جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/ کشتواڑ ضلع میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوگئے، جبکہ 200 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ سانحہ کشتواڑ کے چسوٹی علاقے میں دوپہر کے وقت پیش آیا۔
ایک سرکاری اہلکار نے بتایا، ’’ریسکیو آپریشن فوراً شروع کر دیا گیا اور امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو کیونکہ کئی لوگ ابھی بے گھر اور لاپتہ ہیں۔ بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔‘‘
بادل پھٹنے کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے کشتواڑ کے چسوٹی علاقے کو لپیٹ میں لے لیا، جو سالانہ ماچھیل ماتا یاترا کے راستے کا ایک اہم مقام ہے۔ یہ یاترا 25 جولائی سے شروع ہوئی تھی اور 5 ستمبر تک جاری رہنی ہے، جس میں ہر سال ہزاروں عقیدت مند ماچھیل کے دور افتادہ پڈر وادی میں واقع چنڈی ماتا مندر کا رخ کرتے ہیں۔
’’اب تک 50 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، تقریباً 120 افراد زخمی ہیں اور قریب 200 اب بھی لاپتہ ہیں۔ سڑکوں کو شدید نقصان کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو دشواری کا سامنا ہے، لیکن آپریشن دن رات جاری ہے،‘‘ اہلکار نے بتایا اور مزید کہا کہ کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد، گاڑیاں اور رہائشی ڈھانچے تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق آفت نے 10 مکانات، چار مندر، چار سرکاری دفاتر اور ایک پل کو بہا دیا جو یاتریوں سے بھرا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’’سول انتظامیہ، پولیس، فوج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) مشترکہ ریسکیو کارروائیاں کر رہے ہیں، جن کا فوکس لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے۔‘‘
مزید کہا گیا کہ ’’متاثرہ علاقے تک رسائی کی بحالی اور اضافی طبی ٹیمیں و ضروری سامان پہنچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔‘‘
اس دوران، حکام نے بتایا کہ فوج کی 16ویں کور کے جوان ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں جبکہ فضائیہ کو بھی ایمرجنسی انخلا کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔
ڈوڈہ-کشتواڑ-رام بن رینج کے ڈی آئی جی شری دھر پاٹل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور اگر کوئی رشتہ دار یا اہل خانہ کا فرد لاپتہ ہو تو ہیلپ لائن نمبرز پر اطلاع دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انہیں بحفاظت واپس لایا جائے گا۔
صدر، وزیرِاعظم اور دیگر رہنماؤں کا کشتواڑ بادل پھٹنے کے واقعے پر اظہار افسوس
سری نگر/صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے جانی نقصان کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور امدادی کاموں کی کامیابی کی دعا کی۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیرِاعلیٰ سے بات کر کے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی جبکہ وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن پوری رفتار سے جاری ہے، فضائیہ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
عمر عبداللہ نے ٹیوٹ کیا
’’ایٹ ہوم‘‘ چائے کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔ یومِ آزادی کی تقریبات میں ثقافتی پروگرام منعقد نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم رسمی تقریبات جیسے تقریر، مارچ پاسٹ وغیرہ حسبِ منصوبہ جاری رہیں گی۔


