جموں قومی شاہراہ کی بار بار بندش نے ایک بار پھر کشمیر کی میوہ صنعت کو بحران میں ڈال دیا ہے۔ عین سیب کے سیزن پر جب ہر دن تازہ پیداوار اور منڈی کے نرخوں کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، شاہراہ پر پھنسے ٹرک باغبانوں کے لیے بھاری نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ وہ باغبان جو پہلے ہی بڑھتی لاگت، غیر یقینی موسم اور کم ہوتے منافع سے پریشان ہیں، اب اس مصیبت کو بھی سہنے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بروقت اس تشویش کو اُجاگر کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ عارضی نہیں بلکہ مستقل حل تلاش کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وادی کی معیشت ایک ایسی واحد شاہراہ کی یرغمال بن کر رہ گئی ہے جو اکثر مٹی کے تودے، برفباری اور ناقص ٹریفک انتظامات کے باعث بند ہو جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ متبادل راستوں اور ذرائع کو سنجیدگی سے اختیار کیا جائے۔ ریلوےمیوہ جات کے سیزن میں بطور خصوصی کارگو کوریڈور استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگر ٹھنڈے اسٹوریج والے ڈبے اور قابلِ ترجیح شیڈول متعارف کرائے جائیں تو یہ باغبانوں کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوگا۔ اسی طرح ہوائی کارگو سبسڈی، جس کا اکثر وعدہ تو کیا گیا مگر کبھی مؤثر انداز میں نافذ نہ ہوسکا، ایک کارآمد متبادل فراہم کر سکتی ہے۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ کشمیر کی میوہ صنعت کوئی چھوٹا موٹا کاروبار نہیں بلکہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو ساڑھے تین ملین سے زیادہ لوگوں کا سہارا ہے۔ جب اس کی پیداوار شاہراہ پر سڑتی ہے تو صرف میوہ ہی ضائع نہیں ہوتا بلکہ حکمرانی، ڈھانچے اور معاشی استحکام پر اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
اب وقت ہے کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ اس معاملے کو اولین ترجیح دے۔ شاہراہ فطرت کے رحم و کرم پر ہو سکتی ہے، لیکن پالیسی کی مفلوجی باغبانوں کی محنت کو ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اگر حکومت واقعی وادی کے لوگوں کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو کم از کم یہ یقینی بنائے کہ سیب وقت پر منڈی تک پہنچ سکیں۔ یہ ایک چھوٹا مگر طاقتور قدم ہوگا۔
قومی شاہراہ کی بار بار بندش
قومی شاہراہ کی بار بار بندش
جموں قومی شاہراہ کی بار بار بندش نے ایک بار پھر کشمیر کی میوہ صنعت کو بحران میں ڈال دیا ہے۔ عین سیب کے سیزن پر جب ہر دن تازہ پیداوار اور منڈی کے نرخوں کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، شاہراہ پر پھنسے ٹرک باغبانوں کے لیے بھاری نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ وہ باغبان جو پہلے ہی بڑھتی لاگت، غیر یقینی موسم اور کم ہوتے منافع سے پریشان ہیں، اب اس مصیبت کو بھی سہنے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بروقت اس تشویش کو اُجاگر کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ عارضی نہیں بلکہ مستقل حل تلاش کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وادی کی معیشت ایک ایسی واحد شاہراہ کی یرغمال بن کر رہ گئی ہے جو اکثر مٹی کے تودے، برفباری اور ناقص ٹریفک انتظامات کے باعث بند ہو جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ متبادل راستوں اور ذرائع کو سنجیدگی سے اختیار کیا جائے۔ ریلوےمیوہ جات کے سیزن میں بطور خصوصی کارگو کوریڈور استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگر ٹھنڈے اسٹوریج والے ڈبے اور قابلِ ترجیح شیڈول متعارف کرائے جائیں تو یہ باغبانوں کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوگا۔ اسی طرح ہوائی کارگو سبسڈی، جس کا اکثر وعدہ تو کیا گیا مگر کبھی مؤثر انداز میں نافذ نہ ہوسکا، ایک کارآمد متبادل فراہم کر سکتی ہے۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ کشمیر کی میوہ صنعت کوئی چھوٹا موٹا کاروبار نہیں بلکہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو ساڑھے تین ملین سے زیادہ لوگوں کا سہارا ہے۔ جب اس کی پیداوار شاہراہ پر سڑتی ہے تو صرف میوہ ہی ضائع نہیں ہوتا بلکہ حکمرانی، ڈھانچے اور معاشی استحکام پر اعتماد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
اب وقت ہے کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ اس معاملے کو اولین ترجیح دے۔ شاہراہ فطرت کے رحم و کرم پر ہو سکتی ہے، لیکن پالیسی کی مفلوجی باغبانوں کی محنت کو ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اگر حکومت واقعی وادی کے لوگوں کا اعتماد جیتنا چاہتی ہے تو کم از کم یہ یقینی بنائے کہ سیب وقت پر منڈی تک پہنچ سکیں۔ یہ ایک چھوٹا مگر طاقتور قدم ہوگا۔


