
بلال بشیر بٹ
ڈاکٹر عزیز حاجنی کا نام وادیٔ کشمیر کی علمی ، ادبی اور سماجی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے ہمہ جہت ادیب، محقق اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو کشمیری زبان کی ترقی و ترویج اور فکر و فن کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا ۔ جدید ادبی رجحانات کو مقامی تہذیبی تناظر میں پروان چڑھانے اور کشمیری زبان و ادب کو نئی جہت عطا کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ بطور نقاد انہوں نے ادب کو معیاری سمت دی اور بطور تخلیق کار ان کی تحریروں اور شاعری نے دلوں کو چھولیا ہے۔ ان کی شخصیت میں علمی وقار، سلیقۂ گفتگو اور تہذیبی شائستگی یکجا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف کشمیری ادب بلکہ برصغیر کے علمی حلقوں میں بھی ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بنیادی طور ڈاکٹر عزیز حاجنی کشمیری زبان و ادب کے استاد تھے اور خدا داد قابلیت کی بنیاد پر انہوں نے کشمیر یونیورسٹی میں کشمیری زبان و ادب سے وابستہ طالبعلموں کو نئی ادبی جہت سے روشناس کرایا ۔. وہ کلچرل اکیڈمی کے سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے اور اس دوران انہوں نے کشمیری زبان و ادب ،فن اور موسیقی کی ترویج کے لئے بے مثال اقدامات کئے۔ ان کی تحریروں میں جہاں فکری گہرائی اور علمی وقار جھلکتا ہے وہیں مقامی تہذیب و ثقافت کے تئیں گہرا احساس بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی علمی ، ادبی اور سماجی حلقوں میں ان کا ذکر عقیدت، احترام اور فخر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
کل ٹیگور ہال سرینگر میں انہی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ان کی چوتھی برسی کے موقعے پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں نامور ادیبوں، شاعروں، دانشوروں کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی اور ڈاکٹر حاجنی کی علمی و ادبی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب میں مقررین نے عزیز حاجنی کی ادبی، لسانی، ثقافتی اور سماجی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج پیش کیا۔ تقریب میں جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف سے آئے ہوے ادیبوں، قلمکاروں، دانشوروں، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ سماج سے مختلف طبقوں سے رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
رمیض احمد کے تلاوت کلام پاک کے بعد ساگر سرفراز کی نعت سے تقریب کا آغاز ہوا۔
تقریب کی پہلی نشست کی صدارت معروف قلمکار اور دانشور پروفیسر شاد رمضان نے کی جبکہ معروف معالج ڈاکٹر محمد سلطان کھورو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ایوان میں ان کے ہمراہ ایم ایل اے بیروہ ڈاکٹر محمد شفیع ، پروفسیر نسیم شفائی، منشور بانہالی اور ادبی مرکز کمراز کے سرپرست ڈاکٹر رفیق مسعودی بھی موجود رہے۔ شاکر شفیع نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوے عزیز حاجنی کی ہمہ جہت شخصیت کے اہم پہلووں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے حاجن کی صدیوں پرانی ادبی روایت کا ذکر کرتے ہوے اپنے تمام اسلاف کو خراج پیش کیا۔ اس نشست میں پروفیسر شفقت الطاف اور ڈاکٹر شاہدہ شبنم نے عزیز حاجنی کی ادبی خدمات پر پُر مغز مقالے پیش کئے۔ اپنے کلمات میں مہمانان نے حاجنی صاحب کو شاندار خراج پیش کیا۔ ڈاکٹر کھورو نے عزیز حاجنی کی Legacy کو آگے لے جانے کے لئے حلقہ ادب سوناواری اور اظہر حاجنی کو مبارکباد پیش کیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفسیر شاد رمضان نے عزیز کی شاعری کو ایک حساس اور نباض شاعر کے جذبات گردانتے ہوئے انہیں ایک بڑا شاعر قرار دیا۔ اس نشست میں ڈایریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے پروفسیر محی الدین حاجنی میموریل مضمون نویسی کے مقابلے میں امتیاز حاصل کرنے والے طلاب میں اسناد و انعامات تقسیم کیں۔ ان کے ساتھ ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر بانڈی پورہ ڈاکٹر جی ایم پجو اور شیخ غلام محمد بھی موجود رہے۔ اس نشست میں اظہر حاجنی، اور نیشنل کانفرنس کے پروونشل صدر شوکت احمد میر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس نشست کی نظامت کے فرایض ڈاکٹر ریاض الحسن نے انجام دئے۔
تقریب کی دوسری نشست کی صدارت برصغیر کے معروف ایب اور قلمکار پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کی جبکہ ڈپٹی کمشنر کولگام اطہر عامر خان اس نشست کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کے ہمراہ نشست میں وسیم راجہ جواینٹ ڈیکریکٹر محمکہ سیاحت، رخسانہ جبین اور الحاج غلام نبی ڈار بھی موجود رہے۔ اس نشست میں مزمل حسن کو سال 2024 میں سینٹرل یونیورسٹی میں ایم اے کشمیری میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے عزیز حاجنی گولڈ میڈل عطا کیا گیا۔ اس کے بعد مسرت النساء کو کشمیری موسیقی اور گلوکاری میں ایک نئی آواز کا اضافہ کرنے کے لئے سند تحسین سے نوازا گیا۔ شاکر شفیع کو حال ہی میں بہترین استاد کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے سندِ سے نوازا گیا۔ اس سال کا خلعتِ عزیز حاجنی آکاش علی محمد میر کو صوفی شاعری کے میدان میں گراں قدر خدمات کے لئے عطا کیا گیا۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں حاجنی صاحب کو شاندار خراج پیش کیا۔ اپنے خطبے میں اطہر عامر خان نے حاجنی صاحب کو وفات کے بعد بھی کشمیری زبان و ثقافت کا محافظ قرار دیا۔ اس موقعہ پر اپنے صدارتی خطبے پروفیسر آزردہ نے کہا کہ حاجنی صاحب وفات کے بعد بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے حاجن کی ادبی روایات کو شاندار الفاظ میں یاد کیا۔ اس نشست کی نظامت معراج بن سیف نے انجام دی۔
اس کے بعد وحید جیلانی نے اپنی پُر سوز آواز میں کلام عزیز حاجنی سے سامعین کومحظوظ کیا۔
تقریب کے آخر پر ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت پروفسیر شیخ محمد اعجاز نے کی جبکہ ڈاکٹر عارف جان ڈپٹی ڈایکریٹر جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن، پروفیسر منظور احمد، شبنم تلگامی ، جی این شاکر اور گلزار نازکی شامل رہے۔ اس نشست میں حاجنی صاحب کی زندگی کے تمام اہم پہلووں پر بحث ہوئی۔ اس نشست کی نظامت ڈاکٹر عادل محی الدین نے انجام دی۔
مختلف نشستوں کے دوران ساگر نذیر، عابد اشرف، تنویر مقبول، ساگر سرفراز اور شمہ مژ نے اپنا کلام سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔
تقریب کے آخر پر مجید مجازی نے تحریک شکرانہ پیش کیا ۔
٭٭٭٭


