آتش بازی پر پابندی ایک درست اور بروقت قدم

خان سحرش

دو روز قبل سرینگر کے بلوارڈ روڈ پر اچانک ایک مشکوک شے ملنے کی خبر پھیلی تو شہر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ ٹریفک روک دیا گیا، دکانداروں نے شٹر گرا دیے اور عوام کے دلوں میں پرانے زخم تازہ ہوگئے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ کوئی بارودی مواد نہیں بلکہ شادی میں استعمال ہونے والی آتش بازی کا سامان تھا۔ بظاہر یہ معمولی واقعہ تھا، مگر اس نے ہمیں ایک اہم سوال پر سوچنے پر مجبور کر دیا: کیا شادیوں میں پٹاخوں کا شور شرابہ محض غیر ضروری رسم نہیں بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن چکا ہے؟
پولیس نے اس واقعے کے بعد شادی بیاہ اور تقریبات میں پٹاخوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ کچھ حلقوں کو سخت محسوس ہوسکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شادی انسانی زندگی کا خوشی کا لمحہ ہے، مگر آتش بازی سے جڑی نئی “روایت” نے اسے شور و آلودگی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ رات گئے تک پٹاخوں کی آواز نہ صرف مریضوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے اذیت بن جاتی ہے بلکہ معاشرتی سکون بھی غارت کرتی ہے۔ حادثات کی کئی تلخ مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جن میں قیمتی جانیں اور وسائل ضائع ہوئے۔
آتش بازی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کے غریب طبقے پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے۔ جب شادی میں پٹاخے نہ ہوں تو تقریب کو “ادھورا” سمجھا جاتا ہے۔ یوں ایک فضول خرچی کو سماجی روایت کا درجہ دے کر دوسروں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔
ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ آتش بازی کے دھوئیں اور شور سے نہ صرف سانس اور دل کے مریض متاثر ہوتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جانور بھی اس شور سے اذیت اٹھاتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض چند لمحوں کی نمائش کے لیے ہے۔
پولیس کا فیصلہ یقیناً قابلِ تحسین ہے، لیکن محض پابندی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری اور شعور کی بھی ضرورت ہے۔ اگر لوگ خود سمجھیں کہ یہ عمل نقصان دہ ہے تو ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ خوشی کی اصل علامت سادگی، سکون اور محبت ہے، نہ کہ شور اور دھواں۔
بلوارڈ روڈ کا واقعہ ایک تنبیہ ہے کہ معمولی سی لاپرواہی کس طرح بڑے خوف میں بدل سکتی ہے۔ پولیس نے جو قدم اٹھایا ہے وہ وقتی نہیں بلکہ ایک پائیدار سماجی اصلاح کی طرف پیش رفت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پابندی کو خوش آمدید کہیں اور شادیوں کو حقیقی معنوں میں خوشی اور سکون کا دن بنائیں۔
اصل تہذیب یہی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کے آرام، ماحول اور معاشرتی توازن کا بھی خیال رکھیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پٹاخوں کی روایت کو خیر باد کہیں اور آنے والی نسل کے لیے ایک صحت مند اور پرامن معاشرہ قائم کریں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

آتش بازی پر پابندی ایک درست اور بروقت قدم

خان سحرش

دو روز قبل سرینگر کے بلوارڈ روڈ پر اچانک ایک مشکوک شے ملنے کی خبر پھیلی تو شہر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ ٹریفک روک دیا گیا، دکانداروں نے شٹر گرا دیے اور عوام کے دلوں میں پرانے زخم تازہ ہوگئے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ کوئی بارودی مواد نہیں بلکہ شادی میں استعمال ہونے والی آتش بازی کا سامان تھا۔ بظاہر یہ معمولی واقعہ تھا، مگر اس نے ہمیں ایک اہم سوال پر سوچنے پر مجبور کر دیا: کیا شادیوں میں پٹاخوں کا شور شرابہ محض غیر ضروری رسم نہیں بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن چکا ہے؟
پولیس نے اس واقعے کے بعد شادی بیاہ اور تقریبات میں پٹاخوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ کچھ حلقوں کو سخت محسوس ہوسکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شادی انسانی زندگی کا خوشی کا لمحہ ہے، مگر آتش بازی سے جڑی نئی “روایت” نے اسے شور و آلودگی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ رات گئے تک پٹاخوں کی آواز نہ صرف مریضوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے اذیت بن جاتی ہے بلکہ معاشرتی سکون بھی غارت کرتی ہے۔ حادثات کی کئی تلخ مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جن میں قیمتی جانیں اور وسائل ضائع ہوئے۔
آتش بازی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کے غریب طبقے پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے۔ جب شادی میں پٹاخے نہ ہوں تو تقریب کو “ادھورا” سمجھا جاتا ہے۔ یوں ایک فضول خرچی کو سماجی روایت کا درجہ دے کر دوسروں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔
ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ آتش بازی کے دھوئیں اور شور سے نہ صرف سانس اور دل کے مریض متاثر ہوتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جانور بھی اس شور سے اذیت اٹھاتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض چند لمحوں کی نمائش کے لیے ہے۔
پولیس کا فیصلہ یقیناً قابلِ تحسین ہے، لیکن محض پابندی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری اور شعور کی بھی ضرورت ہے۔ اگر لوگ خود سمجھیں کہ یہ عمل نقصان دہ ہے تو ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ خوشی کی اصل علامت سادگی، سکون اور محبت ہے، نہ کہ شور اور دھواں۔
بلوارڈ روڈ کا واقعہ ایک تنبیہ ہے کہ معمولی سی لاپرواہی کس طرح بڑے خوف میں بدل سکتی ہے۔ پولیس نے جو قدم اٹھایا ہے وہ وقتی نہیں بلکہ ایک پائیدار سماجی اصلاح کی طرف پیش رفت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پابندی کو خوش آمدید کہیں اور شادیوں کو حقیقی معنوں میں خوشی اور سکون کا دن بنائیں۔
اصل تہذیب یہی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کے آرام، ماحول اور معاشرتی توازن کا بھی خیال رکھیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پٹاخوں کی روایت کو خیر باد کہیں اور آنے والی نسل کے لیے ایک صحت مند اور پرامن معاشرہ قائم کریں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں