کسی بھی جمہوری ایوان میں شائستگی، سنجیدگی اور اخلاقیات کا پاس رکھنا ہر رکنِ اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ افسوس ناک امر ہے کہ حال ہی میںواحد عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی نے غیر شائستہ اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔ ایسے رویے کی کسی بھی سطح پر تائید نہیں کی جا سکتی۔ عوامی نمائندوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایوان، جو عوامی اعتماد کی علامت ہے کو ذاتی انا اور زبان درازی کا میدان بنا دیں۔ اس طرزِ عمل کی سخت مذمت ضروری ہے تاکہ آنے والے وقت میں دیگر اراکین اس سے سبق حاصل کریں اور پارلیمانی اقدار کا وقار بحال رکھیں۔
تاہم اس واقعے کے پس منظر میں جو اقدام سب سے زیادہ تشویش پیدا کرتا ہے، وہ ہے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت متعلقہ رکن اسمبلی کی گرفتاری۔ یہ اقدام نہ صرف غیر متوازن لگتا ہے بلکہ جمہوری اقدار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ پی ایس اے جیسا سخت قانون عام طور پر قومی سلامتی یا امن عامہ کے شدید خطرات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ ہونے والی بدزبانی سے نمٹنے کے لیے۔
جمہوریت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اختلاف رائے اور ناپسندیدہ رویے کے باوجود اظہار کی آزادی اور قانونی عمل کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے۔ کسی رکن اسمبلی کے غیر شائستہ کلمات یقیناً ایوان کی توہین ہیں، مگر اس کا جواب جمہوری طریقۂ کار کے اندر رہ کر ہی دیا جانا چاہیے۔ ایوان کے ضابطے اور اسمبلی کے قواعد و ضوابط ایسے معاملات میں کارروائی کے لیے کافی ہیں۔ اس کے برعکس سخت گیر قوانین کا سہارا لینا جمہوری برداشت اور وسیع النظری کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ جمہوریت میں اصل طاقت دلیل، ضابطہ اور اخلاقی بالادستی کی ہوتی ہے، نہ کہ غیر متناسب قانونی ہتھکنڈوں کی۔ پی ایس اے کے تحت گرفتاری نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتی ہے بلکہ اس سے عوام میں یہ تاثر بھی جائے گا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے جمہوری نظام کے اندر سخت قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر شائستہ زبان استعمال کرنے والے رکن اسمبلی کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو مجروح کیے بغیر۔ جمہوری نظام میں برداشت، تنقید اور قانون کی عملداری ہی اصل طاقت ہے۔ ان اصولوں کو پامال کرنا خود جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔


