جنگ نیوز ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 326 اگنی ویروںکو آج جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری (JAK LI) ریجیمینٹل سینٹر میں حلف برداری اور پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران بھارتی فوج میں شامل کر لیا گیا۔
یہ پروقار تقریب لیفٹیننٹ جنرل منیش ایری، کرنل آف دی JAK LI ریجیمینٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل ایری نے پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے ان نوجوانوں کی فوجی تربیت اور تبدیلی کو سراہا۔
اس موقع پر فوجی اور سول حکام کے علاوہ اگنی ویرز کے والدین بھی موجود تھے، جنہیں ’گورو پدک‘ سے نوازا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ایری نے نوجوان فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’آپ کا عزم صرف وردی سے نہیں، بلکہ بھارت کے نظریے سے وابستہ ہے۔ آپ جموں و کشمیر کے بہترین بیٹے ہیں اور اب بھارت کی مضبوط ڈھال بن چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے انسٹرکٹرز اور تربیتی عملے کی بھی تعریف کی، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی نظم و ضبط اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا۔
تقریب کا اختتام قومی پرچم کو سلامی اور فضا میں لہراتے ہوئے ہوا، جس نے اس تاریخی لمحے کی اہمیت کو اُجاگر کیا: ’’جموں و کشمیر کے نوجوان روشن مستقبل کو اپنانے کے ساتھ ساتھ قوم کے دفاع کے لیے بھی پیش پیش ہیں۔‘‘
جموں و کشمیر کے 326 اگنی ویر فوج میں شامل
جموں و کشمیر کے 326 اگنی ویر فوج میں شامل
جنگ نیوز ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 326 اگنی ویروںکو آج جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری (JAK LI) ریجیمینٹل سینٹر میں حلف برداری اور پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران بھارتی فوج میں شامل کر لیا گیا۔
یہ پروقار تقریب لیفٹیننٹ جنرل منیش ایری، کرنل آف دی JAK LI ریجیمینٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل ایری نے پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے ان نوجوانوں کی فوجی تربیت اور تبدیلی کو سراہا۔
اس موقع پر فوجی اور سول حکام کے علاوہ اگنی ویرز کے والدین بھی موجود تھے، جنہیں ’گورو پدک‘ سے نوازا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل ایری نے نوجوان فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’آپ کا عزم صرف وردی سے نہیں، بلکہ بھارت کے نظریے سے وابستہ ہے۔ آپ جموں و کشمیر کے بہترین بیٹے ہیں اور اب بھارت کی مضبوط ڈھال بن چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے انسٹرکٹرز اور تربیتی عملے کی بھی تعریف کی، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی نظم و ضبط اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا۔
تقریب کا اختتام قومی پرچم کو سلامی اور فضا میں لہراتے ہوئے ہوا، جس نے اس تاریخی لمحے کی اہمیت کو اُجاگر کیا: ’’جموں و کشمیر کے نوجوان روشن مستقبل کو اپنانے کے ساتھ ساتھ قوم کے دفاع کے لیے بھی پیش پیش ہیں۔‘‘


