قید ہیں۔
ظفر صاحب کی سب سے بڑی قوت ان کی سادہ مگر اثر انگیز زبان ہے۔ الفاظ کا انتخاب سہل اور رواں ہے، مگر معنی کی گہرائی میں سنجیدہ اور واضح نشانات ہیں۔ افسانوں میں روایتی تخیل کے پردے کے بجائے کبھی کبھار بیانیہ خودنوشت کے انداز میں قاری سے سیدھا مکالمہ ہوتا محسوس ہوتا ہے جس سے مصنف کی صداقت اور تجرباتی حیثیت تحریر میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ بیانیہ انداز قاری کو محض مشاہدہ کرنے والا نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اندر تک جھنجھوڑ کر سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
مجموعے میں شامل افسانوں میں کئی ایسے عنوان روشن ہیں جن کا ذکر بھی محمد حسین ظفر نے کیا "پھاوڑا”، "بنجارن”، "کھوئے ہوئے لمحوں کا حساب”، "ایس ایس اے ٹیچراورایس ایم ایس”۔ یہ نام خوداً خود بتاتے ہیں کہ تحریر حقیقت کے قریب ہے: روزمرہ کے آلے، سفرِ حیات، تعلیمی نظام کی تلخی، اور جدید مواصلات کی اغیار اثر پذیری۔ ان افسانوں کی خواندگی کے بعد قاری کے اندر اداسی، تعجب اور کبھی کبھی غصہ پیدا ہوتا ہے یہ علامت ہے کہ تحریر نے احساس جگایا ہے۔ اور یہی ادبی کامیابی ہے۔رہبر تعلیم ٹیچرس کے ساتھ حسین ظفرکی دلی ہمدردی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ نے ان کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ایک ایسا افسانہ تحریر کیا ہے جس سے ہر ذی حس قاری متاثر ہوتا ہےکیونکہ ان ٹیچروں کے خلاف ایسا بیج بویا گیا تھا کہ یہ لوگ سماج میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھےاور ان کو حقارت بھری نظروں سے دیکھا جارہا تھا.
کشمیر کی ادبی روایت اور یہاں کے قلمکاروں کا پس منظر اس مجموعے کی سمجھ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہر علاقے کی اپنی زبان، طرزِ زندگی اور حساسیت ہوتی ہے اور یہی چیز ظفر صاحب کی تحریر کو معتبر بناتی ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت ایک ضمنی اصرار بھی ہے مقامی آوازوں کو تسلیم کیجیے، اُن کا ادبی وزن مانو، اور فرض کیجیے کہ ہر علاقے کی کہانی اپنی جگہ یونیورسِل اقدار اور مخصوص تجربات دونوں کے امتزاج سے بنتی ہے۔ نیز،ظفر صاحب کے اپنے تعارفی اقتباس میں جہاں بعض بزرگ قلمکاروں کی حوصلہ شکنی کا ذکر ملتا ہے، وہ باور کراتے ہیں کہ ادبی سرپرستی کا فقدان بھی علاقے کی تخلیقی قوتوں پر اثر انداز ہوتا ہے مگر یہ کتاب خودی کے اظہار میں کوتاہی نہیں دکھاتی۔جب وادی کشمیر کے اس ہونہار، ہردلعزیز اور معروف براڈکاسٹر محمد حسین ظفر کےاس افسانوی مجموعہ یعنی *شریفوں کا محلہ*کی رسم رونمائی ٹیگور حال میں انجام دی گئی تو یہ حال تالیوں سے گونج اٹھااس کتاب کے پبلشر ٹرپل زیڈ پبلیکیشنز نے بھی کافی محنت اور لگن سے یہ کتاب ترتیب دی ہے اور اسے بہترین انداز میں پیش کیا ہے
خواہش یہ رہے گی کہ آئندہ کتابوں میں اگر حسین ظفر چند اضافی عناصر شامل کرے تو مجموعہ علمی و ادبی طور پر مزید مضبوط ہو جائےاس مجموعہ میں مصنف نے ایک مختصر سوانحی نوٹ بھی شامل کیا ہےاور تکنیکی طور پر اشاعت کا صفحہ بندی، عنوانات کی ٹائپوگرافی اور فہرستِ مضامین بہتر انداز میں شامل کئے گئے ہیں.یہ مجموعہ تیز رفتاری سے پڑھنے کے بجائے رک کر، سوچ سمجھ کر اور کبھی ایک کہانی کے بعد وقوف اختیار کرکے پڑھنے کے لائق ہے۔ ہر افسانہ ایک کھڑی تصویر چھوڑ جاتا ہے جس پر دوبارہ نظر ڈالنے کی حاجت پڑتی ہے ادبی حلقوں یا کتابی میلوں میں ان افسانوں پر بحث کرنا نہایت مفید رہے گا خاص طور پر ان موضوعات پر جو سماجی اخلاق، عورتوں کی حالت، تعلیمی نظام یا مروجہ رسم، آر ای ٹی ٹیچرس کی حالت زار و رواج سے متعلق ہیں محمد حسین ظفر کا یہ مجموعہ نہ محض کہانیاں پیش کرتا ہے بلکہ ایک معاشرتی آئینہ لگاتا ہے جو ہمیں اپنے طرزِ عمل، خوفوں اور سماجی بندشوں کا ادراک کراتا ہے۔ اردو ادب میں یہ ایک محکم اضافہ ہےایک ایسی آواز جو خطے کی زمین سے اُٹھ کر کُھری اور بےبا پردہ بات کرتی ہے۔ پڑھنے والے کے لیے یہ کتاب زبانی خوشگواری سے بڑھ کر ضمیر کی آواز ہےاور یہی اس کی حقیقی کامیابی ہے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ……

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

افسانوی مجموعہ "شریفوں کا محلہ” کشمیر کی زمینی آواز

بشیر اطہر

کتاب کا اجرا بذاتِ خود ایک واقعہ ہوتا ہے، مگر جب وہ کتاب اپنے علاقے کی تہذیبی، سماجی اور اخلاقی پرتوں کو جِلا بخشے تو اُس کا اثر دیرپا رہتا ہے۔محمد حسین ظفر کا افسانوی مجموعہ "شریفوں کا محلہ” اسی قسم کی تحریر ہے ایک ایسی دستاویز جس میں مقامی تجربہ، سماجی تنقید اور ذاتی مشاہدہ آپس میں مل کر قاری کو ایک سوچنے والا آئینہ پیش کرتے ہیں۔میرا یہ مضمون اسی مجموعے کے موضوعات، اسلوب، ادبی اہمیت اور سماجی اثرات پر طفلانہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔
محمد حسین ظفر کا یہ افسانوی مجموعہ حقیقت پر مبنی ایسے افسانوں پر مشتمل ہے جن میں سماج کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوبصورتی اور بےباکی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب معاشرے میں پنپ رہی برائیوں اور ان کے پروردگاروں پر ایک کاری ضرب ہے۔مجموعے میں تقریباً اکتیس افسانے شامل ہیں۔ عام طور پر افسانہ نگار تخیل کے پردے میں معاشرتی حقیقتوں کو پیش کرتا ہے، مگر ظفر صاحب نے روایتی طرز سے ہٹ کر خود سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات کو براہِ راست قاری کے سامنے رکھا ہے۔ ان کے افسانوں میں سچائی کی گونج سنائی دیتی ہے اور قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اپنی آپ بیتی سنارہا ہے۔کتاب کے عنوان "شریفوں کا محلہ” کا انتخاب ان کے ایک افسانے سے لیا گیا ہے۔ عنوان بظاہر کسی ناول کا تاثر دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ سماج کی عکاسی کرنے والا ایک منفرد اور فکر انگیز افسانوی مجموعہ ہے، جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے معاشرتی رویّوں پر نظرِثانی کی دعوت بھی دیتا ہے۔
"شریفوں کا محلہ” کا بنیادی دھاگہ سماج کی ظاہری شرافت اور باطنی کجی کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ عنوان بذاتِ خود ایک طنزیہ آمیز سرخی بن کر سامنے آتا ہے وہ محلہ جہاں لوگوں کے رویّے "شریف” کہلاتے ہیں مگر عمل میں گہرے تضاد موجود ہیں۔ اس تضاد کی کھوج یہی مجموعہ کرتا ہے: چھوٹی سی روایتی رسم، روزمرہ کے رشتے، خوفِ بدنامی، حسِ تحفظ اور اخلاقی بےحسی یہ سب افسانوں میں مل کر زندگی کی ایک پیچیدہ تصویر کھینچتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی "زنجیر” جیسا علامتی افسانہ دکھاتا ہے کہ کس طرح بندھن مختلف شکلوں میں لوگوں کی آزادی سلب کرتے ہیں طوق، بیڑیاں، ہتھکڑیاں….. جو ظاہری یا باطنی قید ہیں۔
ظفر صاحب کی سب سے بڑی قوت ان کی سادہ مگر اثر انگیز زبان ہے۔ الفاظ کا انتخاب سہل اور رواں ہے، مگر معنی کی گہرائی میں سنجیدہ اور واضح نشانات ہیں۔ افسانوں میں روایتی تخیل کے پردے کے بجائے کبھی کبھار بیانیہ خودنوشت کے انداز میں قاری سے سیدھا مکالمہ ہوتا محسوس ہوتا ہے جس سے مصنف کی صداقت اور تجرباتی حیثیت تحریر میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ بیانیہ انداز قاری کو محض مشاہدہ کرنے والا نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اندر تک جھنجھوڑ کر سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
مجموعے میں شامل افسانوں میں کئی ایسے عنوان روشن ہیں جن کا ذکر بھی محمد حسین ظفر نے کیا "پھاوڑا”، "بنجارن”، "کھوئے ہوئے لمحوں کا حساب”، "ایس ایس اے ٹیچراورایس ایم ایس”۔ یہ نام خوداً خود بتاتے ہیں کہ تحریر حقیقت کے قریب ہے: روزمرہ کے آلے، سفرِ حیات، تعلیمی نظام کی تلخی، اور جدید مواصلات کی اغیار اثر پذیری۔ ان افسانوں کی خواندگی کے بعد قاری کے اندر اداسی، تعجب اور کبھی کبھی غصہ پیدا ہوتا ہے یہ علامت ہے کہ تحریر نے احساس جگایا ہے۔ اور یہی ادبی کامیابی ہے۔رہبر تعلیم ٹیچرس کے ساتھ حسین ظفرکی دلی ہمدردی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ نے ان کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ایک ایسا افسانہ تحریر کیا ہے جس سے ہر ذی حس قاری متاثر ہوتا ہےکیونکہ ان ٹیچروں کے خلاف ایسا بیج بویا گیا تھا کہ یہ لوگ سماج میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھےاور ان کو حقارت بھری نظروں سے دیکھا جارہا تھا.
کشمیر کی ادبی روایت اور یہاں کے قلمکاروں کا پس منظر اس مجموعے کی سمجھ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہر علاقے کی اپنی زبان، طرزِ زندگی اور حساسیت ہوتی ہے اور یہی چیز ظفر صاحب کی تحریر کو معتبر بناتی ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت ایک ضمنی اصرار بھی ہے مقامی آوازوں کو تسلیم کیجیے، اُن کا ادبی وزن مانو، اور فرض کیجیے کہ ہر علاقے کی کہانی اپنی جگہ یونیورسِل اقدار اور مخصوص تجربات دونوں کے امتزاج سے بنتی ہے۔ نیز،ظفر صاحب کے اپنے تعارفی اقتباس میں جہاں بعض بزرگ قلمکاروں کی حوصلہ شکنی کا ذکر ملتا ہے، وہ باور کراتے ہیں کہ ادبی سرپرستی کا فقدان بھی علاقے کی تخلیقی قوتوں پر اثر انداز ہوتا ہے مگر یہ کتاب خودی کے اظہار میں کوتاہی نہیں دکھاتی۔جب وادی کشمیر کے اس ہونہار، ہردلعزیز اور معروف براڈکاسٹر محمد حسین ظفر کےاس افسانوی مجموعہ یعنی *شریفوں کا محلہ*کی رسم رونمائی ٹیگور حال میں انجام دی گئی تو یہ حال تالیوں سے گونج اٹھااس کتاب کے پبلشر ٹرپل زیڈ پبلیکیشنز نے بھی کافی محنت اور لگن سے یہ کتاب ترتیب دی ہے اور اسے بہترین انداز میں پیش کیا ہے
خواہش یہ رہے گی کہ آئندہ کتابوں میں اگر حسین ظفر چند اضافی عناصر شامل کرے تو مجموعہ علمی و ادبی طور پر مزید مضبوط ہو جائےاس مجموعہ میں مصنف نے ایک مختصر سوانحی نوٹ بھی شامل کیا ہےاور تکنیکی طور پر اشاعت کا صفحہ بندی، عنوانات کی ٹائپوگرافی اور فہرستِ مضامین بہتر انداز میں شامل کئے گئے ہیں.یہ مجموعہ تیز رفتاری سے پڑھنے کے بجائے رک کر، سوچ سمجھ کر اور کبھی ایک کہانی کے بعد وقوف اختیار کرکے پڑھنے کے لائق ہے۔ ہر افسانہ ایک کھڑی تصویر چھوڑ جاتا ہے جس پر دوبارہ نظر ڈالنے کی حاجت پڑتی ہے ادبی حلقوں یا کتابی میلوں میں ان افسانوں پر بحث کرنا نہایت مفید رہے گا خاص طور پر ان موضوعات پر جو سماجی اخلاق، عورتوں کی حالت، تعلیمی نظام یا مروجہ رسم، آر ای ٹی ٹیچرس کی حالت زار و رواج سے متعلق ہیں محمد حسین ظفر کا یہ مجموعہ نہ محض کہانیاں پیش کرتا ہے بلکہ ایک معاشرتی آئینہ لگاتا ہے جو ہمیں اپنے طرزِ عمل، خوفوں اور سماجی بندشوں کا ادراک کراتا ہے۔ اردو ادب میں یہ ایک محکم اضافہ ہےایک ایسی آواز جو خطے کی زمین سے اُٹھ کر کُھری اور بےبا پردہ بات کرتی ہے۔ پڑھنے والے کے لیے یہ کتاب زبانی خوشگواری سے بڑھ کر ضمیر کی آواز ہےاور یہی اس کی حقیقی کامیابی ہے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ……

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں