منتظر مومن وانی
بہرام پورہ کنزر
دنیا ٹیکنالوجی کی بدولت ہر میدان میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، اور صحت کا شعبہ ہر ریاست کی ترقی کے لیے اولین ترجیح سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ بھارت طبی شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہے، لیکن کشمیر میں یہ شعبہ بدحالی اور احتجاجوں کے گرداب میں گھرا ہوا ہے۔
ڈاکٹروں پر ہر الزام تھوپ دینا انصاف نہیں، کیونکہ اصل مسئلہ کمزور اور ناکارہ نظام ہے۔ دوا سے لے کر ٹیسٹ تک، علاج سے لے کر بنیادی سہولیات تک—ہر جگہ مایوسی اور ناامیدی کا سایہ ہے۔ لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں، اور احتجاج کرنا عام انسان کی مجبوری بن چکا ہے۔اسپتال میں محض ایک ٹکٹ لینے کے لیے بیمار کو گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ جب تک مریض ڈاکٹر سے مل پاتا ہے، وہ جسمانی درد کے باعث بے حس و حرکت ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک اسپتال میں کیا گیا ایکسرے دوسرے اسپتال میں دوبارہ کروانے پر زمین و آسمان کا فرق دکھاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مشینوں کی خرابی ہے یا چلانے والوں کی نااہلی؟
سرکاری اسپتالوں میں مفت دواؤں کا جو دعویٰ ہے، وہ اکثر صرف اپنوں تک محدود رہتا ہے، جبکہ غریب مریض کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔ کہیں اسپتال عملے کا لہجہ مریض کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے، اور کہیں پرائیویٹ کلینک جانے کا مشورہ ہی آخری علاج سمجھا جاتا ہے۔بڑھتی آبادی کے ساتھ نئے اسپتال قائم ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مذہبی ادارے، جو عوام سے صدقات و خیرات کے نام پر کروڑوں روپے جمع کرتے ہیں، اس کارِ خیر میں عملی طور پر حصہ لیں -مگر بدقسمتی سے ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔جب دنیا ڈیجیٹل دور کی تیز ترین ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے، ہم آج بھی ایک کاؤنٹر پر ٹکٹ کے لیے دھکے اور ذلت سہنے پر مجبور ہیں۔ کسی اسپتال میں بیڈ دستیاب نہیں، تو کسی جگہ مریض کو ہاتھ میں گلوکوز کی بوتل لیے فرش پر وقت گزارنا پڑتا ہے۔ چند نئی عمارتیں بنا کر ان کا افتتاحی فیتہ کاٹ دینا ترقی نہیں کہلا سکتا۔ان سب مسائل کا براہِ راست بوجھ صرف غریب پر پڑتا ہے، کیونکہ امیر لوگ نجی اسپتالوں میں پیسوں کے زور پر فوراً علاج کرا لیتے ہیں، جبکہ غریب صبح سویرے اسپتال پہنچ کر یہ سوچتا رہتا ہے کہ ڈاکٹر کب آئیں گے، او پی ڈی کب کھلے گی اور دوا کہاں سے ملے گی۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ اس قوم میں طبی سائنس مضبوط ہو، تو ہر باشعور فرد کو اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔ ورنہ ایک غریب انسان بیماری کے بعد اسپتالوں کی کمزوریوں کے ہاتھوں مزید بے بس ہوتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
٭٭٭


