عید کا مبارک موقع قریب آتے ہی ہمیں ان رسومات اور عادات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے جو اس مقدس تہوار کا حصہ بن چکی ہیں۔ عید خوشی، شکرگزاری، اور روحانی سکون کا پیغام لے کر آتی ہے۔ یہ دن عبادت، خاندانی میل جول اور انسان دوستی کے کاموں سے عبارت ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں عید کی تقریبات میں پٹاخوں کا استعمال ایک ناپسندیدہ طریقے سے شامل ہو گیا ہے، حالانکہ اس کا اسلام کی مذہبی یا ثقافتی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ پٹاخے نہ تو اسلامی روایات کا حصہ رہے ہیں اور نہ ہی اسلامی معاشرت میں ان کی کوئی جڑ ہے۔ ان کا تعلق عموماً دوسری ثقافتوں کے تہواروں سے رہا ہے۔
اسلام ہمیں عید کو عبادت، خیرات اور بھائی چارے سے منانے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ شور شرابے اور آتش بازی کے مظاہروں سے۔ افسوس کہ آج کل عید پر پٹاخے پھوڑنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پٹاخے ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ان سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں نہ صرف فضا کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ بچوں اور بزرگوں میں سانس کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ ان کی تیز آوازیں شیر خوار بچوں، جانوروں اور بیمار افراد کے لیے بھی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ اس دور میں جب پوری دنیا ماحولیاتی تحفظ کی جانب متوجہ ہے، مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تقریبات کو ماحول دوست بنائیں۔
عید کا اصل مقصد اتحاد، سخاوت اور روحانی بالیدگی ہے۔ عید کو حقیقی معنوں میں منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم عبادت میں مصروف ہوں، مستحقین کی مدد کریں، عزیز و اقارب سے ملیں اور خوشیاں معنی خیز انداز میں بانٹیں۔پٹاخوں پر خرچ ہونے والی رقم کو غربا و مساکین کی مدد، کمیونٹی ویلفیئر کے منصوبوں یا کسی بھی فلاحی کام پر خرچ کر کے زیادہ بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عید کے اصل پیغام کو اپناتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی خوشیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
جس طرح اسلام فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت کرتا ہے، اسی طرح پٹاخوں کا استعمال بھی غیر ضروری اور خلافِ تعلیمات ہے۔ اس عید پر ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ ہم اسے ذمہ داری کے ساتھ، محفوظ، بامعنی اور روحانی اعتبار سے بلند انداز میں منائیں۔
عید پر پٹاخوں کی غیر مناسب ثقافت
عید پر پٹاخوں کی غیر مناسب ثقافت
عید کا مبارک موقع قریب آتے ہی ہمیں ان رسومات اور عادات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے جو اس مقدس تہوار کا حصہ بن چکی ہیں۔ عید خوشی، شکرگزاری، اور روحانی سکون کا پیغام لے کر آتی ہے۔ یہ دن عبادت، خاندانی میل جول اور انسان دوستی کے کاموں سے عبارت ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں عید کی تقریبات میں پٹاخوں کا استعمال ایک ناپسندیدہ طریقے سے شامل ہو گیا ہے، حالانکہ اس کا اسلام کی مذہبی یا ثقافتی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ پٹاخے نہ تو اسلامی روایات کا حصہ رہے ہیں اور نہ ہی اسلامی معاشرت میں ان کی کوئی جڑ ہے۔ ان کا تعلق عموماً دوسری ثقافتوں کے تہواروں سے رہا ہے۔
اسلام ہمیں عید کو عبادت، خیرات اور بھائی چارے سے منانے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ شور شرابے اور آتش بازی کے مظاہروں سے۔ افسوس کہ آج کل عید پر پٹاخے پھوڑنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پٹاخے ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ان سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں نہ صرف فضا کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ بچوں اور بزرگوں میں سانس کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ ان کی تیز آوازیں شیر خوار بچوں، جانوروں اور بیمار افراد کے لیے بھی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ اس دور میں جب پوری دنیا ماحولیاتی تحفظ کی جانب متوجہ ہے، مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تقریبات کو ماحول دوست بنائیں۔
عید کا اصل مقصد اتحاد، سخاوت اور روحانی بالیدگی ہے۔ عید کو حقیقی معنوں میں منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم عبادت میں مصروف ہوں، مستحقین کی مدد کریں، عزیز و اقارب سے ملیں اور خوشیاں معنی خیز انداز میں بانٹیں۔پٹاخوں پر خرچ ہونے والی رقم کو غربا و مساکین کی مدد، کمیونٹی ویلفیئر کے منصوبوں یا کسی بھی فلاحی کام پر خرچ کر کے زیادہ بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عید کے اصل پیغام کو اپناتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی خوشیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
جس طرح اسلام فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت کرتا ہے، اسی طرح پٹاخوں کا استعمال بھی غیر ضروری اور خلافِ تعلیمات ہے۔ اس عید پر ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ ہم اسے ذمہ داری کے ساتھ، محفوظ، بامعنی اور روحانی اعتبار سے بلند انداز میں منائیں۔


