شبھانشو شکلا: نوجوانوں کانیا رول ماڈل

جب قومیں خواب دیکھتی ہیں تو وہ صرف موجودہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرتیں بلکہ مستقبل کو تشکیل دینے کے لیے راستے بھی نکالتی ہیں۔ حال ہی میں شبھانشو شکلا نے ایک ایسا ہی خواب شرمندۂ تعبیر کیا ہے۔ وہ نہ صرف چالیس برس بعد خلا میں پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے، بلکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) تک پہنچنے والے پہلے ہندوستانی فضانورد بھی قرار پائے۔ ان کی کامیابی صرف سائنسی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور قومی ہے۔
آج کا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کی چمک دمک، وائرل ہونے کی دوڑ، اور انجینئر یا ڈاکٹر بننے کی روایتی "ریس” میں الجھ کر اپنے اصل امکانات کو کھو رہا ہے۔ کیا ہر ذہین بچہ صرفNEET یا JEE کے گرد ہی زندگی کو محدود رکھے؟ کیا صرف میڈیکل یا انجینئرنگ ہی وہ راستے ہیں جو عظمت کی ضمانت دیتے ہیں؟ شبھانشو شکلا نے ان تمام دقیانوسی نظریات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ دکھا دیا کہ اصل کامیابی اُس راستے سے حاصل ہوتی ہے جس میں خواب، لگن، اور مقصد کا شعور ہو۔
ان کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اگر منزل واضح ہو، مطالعہ گہرا ہو، اور قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہو، تو کوئی بھی نوجوان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ سکتا ہے، چاہے اُس کا تعلق کسی بھی شعبے یا پس منظر سے ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین نوجوانوں میں صرف نوکری کی فکر نہ پیدا کریں بلکہ قوم سازی، تحقیق، ایجادات، اور انسانی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھائیں۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے، فضول مواد کا پیچھا کرنے، یا محض رٹے بازی کی دوڑ میں جیتنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر جستجو، تخلیق اور قیادت کا مادہ پیدا کریں۔
شبھانشو شکلا نے یہ ثابت کیا کہ آسمان کی بلندی تک پہنچنے کے لیے نہ صرف راکٹ کی ضرورت ہے بلکہ حوصلے، محنت اور مقصد کی بھی۔ آج کے نوجوان کو چاہیے کہ وہ انہیں صرف ایک ہیرو کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ اُن کی راہ پر چلنے کی نیت بھی کرے۔ سوشل میڈیا پر سحر زدہ ہو کر وقت برباد کرنے کے بجائے، وہ اپنی زندگی کو ویژن اور ایکشن کا امتزاج بنائے۔
کامیاب وہی ہوتے ہیں جو سوال پوچھتے ہیں، جو روایت سے آگے بڑھتے ہیں، جو خوابوں کو منزل بناتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

شبھانشو شکلا: نوجوانوں کانیا رول ماڈل

جب قومیں خواب دیکھتی ہیں تو وہ صرف موجودہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرتیں بلکہ مستقبل کو تشکیل دینے کے لیے راستے بھی نکالتی ہیں۔ حال ہی میں شبھانشو شکلا نے ایک ایسا ہی خواب شرمندۂ تعبیر کیا ہے۔ وہ نہ صرف چالیس برس بعد خلا میں پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے، بلکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) تک پہنچنے والے پہلے ہندوستانی فضانورد بھی قرار پائے۔ ان کی کامیابی صرف سائنسی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور قومی ہے۔
آج کا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کی چمک دمک، وائرل ہونے کی دوڑ، اور انجینئر یا ڈاکٹر بننے کی روایتی "ریس” میں الجھ کر اپنے اصل امکانات کو کھو رہا ہے۔ کیا ہر ذہین بچہ صرفNEET یا JEE کے گرد ہی زندگی کو محدود رکھے؟ کیا صرف میڈیکل یا انجینئرنگ ہی وہ راستے ہیں جو عظمت کی ضمانت دیتے ہیں؟ شبھانشو شکلا نے ان تمام دقیانوسی نظریات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ دکھا دیا کہ اصل کامیابی اُس راستے سے حاصل ہوتی ہے جس میں خواب، لگن، اور مقصد کا شعور ہو۔
ان کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اگر منزل واضح ہو، مطالعہ گہرا ہو، اور قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہو، تو کوئی بھی نوجوان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ سکتا ہے، چاہے اُس کا تعلق کسی بھی شعبے یا پس منظر سے ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین نوجوانوں میں صرف نوکری کی فکر نہ پیدا کریں بلکہ قوم سازی، تحقیق، ایجادات، اور انسانی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھائیں۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے، فضول مواد کا پیچھا کرنے، یا محض رٹے بازی کی دوڑ میں جیتنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر جستجو، تخلیق اور قیادت کا مادہ پیدا کریں۔
شبھانشو شکلا نے یہ ثابت کیا کہ آسمان کی بلندی تک پہنچنے کے لیے نہ صرف راکٹ کی ضرورت ہے بلکہ حوصلے، محنت اور مقصد کی بھی۔ آج کے نوجوان کو چاہیے کہ وہ انہیں صرف ایک ہیرو کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ اُن کی راہ پر چلنے کی نیت بھی کرے۔ سوشل میڈیا پر سحر زدہ ہو کر وقت برباد کرنے کے بجائے، وہ اپنی زندگی کو ویژن اور ایکشن کا امتزاج بنائے۔
کامیاب وہی ہوتے ہیں جو سوال پوچھتے ہیں، جو روایت سے آگے بڑھتے ہیں، جو خوابوں کو منزل بناتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں