آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقعہ پر سرینگر میں شیعہ سنی علما کی کانفرنس

جنگ نیوز ڈیسک
ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی، رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ روح اللہ خمینی کی 36ویں برسی کے موقع پر انجمن شرعی شیعیان نے امام بارگاہ آیت اللہ یوسفؒ بمنہ، بڈگام کشمیر میں ایک پروقار تعزیتی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس سے اجتماع میں روحانی ماحول پیدا ہوا۔ علمائے کرام، ذاکرین اور عوام نے شرکت کر کے امام خمینی کی شاندار میراث پر روشنی ڈالی جنہیں بیسویں صدی کے سب سے بااثر اور کرشماتی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور استعماری قوتوں کی مخالفت کے باوجود ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔
انجمن شرعی شیعیان کے صدر، آغا سید محمد ہادی الموسوی نے امام خمینی کی ہمہ جہت شخصیت پر ایک بصیرت افروز خطاب پیش کیا۔ انہوں نے امام خمینی کو مرجع تقلید، فلسفی، شاعر اور عالمی سیاست کے ماہر کے طور پر بیان کیا جن کا دنیا بھر کے حالات و واقعات پر گہرا ادراک تھا۔ انہوں نے کہا: "امام خمینی کا اثر قومی سرحدوں سے نکل کر عالمی سیاست میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنا۔”
کشمیر کے معروف مذہبی رہنما میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے اس عظیم انقلابی رہنما کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی اتحاد و بھائی چارے کی ایک علامت ہیں۔ میرواعظ نے کہا: "امام خمینی کی تعلیمات آج بھی مسلم دنیا میں گونج رہی ہیں اور ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔”
انہوں نے مظلومین کی حمایت میں امام خمینی کے غیر متزلزل موقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا تاکہ فلسطینی عوام سے عالمی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا: "امام خمینی کی استقامت آج بھی ہمیں ہر مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے، اور یوم القدس اسی مزاحمت کی علامت ہے۔”
بمنہ امام بارگاہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا: "کئی برسوں بعد آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ اس عظیم انقلابی رہنما کی یاد کو تازہ کریں۔” انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امام خمینی کے عدل، اتحاد اور روحانی بیداری کے راستے پر عمل پیرا ہوں۔
تقریب کا اختتام امام خمینی کے انقلابی نظریات اور اصولوں پر عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء نے عدل، مزاحمت اور اتحاد کے ان کے پیغام کو زندہ رکھنے کا عہد کیا۔
قابل ذکر ہے کہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں پہلوی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہوا۔ شاہ کے آمرانہ طرز حکمرانی اور مغربی اثر و رسوخ کے خلاف عوامی مزاحمت نے ایران کے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا اور مسلم دنیا میں کئی تحریکوں کو متاثر کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقعہ پر سرینگر میں شیعہ سنی علما کی کانفرنس

جنگ نیوز ڈیسک
ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی، رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ روح اللہ خمینی کی 36ویں برسی کے موقع پر انجمن شرعی شیعیان نے امام بارگاہ آیت اللہ یوسفؒ بمنہ، بڈگام کشمیر میں ایک پروقار تعزیتی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس سے اجتماع میں روحانی ماحول پیدا ہوا۔ علمائے کرام، ذاکرین اور عوام نے شرکت کر کے امام خمینی کی شاندار میراث پر روشنی ڈالی جنہیں بیسویں صدی کے سب سے بااثر اور کرشماتی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور استعماری قوتوں کی مخالفت کے باوجود ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔
انجمن شرعی شیعیان کے صدر، آغا سید محمد ہادی الموسوی نے امام خمینی کی ہمہ جہت شخصیت پر ایک بصیرت افروز خطاب پیش کیا۔ انہوں نے امام خمینی کو مرجع تقلید، فلسفی، شاعر اور عالمی سیاست کے ماہر کے طور پر بیان کیا جن کا دنیا بھر کے حالات و واقعات پر گہرا ادراک تھا۔ انہوں نے کہا: "امام خمینی کا اثر قومی سرحدوں سے نکل کر عالمی سیاست میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنا۔”
کشمیر کے معروف مذہبی رہنما میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے اس عظیم انقلابی رہنما کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی اتحاد و بھائی چارے کی ایک علامت ہیں۔ میرواعظ نے کہا: "امام خمینی کی تعلیمات آج بھی مسلم دنیا میں گونج رہی ہیں اور ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔”
انہوں نے مظلومین کی حمایت میں امام خمینی کے غیر متزلزل موقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا تاکہ فلسطینی عوام سے عالمی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا: "امام خمینی کی استقامت آج بھی ہمیں ہر مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے، اور یوم القدس اسی مزاحمت کی علامت ہے۔”
بمنہ امام بارگاہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا: "کئی برسوں بعد آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ اس عظیم انقلابی رہنما کی یاد کو تازہ کریں۔” انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امام خمینی کے عدل، اتحاد اور روحانی بیداری کے راستے پر عمل پیرا ہوں۔
تقریب کا اختتام امام خمینی کے انقلابی نظریات اور اصولوں پر عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء نے عدل، مزاحمت اور اتحاد کے ان کے پیغام کو زندہ رکھنے کا عہد کیا۔
قابل ذکر ہے کہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں پہلوی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران قائم ہوا۔ شاہ کے آمرانہ طرز حکمرانی اور مغربی اثر و رسوخ کے خلاف عوامی مزاحمت نے ایران کے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا اور مسلم دنیا میں کئی تحریکوں کو متاثر کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں