عالمی ریبیز ڈے: کشمیر میں بلیوں کے کاٹنے کے کیس کتوں سے زیادہ

جنگ نیوز+کے این او

سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال کے اینٹی ریبیز کلینک میں پچھلے چھ ماہ کے دوران جانوروں کے کاٹنے کے 8346 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر کتوں اور بلیوں کے کاٹنے کے واقعات شامل ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق شہر کے ہر کونے میں آوارہ کتوں کی بڑھتی موجودگی نے انسان اور کتوں کے درمیان تصادم میں اضافہ کیا ہے، جبکہ کووڈ-19 وبا کے بعد گھریلو سطح پر بلیاں پالنے کا رجحان بھی بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں بلی کے کاٹنے کے کیس اب کتوں سے بھی زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔
اینٹی ریبیز کلینک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اپریل 2024 سے مارچ 2025 تک مجموعی طور پر 12437 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں 6205 کتے کے کاٹنے، 5717 بلی کے کاٹنے اور 515 دیگر جانوروں کے کاٹنے کے واقعات شامل تھے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل سے 26 ستمبر 2025 تک 8346 نئے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مارچ 2026 تک یہ تعداد 15000 تک پہنچ سکتی ہے۔
سال بہ سال اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل 2015 سے مارچ 2016 تک 7061 کیس رپورٹ ہوئے تھے، جب کہ مارچ 2025 تک یہ تعداد 12437 تک جا پہنچی۔ مجموعی طور پر اپریل 2015 سے اب تک تقریباً 80 ہزار کیس درج کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ بلیوں کے کاٹنے کے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، مگر کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی ریبیز اب بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ ریبیز ایک مہلک وائرس ہے جو ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 59000 انسانی اموات کا باعث بنتا ہے، زیادہ تر افریقہ اور ایشیا میں۔ اس مہلک مرض سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ بروقت ویکسینیشن ہے۔
تربیت و رہنمائی میں کول صاحب کی وابستگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔
انہوں نے ان کشمیری پنڈت اساتذہ کی وراثت کا بھی ذکر کیا جو انجمن نصرت الاسلام کے تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس بات کو بھی یاد کیا کہ وہ مسلمان طلبہ کی جامع مسجد سرینگر میں ظہر کی نماز کے وقت حاضری تک درج کرتے تھے۔
میرواعظ نے کہا کہ معاشرے کی تشکیل اور تعلیم میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

عالمی ریبیز ڈے: کشمیر میں بلیوں کے کاٹنے کے کیس کتوں سے زیادہ

جنگ نیوز+کے این او

سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال کے اینٹی ریبیز کلینک میں پچھلے چھ ماہ کے دوران جانوروں کے کاٹنے کے 8346 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر کتوں اور بلیوں کے کاٹنے کے واقعات شامل ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق شہر کے ہر کونے میں آوارہ کتوں کی بڑھتی موجودگی نے انسان اور کتوں کے درمیان تصادم میں اضافہ کیا ہے، جبکہ کووڈ-19 وبا کے بعد گھریلو سطح پر بلیاں پالنے کا رجحان بھی بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں بلی کے کاٹنے کے کیس اب کتوں سے بھی زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔
اینٹی ریبیز کلینک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اپریل 2024 سے مارچ 2025 تک مجموعی طور پر 12437 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں 6205 کتے کے کاٹنے، 5717 بلی کے کاٹنے اور 515 دیگر جانوروں کے کاٹنے کے واقعات شامل تھے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل سے 26 ستمبر 2025 تک 8346 نئے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مارچ 2026 تک یہ تعداد 15000 تک پہنچ سکتی ہے۔
سال بہ سال اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل 2015 سے مارچ 2016 تک 7061 کیس رپورٹ ہوئے تھے، جب کہ مارچ 2025 تک یہ تعداد 12437 تک جا پہنچی۔ مجموعی طور پر اپریل 2015 سے اب تک تقریباً 80 ہزار کیس درج کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ بلیوں کے کاٹنے کے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، مگر کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی ریبیز اب بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ ریبیز ایک مہلک وائرس ہے جو ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 59000 انسانی اموات کا باعث بنتا ہے، زیادہ تر افریقہ اور ایشیا میں۔ اس مہلک مرض سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ بروقت ویکسینیشن ہے۔
تربیت و رہنمائی میں کول صاحب کی وابستگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔
انہوں نے ان کشمیری پنڈت اساتذہ کی وراثت کا بھی ذکر کیا جو انجمن نصرت الاسلام کے تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس بات کو بھی یاد کیا کہ وہ مسلمان طلبہ کی جامع مسجد سرینگر میں ظہر کی نماز کے وقت حاضری تک درج کرتے تھے۔
میرواعظ نے کہا کہ معاشرے کی تشکیل اور تعلیم میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں