جنگ نیوز ڈیسک
متحدہ مجلس علمائے کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی کا اجلاس آج سرینگر میں ناصرالاسلام کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وادی میں فروخت ہونے والے ذبح شدہ مرغیوں اور گوشت کے معیار، ماخذ اور حلال ہونے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں متعدد علما نے شرکت کی جن میں مفتی نذیر احمد قاسمی، مفتی عبدالرشید مفتاحی، مولانا شوکت حسین کینگ، آغا محمد حسین، مفتی محمد علی اکبر، سید محمد اسلم اندرابی اور مولانا سید رحمن شمس شامل تھے۔
اجلاس میں وادی میں باہر سے لائی جانے والی ذبح شدہ مرغیوں کے بارے میں موصولہ اطلاعات اور شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ جموں و کشمیر سے منگوائی جانے والی بڑی مقدار میں ذبح شدہ مرغیاں اسلامی طرز کے حلال اصولوں پر پوری نہیں اترتیں۔
تفصیلی مشاورت کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر ہوٹل و ریسٹورنٹ مالکان، گوشت فروشوں اور تواضع و خوراک کے شعبے سے وابستہ تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر بیرونِ ریاست سے درآمد ذبح شدہ مرغی اور گوشت کی خرید و فروخت اور فراہمی بند کریں اور اس کے بجائے مقامی سطح پر ہی ان مصنوعات کی خریداری کریں تاکہ اسلامی غذائی اصولوں کے مطابق عمل یقینی بنایا جا سکے۔
مفتیِ اعظم ناصرالاسلام نے کہا کہ یہ فیصلہ متعدد معتبر شکایات اور قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر لیا گیا ہے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ درآمد شدہ پولٹری میں حلال کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، یہ ہم سب کی مذہبی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے کہ وادی میں صرف حلال گوشت اور پولٹری ہی استعمال اور پیش کی جائے۔ پوری قوم کو اس اجتماعی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے متحد ہو کر عمل کرنا چاہیے۔
اجلاس میں مقامی حکام اور متعلقہ اداروں کا اس سلسلے میں ان کے مثبت رول کی سراہنا کرتے ہوئے ان سے پر زور تاکید کی گئی کہ پولٹری اور گوشت کی سپلائی چین پر کڑی نگرانی رکھیں تاکہ حلال معیار کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے اور حلال فوڈ کے شعبے سے وابستہ مقامی کسانوں اور پیدا کنندگان کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اس حوالے سے جو تفصیلی تجاویز مرتب کی گئی ہیں انہیں عنقریب پریس اور میڈیا کے ذریعے عوام میں مشتہر کیا جائیگا۔


