عید پر ٹریفک کا بے جا سیلاب

سنیچروار کو عید کے موقع پر کشمیر کی فضا میں خوشی، مسرت اور میل جول کا رنگ نظر آیا ہے۔ خاندانوں کے ملاپ، دوستوں کی محفلیں، اور بازاروں کی رونقیں ہر طرف عید کی خوشبو پھیلا دیتی ہیں۔ لیکن اس سال بھی عید کے موقع پر وہی پرانا منظرنامہ دیکھنے کو ملا: سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب، غلط پارکنگ، اور شہری ذمہ داری کا مکمل فقدان۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ہم نے بحیثیت قوم اپنا شہری شعور کھو دیا ہے؟
عید کے دن سڑکوں پر جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ افسوسناک تھے۔ بڑی بڑی سڑکیں گاڑیوں سے اٹی ہوئی تھیں، فٹ پاتھوں پر، چوراہوں پر، دروازوں کے سامنے اور ‘نو پارکنگ’ مقامات پر گاڑیاں بے ہنگم کھڑی کی گئیں۔ تنگ گلیاں بھی بند ہوگئیں۔ ذرا سا سفر کرنے کے لیے بھی لوگ گھنٹوں پھنستے رہے، تلخ کلامی ہوئی، ہارن بجتے رہے، اور نظم و ضبط کا جنازہ نکل گیا۔
یہ سب کچھ کیوں؟ کیا عید کے موقع پر ہمارا فرض نہیں کہ ہم بہترین شہری رویہ اپنائیں؟ مگر ہم عید کو شہری شعور بھول جانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان دنوں چار پہیوں والی ذاتی گاڑیوں کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ انہی دنوں ٹریفک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہم کار پولنگ، پبلک ٹرانسپورٹ یا دو پہیوں والی گاڑیوں کے استعمال کو ترجیح کیوں نہیں دیتے، جن سے بھیڑ کم کی جا سکتی ہے؟
اگرچہ دو پہیہ گاڑیاں ہر مسئلے کا حل نہیں ہیں، لیکن یہ ایک حد تک سہولت ضرور فراہم کرتی ہیں۔ ان کی پارکنگ آسان ہوتی ہے، تنگ سڑکوں سے گزر سکتی ہیں، اور غلط پارکنگ کی وجہ سے پورے راستے بلاک بھی نہیں ہوتیں۔ تھوڑی سی منصوبہ بندی—دو پہیہ گاڑیوں کے استعمال، مشترکہ سواری، یا پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے ٹریفک کا بوجھ بہت کم ہو سکتا ہے۔
یہ صرف گاڑیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا بھی ہے۔ شہری شعور کا مطلب ہے دوسروں کے وقت اور جگہ کا اتنا ہی خیال رکھنا جتنا اپنا۔ راستے روکنے سے پہلے دو بار سوچیں، فٹ پاتھ پر پارکنگ سے گریز کریں، اور یہ بات سمجھیں کہ یہ سڑکیں سب کی ہیں۔ عید منانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شائستگی اور اخلاقیات کو بھول جائیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم عید جیسے تہواروں پر نہ صرف اپنی ثقافت اور مہمان نوازی کا خوبصورت چہرہ دکھائیں بلکہ شہری شعور، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی ثبوت دیں۔ اگر ہم واقعی کشمیر کو ایک مہذب اور مہمان نواز معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی سڑکوں پر نظم و ضبط، پارکنگ میں ذمہ داری، اور شہری شعور کو زندہ کرنا ہوگا۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

عید پر ٹریفک کا بے جا سیلاب

سنیچروار کو عید کے موقع پر کشمیر کی فضا میں خوشی، مسرت اور میل جول کا رنگ نظر آیا ہے۔ خاندانوں کے ملاپ، دوستوں کی محفلیں، اور بازاروں کی رونقیں ہر طرف عید کی خوشبو پھیلا دیتی ہیں۔ لیکن اس سال بھی عید کے موقع پر وہی پرانا منظرنامہ دیکھنے کو ملا: سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب، غلط پارکنگ، اور شہری ذمہ داری کا مکمل فقدان۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ہم نے بحیثیت قوم اپنا شہری شعور کھو دیا ہے؟
عید کے دن سڑکوں پر جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ افسوسناک تھے۔ بڑی بڑی سڑکیں گاڑیوں سے اٹی ہوئی تھیں، فٹ پاتھوں پر، چوراہوں پر، دروازوں کے سامنے اور ‘نو پارکنگ’ مقامات پر گاڑیاں بے ہنگم کھڑی کی گئیں۔ تنگ گلیاں بھی بند ہوگئیں۔ ذرا سا سفر کرنے کے لیے بھی لوگ گھنٹوں پھنستے رہے، تلخ کلامی ہوئی، ہارن بجتے رہے، اور نظم و ضبط کا جنازہ نکل گیا۔
یہ سب کچھ کیوں؟ کیا عید کے موقع پر ہمارا فرض نہیں کہ ہم بہترین شہری رویہ اپنائیں؟ مگر ہم عید کو شہری شعور بھول جانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان دنوں چار پہیوں والی ذاتی گاڑیوں کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ انہی دنوں ٹریفک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہم کار پولنگ، پبلک ٹرانسپورٹ یا دو پہیوں والی گاڑیوں کے استعمال کو ترجیح کیوں نہیں دیتے، جن سے بھیڑ کم کی جا سکتی ہے؟
اگرچہ دو پہیہ گاڑیاں ہر مسئلے کا حل نہیں ہیں، لیکن یہ ایک حد تک سہولت ضرور فراہم کرتی ہیں۔ ان کی پارکنگ آسان ہوتی ہے، تنگ سڑکوں سے گزر سکتی ہیں، اور غلط پارکنگ کی وجہ سے پورے راستے بلاک بھی نہیں ہوتیں۔ تھوڑی سی منصوبہ بندی—دو پہیہ گاڑیوں کے استعمال، مشترکہ سواری، یا پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے ٹریفک کا بوجھ بہت کم ہو سکتا ہے۔
یہ صرف گاڑیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا بھی ہے۔ شہری شعور کا مطلب ہے دوسروں کے وقت اور جگہ کا اتنا ہی خیال رکھنا جتنا اپنا۔ راستے روکنے سے پہلے دو بار سوچیں، فٹ پاتھ پر پارکنگ سے گریز کریں، اور یہ بات سمجھیں کہ یہ سڑکیں سب کی ہیں۔ عید منانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شائستگی اور اخلاقیات کو بھول جائیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم عید جیسے تہواروں پر نہ صرف اپنی ثقافت اور مہمان نوازی کا خوبصورت چہرہ دکھائیں بلکہ شہری شعور، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی ثبوت دیں۔ اگر ہم واقعی کشمیر کو ایک مہذب اور مہمان نواز معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی سڑکوں پر نظم و ضبط، پارکنگ میں ذمہ داری، اور شہری شعور کو زندہ کرنا ہوگا۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں