کشمیر میں وفاداریوں کی تبدلی

جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جس انداز میں سیاسی وفاداریاں بدلی گئیں، وہ ایک افسوسناک مگر عبرت انگیز منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کے تحت پارٹیوں کو خیرباد کہہ کر نئے سیاسی خیموں میں جا بیٹھنے والے کئی چہرے آج اپنی پرانی پناہ گاہوں کی طرف "فخر سے” لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے زوال کی علامت ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ کھلا مذاق بھی۔
آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد جس طرح کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنی پرانی پارٹیوں کو چھوڑ کر نئی پارٹیوں کا رخ کیا، خصوصاً سید الطاف بخاری کی "اپنی پارٹی” یا غلام نبی آزاد کی قیادت میں تشکیل پانے والے نئے سیاسی دھڑوں کی طرف، وہ دراصل اس غیر یقینی دور میں اقتدار کی چھتری تلے پناہ لینے کی کوشش تھی۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ پالیسیاں وقتی فائدے کی ہوس کے سوا کچھ نہیں تھیں۔
پچھلے سال کے انتخابات نے کئی ایسے رہنماؤں کو آئینہ دکھا دیا، جنہوں نے عوامی حمایت کو اپنے قدموں کی خاک سمجھا تھا۔ جو کل تک نئی پارٹیوں کی قیادت کے گُن گاتے نہ تھکتے تھے، آج ایک بار پھر اپنے پرانے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی واپسی پر ان پارٹیوں کے صدور اور قائدین انہیں نہ صرف خوش آمدید کہہ رہے ہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اتحاد کا نام دے کر ان کی واپسی کو "سیاسی بصیرت” کا نام دے رہے ہیں۔
یہ منظرنامہ عوام کے لیے بے حد مایوس کن ہے۔ عام ووٹر جس نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ان سیاست دانوں پر اعتماد کیا تھا، وہ آج خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کرتا ہے۔ سیاست اصولوں، عزم اور نظریے پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی مفاد اور اقتدار کی لالچ پر۔ جو رہنما کل اپنے نظریے کو چھوڑ کر گئے، آج جب واپس آتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ان کی واپسی سچائی کی تلاش ہے یا صرف سیاسی فائدہ؟
مزید ستم یہ کہ پارٹی صدور کی جانب سے ایسے افراد کو "کھلے بازوؤں” سے خوش آمدید کہا جانا سیاسی مزاحیہ ڈرامہ محسوس ہوتا ہے۔ سیاسی مفاہمت کے نام پر موقع پرستی کو اپنانا اور نظریاتی اساس کو پسِ پشت ڈال دینا صرف سیاسی پارٹیوں کی ساکھ کو کمزور نہیں کرتا بلکہ جمہوری اقدار کو بھی داغدار کرتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں سنجیدہ، بااصول اور باکردار قیادت ابھرے، جو وقتی مفادات سے بالاتر ہوکر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دے۔ بصورت دیگر، سیاسی وفاداریاں بدلنے کا یہ تماشا جاری رہے گا، اور جمہوریت ایک تماش بین ہجوم میں تبدیل ہوتی جائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

کشمیر میں وفاداریوں کی تبدلی

جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جس انداز میں سیاسی وفاداریاں بدلی گئیں، وہ ایک افسوسناک مگر عبرت انگیز منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کے تحت پارٹیوں کو خیرباد کہہ کر نئے سیاسی خیموں میں جا بیٹھنے والے کئی چہرے آج اپنی پرانی پناہ گاہوں کی طرف "فخر سے” لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے زوال کی علامت ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ کھلا مذاق بھی۔
آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد جس طرح کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنی پرانی پارٹیوں کو چھوڑ کر نئی پارٹیوں کا رخ کیا، خصوصاً سید الطاف بخاری کی "اپنی پارٹی” یا غلام نبی آزاد کی قیادت میں تشکیل پانے والے نئے سیاسی دھڑوں کی طرف، وہ دراصل اس غیر یقینی دور میں اقتدار کی چھتری تلے پناہ لینے کی کوشش تھی۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ پالیسیاں وقتی فائدے کی ہوس کے سوا کچھ نہیں تھیں۔
پچھلے سال کے انتخابات نے کئی ایسے رہنماؤں کو آئینہ دکھا دیا، جنہوں نے عوامی حمایت کو اپنے قدموں کی خاک سمجھا تھا۔ جو کل تک نئی پارٹیوں کی قیادت کے گُن گاتے نہ تھکتے تھے، آج ایک بار پھر اپنے پرانے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی واپسی پر ان پارٹیوں کے صدور اور قائدین انہیں نہ صرف خوش آمدید کہہ رہے ہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اتحاد کا نام دے کر ان کی واپسی کو "سیاسی بصیرت” کا نام دے رہے ہیں۔
یہ منظرنامہ عوام کے لیے بے حد مایوس کن ہے۔ عام ووٹر جس نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ان سیاست دانوں پر اعتماد کیا تھا، وہ آج خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کرتا ہے۔ سیاست اصولوں، عزم اور نظریے پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی مفاد اور اقتدار کی لالچ پر۔ جو رہنما کل اپنے نظریے کو چھوڑ کر گئے، آج جب واپس آتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ان کی واپسی سچائی کی تلاش ہے یا صرف سیاسی فائدہ؟
مزید ستم یہ کہ پارٹی صدور کی جانب سے ایسے افراد کو "کھلے بازوؤں” سے خوش آمدید کہا جانا سیاسی مزاحیہ ڈرامہ محسوس ہوتا ہے۔ سیاسی مفاہمت کے نام پر موقع پرستی کو اپنانا اور نظریاتی اساس کو پسِ پشت ڈال دینا صرف سیاسی پارٹیوں کی ساکھ کو کمزور نہیں کرتا بلکہ جمہوری اقدار کو بھی داغدار کرتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں سنجیدہ، بااصول اور باکردار قیادت ابھرے، جو وقتی مفادات سے بالاتر ہوکر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دے۔ بصورت دیگر، سیاسی وفاداریاں بدلنے کا یہ تماشا جاری رہے گا، اور جمہوریت ایک تماش بین ہجوم میں تبدیل ہوتی جائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں