دنیا آج ایک اور یومِ ماحولیاتِ منارہی ہے اور اسی مناسبت سے کشمیر کا ذکر کیے بغیر یہ دن ادھورا معلوم ہوتا ہےجہاں خوبصورتی کے پردے میں ماحولیاتی خطرات کا ایک سنجیدہ مسئلہ چھپا ہوا ہے: گلیشیئروں کا تیزی سے پگھلنا۔
حالیہ سائنسی تحقیقات اور مقامی افراد کی مشاہدات یہ بتا رہی ہیں کہ کشمیر سمیت پورے ہمالیائی خطے میں گلیشیئر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ کوہلائی، تھاچیواس، ششیرم جیسے مشہور گلیشیئر اب پہلے کی نسبت بہت کمزور ہو چکے ہیں اور کچھ جگہوں پر یہ کبھی کبھار برف باری کی شکل میں باقی رہ گئے ہیں۔ عالمی حدت، غیر متوازن ترقی، اور جنگلات کی کٹائی اس ماحولیاتی بگاڑ کے بنیادی عوامل ہیں۔ اس صورتحال کا اثر نہ صرف کشمیر کے آبی وسائل پر پڑ رہا ہے بلکہ زراعت اور پن بجلی کے منصوبے بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
یہ مسئلہ محض مقامی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ کشمیر کی ندیاں، جو یہاں کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، انہی گلیشیئروںسے فیضیاب ہوتی ہیں۔ گلیشیئر کے پگھلنے سے پانی کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے اور کسانوں کو اپنی فصلیں اگانے اور کاٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے اس ماحولیاتی بگاڑ سے طوفانی سیلاب، زمینی تودے، اور دیگر آفات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور دیہی آبادی کو ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بحران ایک سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے۔ جب پانی کی قلت شدت اختیار کرتی ہے تو یہ ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جو پہلے ہی حساس خطہ ہے۔ یوں یہ ماحولیاتی مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں بلکہ علاقائی سیاست کا بھی ایک پہلو بن سکتا ہے۔
یومِ ماحولیاتِ عالم کے موقع پر حکومت، ماہرین ماحولیات اور عام لوگوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کا تدارک کریں۔ پائیدار ترقی کے اصولوں کو اپناتے ہوئے شجرکاری کو فروغ دیا جائے، متبادل توانائی کے ذرائع کو ترجیح دی جائے اور حساس علاقوں میں غیر ضروری تعمیرات پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی دانش کو اہمیت دی جائے اور ماحولیاتی حکمتِ عملیوں میں اس سے استفادہ کیا جائے۔
زززز
یومِ ماحولیاتِ اورکشمیر کے گلیشیئروںکا پگھلنا
یومِ ماحولیاتِ اورکشمیر کے گلیشیئروںکا پگھلنا
دنیا آج ایک اور یومِ ماحولیاتِ منارہی ہے اور اسی مناسبت سے کشمیر کا ذکر کیے بغیر یہ دن ادھورا معلوم ہوتا ہےجہاں خوبصورتی کے پردے میں ماحولیاتی خطرات کا ایک سنجیدہ مسئلہ چھپا ہوا ہے: گلیشیئروں کا تیزی سے پگھلنا۔
حالیہ سائنسی تحقیقات اور مقامی افراد کی مشاہدات یہ بتا رہی ہیں کہ کشمیر سمیت پورے ہمالیائی خطے میں گلیشیئر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ کوہلائی، تھاچیواس، ششیرم جیسے مشہور گلیشیئر اب پہلے کی نسبت بہت کمزور ہو چکے ہیں اور کچھ جگہوں پر یہ کبھی کبھار برف باری کی شکل میں باقی رہ گئے ہیں۔ عالمی حدت، غیر متوازن ترقی، اور جنگلات کی کٹائی اس ماحولیاتی بگاڑ کے بنیادی عوامل ہیں۔ اس صورتحال کا اثر نہ صرف کشمیر کے آبی وسائل پر پڑ رہا ہے بلکہ زراعت اور پن بجلی کے منصوبے بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
یہ مسئلہ محض مقامی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ کشمیر کی ندیاں، جو یہاں کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، انہی گلیشیئروںسے فیضیاب ہوتی ہیں۔ گلیشیئر کے پگھلنے سے پانی کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے اور کسانوں کو اپنی فصلیں اگانے اور کاٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے اس ماحولیاتی بگاڑ سے طوفانی سیلاب، زمینی تودے، اور دیگر آفات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور دیہی آبادی کو ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بحران ایک سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے۔ جب پانی کی قلت شدت اختیار کرتی ہے تو یہ ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جو پہلے ہی حساس خطہ ہے۔ یوں یہ ماحولیاتی مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں بلکہ علاقائی سیاست کا بھی ایک پہلو بن سکتا ہے۔
یومِ ماحولیاتِ عالم کے موقع پر حکومت، ماہرین ماحولیات اور عام لوگوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کا تدارک کریں۔ پائیدار ترقی کے اصولوں کو اپناتے ہوئے شجرکاری کو فروغ دیا جائے، متبادل توانائی کے ذرائع کو ترجیح دی جائے اور حساس علاقوں میں غیر ضروری تعمیرات پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی دانش کو اہمیت دی جائے اور ماحولیاتی حکمتِ عملیوں میں اس سے استفادہ کیا جائے۔
زززز


